مسلم کمیونٹی میڈیا: سیاسی ردعمل سے آگے، تعمیرمعاشرہ کا سفر

مسلم کمیونٹی میڈیا سیاسی ردعمل سے آگے، تعمیرمعاشرہ کا سفر

ابوعمار قاسمی

مسلمانوں کے تئیں قومی میڈیا کا متعصبانہ رویے کی شکایات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آزادی سے قبل کی دہائیوں میں ہندی میڈیا کے منفی کردارپر مسلم حلقے کافی شکایت تھی۔تاہم اس وقت میڈیا میں صحافتی اقدار اور بنیادی اصولوں کی پاسداری آج کے مقابلے کہیں زیادہ تھی۔اسی طرح”مسلم میڈیا“کی ضرورت پربحث اوراس کے قیام کی کوششیں بھی کئی دہائی پرانی ہیں۔تنظیمی اور انفرادی سطح پر کوششوں کے باوجود آج تک قومی سطح پر مسلمانوں کا کوئی منظم میڈیا ہاؤس قائم نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم علاقائی سطح پر کچھ کوششیں ضرور کامیاب ہوئی ہیں، جیسے کیرالہ سے شائع ہونے والا ملیالم اخبار ‘مدھیامم’، اسی کا ٹی وی چینل ‘میڈیا ون’، کرناٹک کے ساحلی شہر اوڈپی سے شائع ہونے والا ”ورتھا بھارتی“ اور بنگال سے شائع ہونے والا بنگلہ روزنامہ ”قلم“ قابل ذکرہیں۔یہ میڈیا ہاؤسیس بہت حد تک مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور مسلم مخالف بیانیے کا مقابلہ کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ڈیجٹل انقلاب مسلم میڈیا کی محرومی کے خاتمے کیلئے مواقع لے کرآیااور چند انگریزی ویب سائٹس، ریجنل ویب سائٹس اس خلاکو پرکرنے کی کوشش کی۔تاہم ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور بھی میں اب تک کوئی مضبوط اور مربوط نیٹ ورک قائم نہیں ہو سکا ہے۔

مسلم کمیونٹی میڈیا سیاسی ردعمل سے آگے، تعمیرمعاشرہ کا سفر

دو ددہائی قبل بھارت کی سیاست کروٹ لینے لگی تو اس تبدیلی میں میڈیا بھی شامل ہوگیا۔یہ سب منظم انداز میں کیا گیا اور اس کے نتیجے میں 2014میں بھارت کی سیاست کا مکمل طور رخ ہی تبدیل ہوگیا۔نفرت، مسلم دشمنی،پولرائزیشن ہی بھارت کی پہنچان بن گیا۔میڈیا کو کنٹرول کرنے کی منظم کوشش شروع ہوگئی۔تو بیشترمیڈیا ہاؤسیس بالخصوص ٹی وی نیوز چینلز مزاحمت کرنے کے بجائے حکومت کے سامنے سرتسلیم خم کر گیا۔ کارپوریٹ مفادات، جارحانہ قوم پرستی اور مسلم دشمنی پر مبنی ذہنیت کے امتزاج نے آج بھارتی میڈیا کا مکمل طور پر ہندونائزیشن اورکارپورٹیرنائزیشن ہوگیا ہے۔اس نئے میڈیا سیٹ اپ میں چندآوازیں اور چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے خودسپردگی کرنے سے انکارکردیا۔صحافتی اقدار، آبجیکٹیو کا پرچم بلند کردیا۔ان میں نیوز چینلوں کے کئی معروف چہرے بھی شامل تھے۔ان چہروں نے خود کو ”متبادل میڈیا“(Alternative Media) کے طور پر پیش کیا۔ایک ایسے تاریک دور میں جہاں میڈیا غیر جانبداری (Objectivity) کھو چکا ہے۔ایسے میں یہ آوازیں امید کی کرن ثابت ہوئی ہیں۔یہ لوگ بیانیہ کو کنٹرول کرنے والی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرے۔ایک بڑے حلقے کا ماننا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا 400 سیٹیں جیتنے کا خواب اسی لیے شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا پر چند آزاد آوازوں نے بیانیے پر سبقت حاصل کر لی تھی۔ چنانچہ اقتدار ملنے کے بعد اب اس ڈیجیٹل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔اب نئے قوانین اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ”متبادل میڈیا“ بھارت کے مسلمانوں کی حقیقی ضرورت کو پورا کر پا رہا ہے؟۔دراصل آج جسے ہم”متبادل میڈیا“کہتے ہیں، وہ بنیادی طور پر ‘گودی میڈیا’ کا ایک ‘اینٹی تھیسس’ (Antithesis) ہے۔متبادل میڈیا (خاص طور پر یوٹیوب اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز) زیادہ تر ”ردعمل” (Reactionary) پر مبنی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ”گودی میڈیا” کے بیانیے کو کاؤنٹر کرنا یا سیاسی سطح پر حکومت سے سوال پوچھنا ہے۔ اس کی افادیت اپنی جگہ، مگر یہ متبادل میڈیا صرف اسی وقت متحرک ہوتا ہے جب دوسری جانب سے کوئی حملہ ہوتا ہے۔ یہ متبادل میڈیا مسلمانوں کو ایک ‘مظلوم’ یا محض ‘ووٹ بینک’ کے طور پر پیش کرنے کا ماہر ہے، لیکن کیا اس نے کبھی مسلمانوں کو ‘معمار’ کے طور پر پیش کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ متبادل میڈیا نے ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہے کہ سیاسی بیان بازی ہی صحافت ہے۔ یہ ایک ایسی ”درد کش گولی” ہے جو وقتی غصہ تو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔لیکن مسلم معاشرہ کے تعمیری کردار، سماجی ضروریات کو حل کرنے اور رہنمائی کرنے سے قاصر ہے۔تمام تر خوبیوں کے باوجود اس کی بھی اپنی حدیں ہیں اور مسلمانوں اور اسلام کے تئیں اس کی اپنی افہام و تفہیم ہے۔جو کبھی اسلامی فکر و نظریات سے متصادم بھی ہوجاتی ہے۔جیسے نکاح، طلاق، پردہ اور یکساں سول کوڈ جیسے مسائل ہیں جس میں متبادل میڈیا کی اپنی تفہیم ہے۔

