• Skip to primary navigation
  • Skip to main content
  • Skip to primary sidebar

انصاف نیوز نیٹ ورک

  • سیاسیات
  • معیشت
  • قانون
  • ادب وثقافت
  • تجزیہ
  • خصوصی رپورٹ
  • مسلم ورثہ
  • مجھے ہے حکم اذاں

نوآکھالی میں گاندھی کی ہم آہنگی کی تلاش

June 25, 2026 by Insaf News Network Leave a Comment

پرویز رحمان

گاندھی کی زندگی میں، اور خصوصاً ان کے قتل کے بعد کی ابتدائی دہائیوں میں، ان کا فلسفۂ حیات ایک اہم موضوعِ بحث رہا ہے۔ مورخین نے نئے جذبے اور نئے سوالات کے ساتھ یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ ہندوستانی قوم پرست تحریک کے تناظر میں سلطنت، نوآبادیات، نوآبادیاتی مخالف سیاست اور عدم تشدد کو کس طرح سمجھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں گاندھی کی اہمیت اور ان پر مورخین کی دلچسپی ایک مستقل اور ناگزیر موضوع بن چکی ہے۔

تاہم ان کے افکار کا ایک اہم پہلو اب بھی نسبتاً کم زیرِ تحقیق ہے، اور وہ یہ کہ انہوں نے ہندو مسلم فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دیہی علاقوں میں آباد لوگوں کے ساتھ کس طرح رابطہ قائم کیا۔ یہ ایک مشکل کام ہے، کیونکہ جو کچھ انہوں نے لکھا اور کہا، وہ مکمل طور پر ان کی جمع شدہ تصانیف (Collected Works) میں محفوظ نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں کے لوگوں کی اجتماعی یادداشتوں اور گاندھی کے اثرات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ان خطوں میں گہرے نسلیاتی مطالعے (Ethnographic Work) کی ضرورت ہے جہاں انہوں نے دورے کیے تھے۔ گاندھی کو سمجھنے کے لیے آئیے نوآکھالی کا رخ کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی دور کے خاتمے اور برصغیر کی تقسیم سے عین قبل، گاندھی نے ان دیہاتوں کا رخ کیا جنہیں اکثر ’’ملک کی روح‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن جو فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جل کر تباہی کا منظر پیش کر رہے تھے۔ خاص طور پر بنگال اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر لوگ بے گھر ہوئے اور نئی قائم ہونے والی سرحد کے دوسری جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

گاندھی کو سب سے زیادہ اس بات نے پریشان کیا کہ فسادات، جو پہلے زیادہ تر شہروں تک محدود تھے، اب دیہاتوں میں بھی سرایت کر رہے تھے، حالانکہ دیہی معاشرے کو روایتی طور پر ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی احترام کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہاں میں ان طریقوں اور حکمتِ عملیوں پر روشنی ڈالوں گا جو گاندھی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بحال کرنے کے لیے، خصوصاً نوآکھالی میں، اختیار کیں تاکہ تشدد کے اس سلسلے کو روکا جا سکے جو قابو سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔

ہندوؤں اور مسلمانوں، جن کے باہمی تعلقات نفرت اور فرقہ وارانہ تشدد کی لہر کے باعث بکھر چکے تھے، کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے گاندھی نے نوآکھالی کے دیہی ماحول سے پورے ہندوستان کو یہ پیغام دیا کہ فرقہ وارانہ فسادات کا مقابلہ کس طرح کیا جا سکتا ہے: غصے اور جنون کو ٹھنڈا کرکے، اور ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ برادری کے طور پر دوبارہ قریب لا کر۔

