ایک کھلے: ونس اپون اے ٹائم کے زائرین، گریگ کانسٹنٹائن کے ذریعہ تیار کردہ اور BRAC یونیورسٹی کے سینٹر فار پیس اینڈ جسٹس کے زیر اہتمام، آرکائیو کی تصاویر کے ساتھ مشغول ہیں جو بے وطن روہنگیا کی یاد اور وقار کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بشکریہ: گریگ کانسٹینٹائن۔
نفیس فاروق تسنیم
یہ سب ایک ایسے سوال سے شروع ہوا جو بہت خاموشی سے، ایک آہ کی طرح ابھرا تھا۔ امریکی فوٹو جرنلسٹ اور دستاویزی فلم ساز گریگ کانسٹینٹائن (Greg Constantine) جنہوں نے تقریباً دو دہائیوں تک روہنگیا مسلمانوں کے مصائب کو اپنے کیمرے میں قید کیا ہے، بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں واقع ایک بانس کے جھونپڑے میں بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے چند معمر روہنگیا بزرگ موجود تھے جن کے ہاتھوں میں پلاسٹک کے تھیلے تھے—ان تھیلوں میں ان کا ماضی بند تھا۔پرانی خستہ حال دستاویزات، زرد پڑ چکی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر، اور ایسے اسکول سرٹیفکیٹس جو بار بار تہہ کیے جانے کی وجہ سے کاغذ سے زیادہ پرانے لگ رہے تھے۔ گریگ نے ان سے بالکل مٹیالے انداز میں ایک سوال پوچھاکہ ”آپ نے یہ دستاویزات آج تک کسی اور کو کیوں نہیں دکھایا؟“۔
بزرگوں کا جواب بہت مختصر لیکن دل دہلا دینے والا تھا، ایک ایسا جواب جو شاید ماضی کے بھوتوں نے سرگوشی میں دیا ہو: ”کیونکہ کسی نے کبھی پوچھا ہی نہیں“۔

اس ایک جملے میں جلاوطنی اور بے وطنی کا پورا دکھ چھپا ہوا تھا۔ یہ جواب اس بات کی وضاحت تھا کہ وہ دہائیوں سے دنیا کی نظروں سے کیوں اوجھل رہے، کیوں تاریخ کے صفحات ان کے ذکر سے خالی ہے اور دنیا کیوں ان کے پاس سے یوں ہی گزر گئی۔ صحافی آئے، وکلاء آئے، سوالنامے لیے محققین آئے اور اقوامِ متحدہ کے اہلکار اپنے اپنے ڈیڈلائنز کے ساتھ آئے۔ لیکن ان کے سوالات ہمیشہ تباہی کے بارے میں ہوتے تھے: فوج کب آئی؟ کتنے گھر جلائے گئے؟ کتنے لوگ مارے گئے؟ کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھاکہ ”آپ اپنے ساتھ کیا لے کر نکلے؟ آپ کی زندگی کا کیا حصہ بچ گیا؟“ اور یہی وجہ تھی کہ وہ زمینوں کے کاغذات، خاندانی تصاویر، پیدائش، شادی اور اسکولوں کے وہ زرد سرٹیفکیٹس جن کے بارے میں کبھی کسی نے پوچھا ہی نہیں تھا، پلاسٹک کے تھیلوں میں بندرہ گئے، جنہیں نہ کبھی تسلیم کیا گیا اور نہ کبھی کسی کو دکھایا گیا۔
اعداد و شمار سے انسانی تاریخ تک کا سفر
بنگلہ دیش کا کاکس بازار دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہے، جہاں تقریباً دس لاکھ روہنگیا راشن، فوجی گشت اور لامتناہی انتظار کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مون سون کی بارشوں میں بانس کے بنے یہ جھونپڑے گر جاتے ہیں اور آگ کسی بددعا کی طرح بار بار ان کیمپوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ بغیر شہریت اور شناخت کے، ان کی نئی نسلیں بغیر کسی مستقبل کے پروان چڑھ رہی ہیں۔
ان کی حالتِ زار صرف اپنے وطن سے بے دخلی نہیں بلکہ ان کی تاریخ کا مٹایا جانا (Archival Deletion) بھی ہے۔ میانمار ان کے اپنے ہونے سے انکار کرتا ہے، بنگلہ دیش انہیں پناہ تو دیتا ہے لیکن مستقل اپنانے سے گریزاں ہے، اور دنیا انہیں امداد دیتی ہے لیکن شناخت نہیں۔ روہنگیا کا ذکر ہمیشہ ایک بوجھ، ایک بحران یا صرف ایک عدد (Statistic) کے طور پر کیا جاتا ہے۔ انہیں انسانوں یا ایک تاریخ کے طور پر بہت کم دیکھا گیا۔
