انصاف نیوز نیٹ ورک
باروئی پور میں نابالغ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کے سنسنی خیز معاملے میں ایک نیا اور بڑا موڑ آگیا۔ کیس کے اہم ملزم پربھاس منڈل کو منگل اور بدھ کی درمیانی رات پولیس نے ایک مبینہ مقابلے (انکاؤنٹر) میں گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی انہوں نے اپنے دفاع میں کی ہے۔ دوسری طرف، ملزم کی اس وحشیانہ حرکت پر خود اس کے خاندان نے اس سے منہ موڑ لیا ہے، اور اس کی ماں اور بیوی دونوں نے اس کی لاش لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔تاہم کئی حلقے سے انکاؤنٹر پر سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں کہ آخر رات کی تنہائی میں ملزم کو واقعے کی شناخت کیلئے لے جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق، منگل کی رات تقریباً12:45بجے، تفتیشی افسران ملزم پربھاس منڈل کو واقعے کی ازسرنو تشکیل کے لیے سوریا پور کے اسی دلدلی اور سنسان علاقے میں لے گئے تھے جہاں سے نابالغ کی لاش ملی تھی۔ اس وقت شدید بارش ہو رہی تھی اور ہر طرف گہرا اندھیرا تھا۔
جب تفتیشی افسران آپس میں بات چیت کر رہے تھے، تو پربھاس نے اچانک اپنے پاس کھڑے کیننگ تھانے کے پی سی انچارج رونی سرکار کی کمر سے سروس ریوالور چھین لیا اور دلدل کا فائدہ اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کی۔ پولیس نے جب اس کا پیچھا کیا تو پربھاس نے پولیس والوں پر ایک راؤنڈ فائر کر دیا۔ خود کو اور اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے باروئی پور تھانے کے پی سی انچارج ارگھیہ منڈل نے جوابی فائرنگ کی، جس میں پربھاس کو دو گولیاں لگیں —ایک سینے کے دائیں جانب اور دوسری کمر کے اوپر۔
زخمی ملزم کو فوری طور پر باروئی پور سب ڈسٹرکٹ ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فائرنگ مکمل طور پر خود دفاع میں کی گئی۔ اس انکاؤنٹر کی اب عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
عام طور پر پولیس انکاؤنٹر کے بعد اہل خانہ احتجاج کرتے ہیں، لیکن یہاں منظر بالکل مختلف ہے۔ پربھاس کی ماں سندھیا منڈل اور بیوی چھپا منڈل نے ملزم کے کردار کی سخت مذمت کی ہے۔بیٹے کی موت کی خبر سن کر صدمے میں ڈوبی ماں سندھیا نے کہاکہ
”اس نے جو بھی کیا، اسے اس کا نتیجہ مل گیا، یہ اچھا ہوا کیونکہ وہ ہماری کوئی بات نہیں سنتا تھا اور نشے کا عادی تھا۔ میں اپنے بیٹے کا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتی اور نہ ہی ہم اس کی لاش گھر لائیں گے۔
دوسری طرف، اپنے مائیکے میں بیٹھی پربھاس کی بیوی چھپا منڈل نے بھی پولیس کی کارروائی کو درست ٹھہراتے ہوئے کہاکہ میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس نے یہ گناہ نہیں کیا۔ شادی کے بعد سے ہی میں نے اس کی بہت سی گندی حرکتیں دیکھیں اور بہت اذیتیں برداشت کیں۔ پولیس نے اپنا فرض نبھایا، اسی لیے اسے گولی لگی۔ لاش لینے کے بارے میں خاندان کے باقی لوگ جو طے کریں گے، وہی ہوگا۔
گزشتہ ہفتے باروئی پور کے سوریا پور علاقے سے ایک نابالغ لڑکی لاپتہ ہو گئی تھی، جس کی بوری میں بند لاش اتوار کو ایک تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔ لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور پھر اس کے قتل کے الزام نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اتوار کو پربھاس کو گرفتار کیا تھا، جس کی نشاندہی پر مزید تین ملزمان—آنند سردار، دیباکر سردار اور کبیر مولا کو حراست میں لیا گیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق پربھاس کی کوئی مستقل ملازمت نہیں تھی، وہ کبھی کبھار وین چلاتا تھا اور شدید نشے کا عادی تھا۔ بدھ کی صبح انکاؤنٹر کے بعد پورے علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور لاش کا مجسٹریل انکوائری کے تحت پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے پر سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے، جہاں بی جے پی نے اسے ‘الٰہی انصاف’ قرار دیا ہے، وہیں ترنمول کانگریس کے حامی اسے ‘اتر پردیش ماڈل’ سے تشبیہ دے رہے ہیں، اور کانگریس نے اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