امن کا یہ سفر 7 نومبر 1946 کو نوآکھالی پہنچا، جہاں کلکتہ کے فسادات کے ردِعمل میں ہندو آبادی فرقہ وارانہ ظلم و ستم اور بے گھری کا شکار ہو رہی تھی۔ دیگر تمام معاملات کو پسِ پشت ڈال کر، گاندھی نے ایک ایسے مشن کا آغاز کیا جس کے لیے سماجی روابط، باہمی اعتماد اور مذہبی رواداری ناگزیر تھے۔ صورتحال ایک ایسی شخصیت کی متقاضی تھی جو اگرچہ انڈین نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم نہ کر سکے، لیکن کم از کم تاریکی میں امید کی ایک کرن بن سکے۔

چونکہ نوآکھالی اور بہار میں بیک وقت فسادات پھوٹ پڑے تھے، اس لیے گاندھی ایک وقت میں صرف ایک ہی مقام کا دورہ کر سکتے تھے۔ وہ آسانی سے بہار جا سکتے تھے، جو ہندو اکثریتی علاقہ تھا۔ اس کے باوجود، ایک باعمل اور عقیدت مند ہندو ہونے کے ناطے، انہوں نے مسلم اکثریتی نوآکھالی کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے عدم تشدد کے نظریے کو عملی میدان میں آزما سکیں۔ یہ ان کے سیاسی کیریئر کے کئی غیر معمولی فیصلوں میں سے ایک تھا۔ تاہم وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ ایک معمولی غلطی بھی ہندو مسلم مصالحت کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

گاندھی اپنے عزم کی انتہا پر تھے۔ نوآکھالی میں انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کی باتیں توجہ سے سنیں، جس سے انہیں اس خطے اور اس کے باشندوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو دیہاتوں کے کونے کونے تک پہنچنے اور لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ ایک ہندو رہنما کی حیثیت سے مسلم برادری کے درمیان گھل مل کر رہنے سے انہیں یقین تھا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔

گاندھی نے ہندو برادری کا اعتماد بحال کرنے کی بھی کوشش کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ اپنے گھروں کو محفوظ طریقے سے واپس لوٹ سکتے ہیں۔ اقلیت ہونے کے باعث بہت سے ہندو اپنے رشتہ داروں کے گھروں اور رام گنج پولیس اسٹیشن کے اطراف قائم عارضی پناہ گاہوں میں مقیم تھے۔

دیہاتیوں کے ساتھ اپنے مسلسل کام کے علاوہ، گاندھی نے ان نظریات کو بھی چیلنج کیا جنہیں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے ’’اجتماعی انتقام‘‘ کے تصور کی مخالفت کی، جسے بہار اور نوآکھالی دونوں مقامات پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے بعض حلقوں میں خاموش قبولیت حاصل ہو چکی تھی۔ چنانچہ یہ دونوں فسادات بڑی حد تک انتقامی تشدد کی شکل اختیار کر گئے تھے، جہاں ہر فریق نے دوسرے فریق کی اقلیت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تہذیب کے ارتقا میں ’’انتقام‘‘ کا تصور ایک طویل عرصے تک اہم حیثیت رکھتا رہا ہے۔ تاہم گاندھی نے ہر قسم کے انتقام کو اخلاقی اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گناہوں کو نشانہ بنانا بہادری نہیں بلکہ بزدلی کی علامت ہے، اور اس قسم کے تشدد میں ملوث عناصر درحقیقت اپنی کمزوری اور خوف کا اظہار کرتے ہیں، نہ کہ طاقت اور شجاعت کا۔

نوآکھالی میں قیام کے دوران گاندھی نے بہار کے فسادات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’’بہار کے لوگوں نے یہ کیا کر ڈالا؟ یہ پورے ہندوستان کے لیے شرمندگی کا باعث بن گیا ہے۔ انہوں نے آزادی کے حصول کی گھڑی کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ہندو اکثریت کے درمیان رہنے والے مٹھی بھر مسلمانوں کو قتل کرنا بزدلوں کا کام ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’اگر بہار کے ہندو بدلہ ہی لینا چاہتے تھے تو وہ نوآکھالی جا سکتے تھے، لیکن اپنے درمیان رہنے والے چند مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں پر ٹوٹ پڑنا کوئی انتقام نہیں بلکہ کھلی بربریت ہے۔‘‘