اسی طویل خاموشی کو توڑنے کے لیے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا جس کا عنوان تھا: ”ایک کھالے: ونس اپون اے ٹائم“(Ek Khaale Once aUpent a Time)یعنی ایک تھا زمانہ۔ گریگ کانسٹینٹائن کی نگرانی اور ”بریک یونیورسٹی (BRAC University) کے سینٹر فار پیس اینڈ جسٹس کے زیرِ اہتمام یہ 10روزہ نمائش18اگست 2025تک ڈھاکہ کے میرول بڈا کیمپس میں منعقد ہوئی۔ تصاویر، مکالموں اور پرانے تاریخی ٹکڑوں کے ذریعے یہ صرف ایک آرٹ کی نمائش نہیں تھی، بلکہ یادوں کو واپس چھیننے کی ایک جدوجہد تھی—ایک بکھری ہوئی قوم کی زندگی کے حصوں کو دوبارہ جوڑ کر دنیا کے سامنے ایک باوقار شکل میں پیش کرنے کی کوشش۔
مظلومیت کے پنجرے سے باہر
دہائیوں سے روہنگیا کو تصاویر کے ذریعے صرف مظلوم بنا کر ہی پیش کیا گیا۔ خود کانسٹینٹائن تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے کیمروں نے ہی روہنگیا کی یہ تصویری شناخت بنائی تھی-ندیوں کو پار کرتے ہوئے لوگوں کا لامتناہی ہجوم، بچوں کو سینے سے لگائے مائیں اور ننگی پہاڑیوں پر بنے بانس کے ڈھانچے۔ یہ تصاویر ضروری تو تھیں، لیکن انہوں نے روہنگیا کے وجود کو محدود کر دیا اور انہیں ایک دائرے میں قید کر دیا۔
چنانچہ کانسٹینٹائن نے خود سے سوال کیا-کیا ہوتا ہے جب تصاویر کسی معاشرے کو اس کی اصل شناخت کے ساتھ نہیں، بلکہ صرف اس کے دکھوں کے ساتھ پیش کرتی ہیں؟ کیا ہوگا اگر دستاویزات اور تصاویر خود ایک پنجرہ بن جائیں؟
اسی فکری بحران سے یہ فیصلہ سامنے آیا کہ اب حال کی دردناک تصاویر بنانا بند کی جائیں اور اس کے بجائے ماضی کی تصاویر کو تلاش کیا جائے۔ خاندانی البمز، شادی کی تصاویر، ہاتھ سے لکھے گئے خطوط، املاک کے کاغذات—وہ نجی اور گھریلو چیزیں جنہیں اب تک نظر انداز کیا گیا تھا۔ یہ چیزیں ان پر ہونے والے مظالم کی تاریخ کو مٹاتی نہیں ہیں، بلکہ اسے مزید وسعت دیتی ہیں اور انہیں صرف ایک پناہ گزین نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
کانسٹینٹائن ایک فوٹوگرافر سے ایک آرکائیوسٹ (تاریخ داں) بن گئے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں اور خود میانمار کے اندر (بؤتھیدانگ، ستوے اور یانگون میں) نوجوان روہنگیا لڑکوں کو تربیت دی کہ وہ اپنے بزرگوں سے سوال کریں، ان کی باتوں کو غور سے سنیں اور ان پرانی دستاویزات کی تصاویر بنا کر ایک ریکارڈ قائم کریں۔
یہ طریقہ کار انتہائی صبر طلب تھا۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا تھاکہ کوئی جلدی نہیں ہے، کوئی ڈیڈلائن نہیں ہے۔ اور پھر وہ پرانے کاغذات آہستہ آہستہ باہر آنے لگے، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی شرمیلا جانور جنگل سے باہر نکلتا ہے۔ کوئی بزرگ فرش پر کپڑا بچھا کر زمین کا ایک پرانا کاغذ کھولتا، پھر باتیں ہوتیں، اعتماد بحال ہوتا اور پھر وہ بزرگ اپنے جھونپڑے کے اندر جاتا اور ایک پلاسٹک کا تھیلا لے کر باہر آتا، جس میں وہ کاغذات ہوتے جنہیں ندیوں کو پار
کرتے وقت، پہاڑوں پر چڑھتے وقت اور جھونپڑوں کے فرش کے نیچے چھپا کر دشمن سے بچایا گیا تھا۔

عالمی تاریخ میں روہنگیا کا اصل کردار
جو کچھ ان تھیلوں سے برآمد ہوا، وہ صرف کسی خاندان کی یادیں نہیں تھیں، وہ عالمی تاریخ تھی۔ برطانوی حکومت کی طرف سے 1945میں ایک روہنگیا شخص ‘عبدالسلام’ کے نام جاری کردہ جنگی خدمات کا سرٹیفکیٹ (War Service Certificate) ملا۔1949کا ایک پاسپورٹ ملا۔ ڈائریاں، خطوط اور تعلیمی اسناد سامنے آئیں۔ وہ زبانی تاریخ جسے اب تک محض ایک افسانہ کہہ کر مسترد کیا جاتا رہا تھا، اس کے دستاویزی ثبوت مل گئے کہ روہنگیا مسلمانوں نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران اراکان میں جاپانی فوج کے خلاف برطانوی فورس وی میں بطور انٹیلی جنس ایجنٹ خدمات سرانجام دی تھیں۔
