نئی دہلی:
بھوپال کی مشہور برکت اللہ یونیورسٹی پہلے کی طرح برکت اللہ یونیورسٹی کے نام سے ہی جانی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نام تبدیل کرنے کی تجویز کو ’’سرد خانے‘‘ میں ڈال دیا گیا ہے۔3 جون کو برکت اللہ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے یونیورسٹی کا نام تبدیل کر کے ‘واگ دیوی بھوجپال (بھوپال نہیں) یونیورسٹی رکھنے کی تجویز پیش کی تھی، جس سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر سریش کمار جین نے ‘دی ہندو کو بتایا تھا کہ واگ دیوی ہندو دیوی سرسوتی کا دوسرا نام ہے اور بھوجپال، جسے بھوپال کا ‘قدیم نام مانا جاتا ہے، قدیم پرمار خاندان سے ماخوذ ہے۔

مولوی برکت اللہ (7 جولائی 1854 – 27 ستمبر 1927)
تاہم اپوزیشن جماعتوں اور فیکلٹی و طلبہ سمیت دیگر مظاہرین نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے واگ دیوی اور راجہ بھوج کے نام پر نئے ادارے قائم کرنے کی حمایت کی، لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس یونیورسٹی کو اسی حال میں چھوڑ دیا جائے کیونکہ یہ ایک معزز جدید ہندوستانی مجاہدِ آزادی اور اسکالر کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
طلبہ اور فیکلٹی کے مسلسل دباؤ اور گزشتہ ہفتے وی سی جین کے استعفیٰ کے بعد اس تجویز کو ترک کر دیا گیا ہے۔ رجسٹرار ثمر بہادر سنگھ نے ‘دی ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ نام تبدیل کرنے کی مہم وی سی کی طرف سے چلائی جا رہی تھی اور ان کی روانگی کے ساتھ ہی اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کے محکمے کے افسران نام کی تبدیلی کے حق میں نہیں تھے۔اخبار نے ایگزیکٹو کونسل کے ایک رکن کے حوالے سے لکھا ہے کہ اب تمام تر توجہ ’’انتظامی امور کو مستحکم کرنے پر ہے‘‘۔
400 ایکڑ پر محیط یہ یونیورسٹی 1970 میں قائم ہوئی تھی اور اس کا اصل نام ‘بھوپال یونیورسٹی تھا۔ بعد میں 1988 میں اس کا نام ایک مجاہدِ آزادی اور اسکالر محمد برکت اللہ بھوپالی کے نام پر رکھا گیا۔ بھوپال سے تعلق رکھنے والے مولوی برکت اللہ نے جلاوطنی میں قائم ہونے والی ہندوستان کی پہلی عبوری حکومت کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ حکومت 1 دسمبر 1915 کو افغانستان میں راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ کی صدارت میں قائم ہوئی تھی۔ وہ تحریکِ غدر سے وابستہ تھے اور ایک نامور اسکالر، صحافی اور کثیر العلوم (polymath) شخصیت تھے۔ وہ عربی، فارسی، انگریزی اور جاپانی سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
انہوں نے لندن، لیورپول اور ٹوکیو میں تدریسی خدمات انجام دیں، غدر پارٹی کے اخبار کی ادارت کی اور ہندوستان کو آزاد کرانے کی انقلابی سرگرمیوں کے سلسلے میں امریکہ، جاپان، جرمنی، ترکی، سوویت روس، فرانس اور اٹلی کا سفر کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، (نام تبدیل کرنے کی) تجویز میں ان کی علمی خدمات کو کم تر دکھایا گیا تھا اور یہ مؤقف اپنایا گیا تھا کہ راجہ بھوج کے مقابلے میں “اس خطے کے لیے برکت اللہ بھوپالی کی کوئی نمایاں خدمات نظر نہیں آتیں، سوائے اس کے کہ وہ بھوپال کے رہائشی تھے۔”
Leave a Reply