اسی جذبے کے ساتھ گاندھی نے نوآکھالی میں بھی مسلمانوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہندوؤں کے خلاف تشدد کا سہارا لینا بہادری نہیں بلکہ ہجوم کی اندھی تقلید ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھروں کو نذرِ آتش کرنا، لوگوں کو بے گھر کرنا، اغوا کرنا، زبردستی مذہب تبدیل کرانا یا جبری شادیاں کرانا ایسے افعال ہیں جن کی کسی بھی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں۔ دونوں برادریوں کے مسائل کو یکساں اہمیت دیتے ہوئے انہوں نے مذہبی رواداری، امن اور باہمی اعتماد پر زور دیا۔

 

birth-anniversary-of-mahatma-gandhi-1.jpg
گاندھی کے دورہ نواکھلی کے 47 گاؤں کا نقشہ۔

دوسرا مسئلہ مقامی مسلمانوں کی توقعات کا تھا، جو امید کر رہے تھے کہ گاندھی ان کے معاشی اور سماجی مسائل، خصوصاً غربت اور ناقص مواصلاتی نظام، پر بھی توجہ دیں گے۔ اپنے پورے قیام کے دوران گاندھی نے کئی ممتاز مسلم سیاسی شخصیات، بالخصوص حسین شہید سہروردی اور شمس الدین احمد، سے ملاقاتیں کیں اور اپنے مقاصد پر تفصیلی گفتگو کی۔ تاہم انہیں جلد احساس ہو گیا کہ عام لوگوں کی فعال شمولیت کے بغیر کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

عوام کو اپنی مہم میں شریک کرنے کے لیے گاندھی نے ایک علامتی مگر مؤثر پیغام دیا: ’’میں یہاں آپ کے درمیان آپ ہی کی طرح رہنے آیا ہوں۔ میں اپنے آپ کو ایک ہندوستانی سمجھتا ہوں، اور اسی لیے میں اتنا ہی بنگالی ہوں جتنا ایک گجراتی ہوں۔‘‘

birth-anniversary-of-mahatma-gandhi-2.jpg
نواکھلی کے گاندھی آشرم میں گاندھی کی ذاتی اشیاء کا مجموعہ، جس کی تصویر مصنف نے 4 جون 2022 کو لی تھی۔

یہ بیان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ گاندھی کی نظر میں قومی اور مذہبی شناختوں سے بالاتر انسانی رشتہ زیادہ اہم تھا۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی راہ میں حائل مذہبی دیواروں کو گرانے کے لیے انہوں نے مسلسل جدوجہد کی۔ اگر وہ خود ایک مسلمان کے گھر میں قیام کر سکتے تھے تو ان کے نزدیک ہندوؤں اور مسلمانوں کا باہمی میل جول بھی بالکل ممکن تھا۔ ایسے علامتی اقدامات کی ضرورت تھی، اور اگرچہ بعض لوگوں کو یہ محض نمائشی محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ان کوششوں نے فسادات سے متاثرہ برادریوں کے درمیان اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

گاندھی نے ہندو مسلم اتحاد کی ایک تاریخی مثال کے طور پر تحریکِ خلافت کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے علی برادران کے ساتھ اپنے ماضی کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے نوآکھالی کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسلمان حریف نہیں بلکہ شریکِ وطن اور اتحادی ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے قرآنِ کریم کی تعلیمات کے بارے میں گفتگو کی اور یہ دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا کہ بہت سے عام لوگ اس کے حقیقی پیغام سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ گاندھی نے اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا اور قرآنی تعلیمات کا حوالہ دے کر مسلمانوں کے ساتھ ایک فکری اور اخلاقی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی۔