کانسٹینٹائن نے جب برٹش لائبریری میں ریسرچ کی، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ1945کی ایک پرانی کتاب میں اسی شخص ‘عبدالسلام’ کا تذکرہ موجود تھا اور اس کی تصویر کے نیچے لکھا تھا: عبدالسلام، بؤتھیدانگ سے تعلق رکھنے والے اراکان کے سربراہ۔ یہ اتفاق ایسا تھا گویا تاریخ خود تسلیم کیے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔ بعد میں انہیں اس برطانوی افسر کے خاندان کا بھی پتہ چلا جس نے روہنگیا جنگجوؤں کی کمانڈ کی تھی۔ ان کے گھر کی چھت کے نیچے ایک پرانے سوٹ کیس سے خطوط، ڈائریاں اور 1943کی ایک تاریخی تصویر ملی، جس میں روہنگیا گوریلا یونٹ اپنے برطانوی کمانڈر کے ساتھ برطانوی پرچم تھامے کھڑا تھا۔ وہ تاریخ جسے میانمار کی حکومت نے یکسر مسترد کر دیا تھا، کاغذ اور روشنائی کی شکل میں دنیا کے سامنے کھڑی تھی۔
مظلوم سے موجد تک: روہنگیا دانشوروں کا تذکرہ
ان دستاویزی ٹکڑوں سے روہنگیا کے پھیلاؤ (Diaspora) کا ایک نیا نقشہ ابھرا۔ روہنگیا مسلمانوں کی یادیں صرف کیمپوں سے نہیں بلکہ کیلیفورنیا، کراچی، انڈیانا، ڈبلن اور دنیا کے دیگر حصوں سے سامنے آئیں۔ ایک ایسے روہنگیا شخص کا پتہ چلا جس نے امریکہ کی یونیورسٹی (UCLA) سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور دماغی لہروں کو پڑھنے والی مشین ‘EEG Brainwave Machine’ کا شریک موجد (Co inventor)بنا۔ 1945میں برکلے یونیورسٹی جانے والا ایک روہنگیا طالب علم بعد میں نیوکلیئر فزسٹ (ایٹمی سائنسدان) بنا۔ کئی خاندانوں نے سندھ مسلم سائنس کالج (کراچی)، برطانیہ، ملائیشیا اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔
یہ وہ کہانیاں ہیں جو روہنگیا کو صرف ایک لاچار پناہ گزین کے روایتی بیانیے سے آزاد کرتی ہیں۔ یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ برادری جدید دنیا، سائنس اور علم و دانش کے شعبوں سے گہرائی سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ صرف بوجھ نہیں بلکہ دنیا کے لیے موجد، سائنسدان اور دانشور بن کر ابھرے تھے۔
زمین سے دیوار تک: نمائش کا انوکھا انداز
اس نمائش کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ اس میں سرکاری دستاویزات اور خاندانی تصاویر کو الگ الگ انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ زمین کے کاغذات، اسناد اور البمز کو بالکل زمین کے برابر (فرش پر) نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے روہنگیا بزرگوں نے پہلی بار انہیں کانسٹینٹائن اور ان کی ٹیم کے سامنے فرش پر پھیلا کر دکھایا تھا۔ وہ فرش صرف ایک جگہ نہیں بلکہ ایک ایسی قربان گاہ بن گیا جہاں تاریخ کو کھولا گیا تھا۔
دوسری طرف، خاندانی مسکراتی ہوئی تصاویر کو دیواروں پر ایک گھنے کولاج (Dense Collage) کی شکل میں سجایا گیا تھا، بالکل اسی طرح جیسے کسی پرانے خاندانی ریستوران یا کیفے کی دیواروں پر آباء و اجداد کی تصویریں لگی ہوتی ہیں۔ قریب سے دیکھنے پر ہر تصویر ایک الگ انسان کی کہانی سناتی تھی، اور دور سے دیکھنے پر وہ ایک پوری قوم کی داستان بن جاتی تھی۔
یہ نمائش کوئی خاموش تماشہ نہیں بلکہ تاریخ کو مٹائے جانے کے خلاف ایک پرامن احتجاج تھا۔ یہ اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ روہنگیا کو صرف ان کے وطن سے نکالے جانے کے حوالے سے یاد نہ رکھا جائے، بلکہ ان کی بقا، ان کی تاریخ اور ان کی استقامت کے لیے یاد رکھا جائے۔ جیسا کہ نمائش کے اختتامی الفاظ کہتے ہیں: دستاویزات صرف بچ نہیں گئیں، بلکہ وہ اپنے ہونے کا اصرار کر رہی ہیں۔
؎