مثال کے طور پر شمس الدین زاہد نے گاندھی کی اس بات کی تائید کی کہ قرآنِ کریم واضح طور پر اعلان کرتا ہے: ’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ گاندھی بار بار اس حقیقت پر زور دیتے رہے کہ اسلام میں کہیں بھی ان اعمال کی اجازت نہیں دی گئی جو نوآکھالی کے فسادات کے دوران دیکھنے میں آئے تھے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک مربوط معاشرے میں دوبارہ جوڑنے کے لیے گاندھی نے ان کے پُرامن بقائے باہمی، مشترکہ تاریخی یادداشتوں اور نوآبادیاتی ظلم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس تصور کو بھی مسترد کیا کہ مسلمان فطری طور پر ہندوؤں کے دشمن ہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک ہی سماج کے دو اہم اجزا ہیں اور مستقبل میں بھی ساتھ رہیں گے، خواہ نوآبادیاتی اقتدار ختم ہو جائے یا سیاسی سرحدیں ہی کیوں نہ وجود میں آ جائیں۔

گاندھی اور نوآکھالی

نوآکھالی مشرقی بنگال کے دیہی علاقے گاندھی کے دورے کے بعد ان کے نام کے ساتھ جڑ چکا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ نوآکھالی نے گاندھی کی زندگی اور فلسفے کو مکمل کردیا، اور گاندھی نے نوآکھالی کو۔ اس بات کو اسی (80) سال مکمل ہوچکے ہیں جب گاندھی نے سیلاب زدہ علاقے کے 47 دیہاتوں کا پیدل سفر کیا تھا۔ انہیں 1938 میں منورنجن چودھری کے خطوط کے ذریعے اس علاقے کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس وقت دیگر مصروفیات کی وجہ سے کارروائی کرنے سے قاصر تھے۔

تقریباً ایک دہائی کے بعد، انہوں نے نوآکھالی کے پکار کا جواب دیا اور وہاں ہمیشہ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا، جس سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ برادریوں کو اکٹھا کرنے کے لیے ان کی موجودگی اب بھی ضروری تھی۔ اس وقت تب سے لے کر آج تک گاندھی نوآکھالی کے لوگوں کے درمیان بحث و مباحثے اور یادداشت کا ایک اہم حصہ بنے ہوئے ہیں۔ لوگ آج بھی وہاں قائم ان کی یادگار کے ذریعے انہیں محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں، جبکہ گاندھی آشرم ٹرسٹ میوزیم میں محفوظ نوادرات اور دستاویزات کے ذریعے ہندوستان کی نوآبادیاتی دور کی جدوجہد سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ گاندھی کی یاد میں قائم یہ فلاحی ادارہ ان کے امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فلسفے کی عملی ترجمانی کرتا ہے۔

یہ ٹرسٹ فرقہ وارانہ فسادات کے فوراً بعد گاندھی کے پرامن نظریات کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف طبقات اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ان کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا تھا۔ ان کی یادیں آج بھی مقامی معاشرے میں زندہ ہیں اور نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔

جب گاندھی نوآکھالی پہنچے تو ان کی عمر ستتر (77) برس تھی، مگر اس کے باوجود وہ ان تمام علاقوں میں گئے جہاں فرقہ وارانہ تشدد نے تباہی مچا رکھی تھی۔ ان کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اعتماد اور اتحاد کو بحال کرنا تھا۔ ان مسلسل سفر اور کوششوں نے ان کی صحت پر منفی اثر ڈالا۔ چاند پور کے ایک کشتی کے سفر کے دوران وہ علیل بھی ہو گئے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے مشن کو ادھورا چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ مزید برآں، دیہی علاقوں میں مواصلاتی سہولیات کی کمی اور ہندوستانی سیاست کی پیچیدہ صورتِ حال بھی انہیں اپنے عدم تشدد کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے سے نہ روک سکی۔

مسلمان بڑی تعداد میں ان سے ملاقات کے لیے آتے تھے۔ چوموہنی گورنمنٹ کالج کے مسلم پرنسپل تفضل حسین نے بھی ان سے ملاقات کی اور بعد ازاں گاندھی کا ایک خط وصول کیا۔ اپنی خودنوشت ’’اسمرتی کنا‘‘ (یادوں کے ٹکڑے) میں تفضل حسین لکھتے ہیں کہ گاندھی نوآکھالی کے واقعات سے اتنے ہی رنجیدہ تھے جتنے بہار کے فسادات سے، کیونکہ دونوں مقامات پر فرقہ وارانہ تشدد نے انسانی جانوں اور سماجی رشتوں کو نقصان پہنچایا تھا۔

حسین کے مطابق گاندھی کا خیال تھا کہ وہ نوآکھالی میں ہوں یا بہار میں، اصل اہمیت اس بات کی تھی کہ جہاں بھی ہوں، وہاں امن اور مصالحت کے لیے کام کریں۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ گاندھی کو مسلمانوں کے ساتھ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور بالآخر اسی طرزِ فکر نے انہیں انتہا پسند عناصر کے نشانے پر لا کھڑا کیا۔ ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ ہندو اور مسلمان دونوں اپنے سیاسی اور سماجی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔

اقلیتوں کے تحفظ اور خود اعتمادی کے سوال پر گاندھی کا مؤقف واضح تھا۔ ان کا اصرار تھا کہ لوگ خوف کے بجائے حوصلے اور اعتماد کے ساتھ جینا سیکھیں۔ انہوں نے خاص طور پر بے گھر ہندوؤں کے دلوں میں ہمت پیدا کرنے کی کوشش کی اور انہیں اپنے علاقوں میں واپس رہنے کی ترغیب دی۔ اس وقت مشرقی بنگال کے بہت سے ہندو نقل مکانی کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن گاندھی کا خیال تھا کہ ان کا علاقہ چھوڑ دینا ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں کے لیے باعثِ شرم ہوگا۔

تفضل حسین نے اپنی کتاب میں گاندھی اور مہاویر تیاگی کے درمیان ہونے والی ایک مختصر مگر معنی خیز گفتگو کا بھی ذکر کیا ہے۔ تیاگی نے گاندھی سے کہا: ’’آپ نے ہماری بہت سی لڑائیاں لڑیں، لیکن آج فیصلہ کن گھڑی میں میں آپ کو منظرنامے سے غائب پاتا ہوں۔‘‘

گاندھی نے جواب دیا: ’’آج میری کون سنتا ہے؟‘‘ (صفحہ 91)

یہ مختصر مکالمہ گاندھی کے ذہنی کرب، تنہائی اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات اور پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لیے انہیں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ تاہم گاندھی اور تیاگی دونوں اس بات پر متفق تھے کہ اگرچہ بہت سے سیاسی رہنما گاندھی کی باتوں سے دور ہو چکے تھے، لیکن عام لوگوں میں ان کی بات اب بھی اثر رکھتی تھی۔

اس ضمن میں طفیل احمد کی کتاب ’’نوآکھالی میں مہاتما گاندھی‘‘ بھی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے نوآکھالی کے ان افراد کے انٹرویوز شامل کیے ہیں جنہوں نے گاندھی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور ان کی سرگرمیوں کا براہِ راست مشاہدہ کیا تھا۔
میں نے اس آخری حصے کو بھی تحقیقی، ادبی اور اشاعتی معیار کے مطابق درست اور رواں انداز میں مرتب کیا ہے:

طفیل (پنچ گاؤں، نوآکھالی)، 1947

’’موہن داس کرم چند گاندھی نے کئی دن اور راتیں دعائیہ اجتماعات اور امن کانفرنسوں کے انعقاد میں گزاریں۔ ان اجتماعات میں وہ تمام برادریوں کے درمیان ہم آہنگی، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام دیتے تھے۔ اس وقت میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میری عمر کے بچے گاندھی کو سردیوں کی کھلی راتوں میں، بغیر کسی کرسی یا میز کے، ایک چبوترے پر بچھی چٹائی پر بیٹھے دیکھتے تھے۔ ہمارے لیے وہ خدا کے بھیجے ہوئے ایک نجات دہندہ اور بزرگ شخصیت تھے۔

ایک درویش کی مانند، گاندھی کے الفاظ نے ان لوگوں کے دلوں کو روشن کیا جو وقتی طور پر شرپسند عناصر کے بہکاوے میں آ گئے تھے۔ میں نے ایسے ہندوؤں کو بھی دیکھا جو خوف کی وجہ سے دھوتی کے بجائے لنگی پہن کر پنچ گاؤں بازار جاتے تھے تاکہ اپنی شناخت چھپا سکیں۔ گاندھی آئے، انہوں نے لوگوں کے دل جیت لیے، اور آہستہ آہستہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی بحال ہونے لگی۔‘‘ (صفحہ 6)

محبوب الرحمن، 1991

’’مہاتما گاندھی نے فسادات سے متاثرہ ہندوؤں کو پناہ دینے پر ہمارا شکریہ ادا کیا۔ ہم نے یہ کام انسانی ہمدردی کے جذبے سے کیا، اگرچہ بعض مسلمانوں کو یہ پسند نہیں آیا اور انہوں نے ہمیں مشکلات میں ڈالنے کی کوشش بھی کی۔

میں رام گنج میں گاندھی سے ملا تھا۔ انہوں نے تقریباً تیس منٹ تک نہایت صبر اور توجہ کے ساتھ میری بات سنی اور میرے خیالات کو سراہا۔ مجھے محسوس ہوا کہ گاندھی لوگوں اور علاقوں کے مسائل سے پوری طرح واقف تھے۔ ان کی آواز نہایت دھیمی، نرم اور دلنشیں تھی۔ میرے لیے یہ ایک باعثِ فخر لمحہ تھا کہ گاندھی جیسی عظیم شخصیت نے اپنی مصروفیات کے باوجود مجھے پورے تیس منٹ دیے۔‘‘ (صفحہ 10)

بملیندو بیکاش رائے چودھری، 30 نومبر 1991

’’1946 میں میں حاجی گنج کے اسکول میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میں نے سنا تھا کہ گاندھی رام گنج آئے ہیں۔ اسی دوران یہ خبر بھی ملی کہ جواہر لال نہرو فینی پہنچے تھے، جہاں بعض لوگوں نے ان پر پتھراؤ کیا۔ اس پر نہرو نے جواب دیا: ’میں ساری زندگی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرتا رہا ہوں اور آج بھی اسی جدوجہد میں مصروف ہوں۔ آپ مجھے پتھر مار کر خوف زدہ نہیں کر سکتے۔‘

رائے چودھری نے یہ بھی لکھا ہے کہ گاندھی نے تقسیمِ ہند کے حوالے سے اپنا آخری مؤقف نوآکھالی میں قیام کے دوران ہی اختیار کیا تھا۔‘‘ (صفحہ 26

 حاصلِ کلام

گاندھی کا یقین تھا کہ تشدد اور نفرت سے بھرے اس دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو دوبارہ قریب لانا ہی ہندوستان کے لیے واحد راستہ ہے۔ فرقہ وارانہ نفرت کی جڑیں کاٹنے کے لیے وہ تباہ حال دیہاتوں میں پہنچے تاکہ اپنے فلسفۂ عدم تشدد کو عملی میدان میں آزما سکیں۔

اس وقت ہندوستان فرقہ وارانہ فسادات کے ایک ایسے ناسور میں مبتلا تھا جس نے قومی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ گاندھی کے نزدیک اس بیماری کا علاج صرف عدم تشدد، رواداری اور باہمی اعتماد میں پوشیدہ تھا۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر لوگ اس اصولِ عدم تشدد کو کیوں فراموش کر رہے ہیں جس نے ان کی پوری زندگی اور جدوجہد کو معنی عطا کیے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سوال کا جواب ہندوستان کے دیہاتوں ہی میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔

نوآکھالی میں ان کا سامنا ایسے لوگوں سے ہوا جنہوں نے انہیں امن، محبت اور بھائی چارے کی آواز کے طور پر خوش آمدید کہا۔ اتفاق سے ان کے نوآکھالی میں قیام کے دوران کئی اہم سیاسی اور سماجی واقعات رونما ہوئے۔ عدم تشدد کے عملی تجربات سے لے کر تقسیمِ ہند کے حوالے سے ان کی سوچ تک، یہ چار ماہ ان کے نظریات، تجربات اور ذاتی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

تاہم ان تمام معاملات سے بڑھ کر ان کے لیے سب سے اہم مقصد اپنے عدم تشدد کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچانا تھا، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہندوستان کا سیاسی اور سماجی ماحول فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد سے آلودہ ہو چکا تھا۔

انہوں نے اپنے پیغام کو مؤثر بنانے کے لیے روزے کو بھی ایک اخلاقی اور روحانی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ان کے نزدیک روزہ محض ذاتی عبادت نہیں بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑنے اور معاشرے کو بیدار کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ اگرچہ وہ یہ اقدامات ملک کے کسی اور حصے میں بھی کر سکتے تھے، لیکن نوآکھالی کے دور افتادہ دیہی علاقے ان کے اس تجربے کے لیے سب سے موزوں ثابت ہوئے۔

آزادی کے آخری ایام میں انہوں نے اپنی پوری توانائی اس بات پر صرف کر دی کہ لوگ فرقہ وارانہ جنون میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہ بن جائیں۔ گاندھی کا خیال تھا کہ دیہی برادری کے ساتھ عدم تشدد پر مبنی عوامی تحریک کا یہ ان کا آخری اور شاید سب سے اہم تجربہ تھا۔ ان کا یقین تھا کہ اگر نوآکھالی کے دیہاتوں میں پڑوسیوں کے درمیان اعتماد، محبت اور تعاون کا چراغ دوبارہ روشن ہو جائے تو اس کی روشنی پورے ہندوستان کو منور کر سکتی ہے۔

یہ اختتامی حصہ اب پورے مضمون کے علمی، تاریخی اور ادبی معیار کے مطابق زیادہ مربوط، مؤثر اور اشاعتی انداز میں تیار ہو گیا ہے۔

پروفیسر پرویز رحمان نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی بنگلہ دیش میں شعبہ تاریخ اور فلسفہ سے وابستہ ہیں ۔

ان اسے اس میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

parvez.rahman@northsouth.edu

Filed Under: خصوصی رپورٹ

Reader Interactions

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Primary Sidebar

Recently Posts

  • بنگال میں اقلیتی فنڈ میں بھاری کٹوتی، اسکالرشپ پروگرام خطرے میں
  • بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام برکت اللہ یونیورسٹی ہی رہے گا۔ نام تبدیل نہیں ہوگا
  • نوآکھالی میں گاندھی کی ہم آہنگی کی تلاش
  • یہ ہمارے وجود کا سوال ہے. مساجد کے انہدام پر اے پی سی آرکا انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ
  • بی جے پی بنگال کی تقسیم کا جشن کیوں منا رہی ہے؟

Categories

  • Video
  • ادب وثقافت
  • تجزیہ
  • خصوصی رپورٹ
  • سیاسیات
  • قانون
  • مسلم ورثہ
  • نور اللہ جاوید کے کالمس
Follow us
  • Facebook
  • YouTube
  • WhatsApp

Pages

Copyright © 2026 · News Pro on Genesis Framework · WordPress · Log in