متبادل میڈیا کے مقابلے میں ہم جب بولتے ہیں کہ ہمیں ”کمیونیٹی میڈیا“ کی ضرورت ہے تو سوال یہ ہے کہ کمیونیٹی میڈیا کیا ہے؟ اس کی ضرورت کیوں ہے؟ اور اس کا خدو خال کیاہیں اور اس کے مقاصدکیا ہونی چاہیے اور اس وقت بھارت میں کمیونیٹی میڈیا کس حدتک کام کررہی ہے؟۔آج کا مسلمان ایک ایسے طلسمی جال میں گرفتار ہے جہاں اسے ہر طرف ”شور“ہی ”شور“ سنائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گودی میڈیا کے خلاف اٹھنے والی ہر چیخ کو ہم اپنی آواز سمجھ لیتے ہیں۔ مگر کیا یہ حقیقت میں ہماری آواز ہے؟ یا یہ صرف سیاسی ردعمل (Political Reaction) کی ایک عارضی گونج ہے؟ آزادی کے آٹھ دہائیوں بعد بھی ہم نے اپنا ایک بھی ’ادارہ جاتی میڈیا“ (Institutional Media) قائم نہیں کیا۔ ہم آج بھی صرف صارف (Consumer) بنے بیٹھے ہیں، تخلیق کار (Producer) نہیں۔موجودہ متبادل میڈیا دراصل ‘گودی میڈیا’ کا عکسِ معکوس ہے۔ اس کا کام صرف ‘ردعمل’ دینا ہے۔ حکومت نے کچھ کیا، ہم نے ویڈیو بنائی اور غصہ نکال لیا۔ یہ میڈیا ایک ‘درد کش گولی’ (Painkiller) کی طرح ہے؛ یہ وقتی طور پر غصہ تو ٹھنڈا کر سکتا ہے مگر قوموں کی تعمیر کیلئے درکار بنیادی عناصرکی تکمیل نہیں کرسکتی ہے۔ 
”سیاسی مزاحمت“اور ”کمیونٹی سازی”دو الگ الگ میدان ہیں۔ جب ہماری تمام تر توانائیاں صرف سیاسی بحثوں پر مرکوز ہو جائیں، تو قومیں ‘ڈیجیٹل جذباتی پن’ (Digital Emotionalism) کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج بھارت میں مسلم معاشرہ ‘ہندوتوا’ کے جواب میں صرف سیاسی ردعمل کو ہی کافی سمجھتا ہے، حالانکہ ہندوتوا قوتیں اس سے کہیں گہرائی میں جا کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچ رہی ہیں۔ تاریخ کو مسخ کرنا، ‘لو جہاد’ اور ‘زمین جہاد’ جیسی اصطلاحات کے ذریعے نفرت پھیلانا محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک منظم منصوبہ ہے۔ ناسک میں ‘ٹاٹا کنسلٹنسی’ (TCS) کا واقعہ اس کی ایک بڑی مثال ہے، جہاں ‘لو جہاد’ کے فرضی بیانیے کو حقیقت ثابت کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ اگرچہ ‘آلٹ نیوز’ (Alt News) جیسے متبادل میڈیا آؤٹ لیٹس نے سچائی کو سامنے لا کر اس سازش کو بے نقاب کیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے؟ درحقیقت، بھارت کا کارپوریٹ سیکٹر تیزی سے ‘ہندوتوا’ کے رنگ میں رنگ رہا ہے۔ کارپوریٹ کمپنیاں خود کو کسی خاص نظریے کا علمبردار ثابت کرنے کے لیے مذہبی دکھاوے کا سہارا لے رہی ہیں۔ اب کارپوریٹ اسپیس کا اندرونی ماحول پیشہ ورانہ اقدار سے زیادہ خاص نظریے کے گرد گھوم رہا ہے۔ کارپوریٹ اسپیس میں، جہاں پہلے سے ہی مسلمان، دلت اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی برائے نام ہے، وہاں اب مسلمانوں کو مکمل طور پر بے دخل کرنے کی طویل مدتی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔متبادل میڈیا نے پروپیگنڈے کا جواب دیا اور سیاسی مہم کی ہوا تو نکال دی، لیکن کیا اس نے ‘جہاد’ جیسی مقدس اصطلاح کو جنسی زیادتی سے جوڑنے کی ناپاک کوششوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا؟ کیا اس نے یہ سوال اٹھایا کہ جب ایک طرف ‘جہاد’ جیسے لفظ کا استعمال کیا جا رہا ہے، تو اس کا حقیقی معنوں میں جنسی زیادتی سے کیا سروکار ہے؟ کیا اس نے کارپوریٹ اسپیس میں مسلم نمائندگی کے فقدان کو اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کیا؟ یہی وہ منظرنامہ ہے جہاں متبادل میڈیا کی حدیں ختم ہوتی ہیں اور ‘کمیونٹی میڈیا’ کی ناگزیر ضرورت کا آغاز ہوتا ہے۔ ہمیں ایسے میڈیا کی ضرورت ہے جو صرف ‘شور’ نہ مچائے، بلکہ ‘سسٹم’ کے اندر گہرائی سے اتر کر سچائی اور اپنے حقوق کا مقدمہ پیش کرے۔
ہندوتوا حامیوں کا یہ ماننا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے انہیں نقصان پہنچایا ہے، یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ہمارے پاس ‘منظم’ اور ‘ادارہ جاتی’ میڈیا ہوتا، تو آج ہماری طاقت اس سے کہیں زیادہ ہوتی۔ ہم نے اپنی پوری توانائی ‘مخالفین’ کو جواب دینے میں ضائع کر دی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی توانائی ‘اپنی قوم’ کی تعمیر میں صرف کریں۔ اب اس سوال پر توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ کمیونٹی میڈیا کے خدوخال کیا ہونے چاہئیں اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟کمیونٹی میڈیا کا بنیادی مقصد محض معلومات پہنچانا نہیں، بلکہ کمیونٹی کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے اجتماعی کوشش کرنا ہے۔ یہ میڈیا ”وپر سے نیچے“ (Top-down) نہیں آتابلکہ نیچے سے اوپر(Bottom-up) جاتا ہے۔ چنانچہ متبادل میڈیا ہمیں ‘سیاسی خبر’ تو دیتا ہے، لیکن کیا وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمارے محلے کے اسکول میں استاد کیوں نہیں ہے؟ یا حکومت کی فلاں اسکیم کا فائدہ ہمارے غریب خاندان تک کیسے پہنچے گا؟ متبادل میڈیا ہمیں ‘غصہ’ تو دلاتا ہے، لیکن کمیونٹی میڈیا ہمیں ‘حل’ کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے تاکہ ہم ‘ریاستی اور قومی بیانیے’ کے بجائے ‘زمینی حقائق’ پر بات کر سکیں۔ یہ محض سیاسی ‘بیانیہ سازی’ تک محدود نہ رہے، بلکہ ‘سماج سازی’ (Social Engineering) پر توجہ دے۔ کمیونٹی میڈیا کا ویژن محض ‘ویوز’ (Views) حاصل کرنا نہیں، بلکہ ‘ویلیو’ (Value) پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کمیونٹی میڈیا کے خدوخال کیا ہونے چاہئیں، تو پہلا ‘اصلاحِ معاشرہ’ (Social Reform) ہے۔ مسلمانوں کو خود اپنے اندر کی کمزوریوں (جیسے تعلیمی پسماندگی، خاندانی جھگڑے، یا معاشی مسائل) پر بات کرنی چاہیے۔ اس کے لیے اعداد و شمار حاصل کیے جائیں؛ متبادل میڈیا یہ کام نہیں کرے گا، اور نہ ہی اسے وہ بصیرت حاصل ہوگی جو ایک کمیونٹی میڈیا کو ہوتی ہے۔دوسرا، ‘مثبت بیانیہ’ (Empowerment Narrative): ہمیں ‘مظلومیت’ کے بیانیے سے نکل کر ‘ترقی اور صلاحیت’ کے بیانیے کی طرف جانا ہے۔ مسلم کمیونٹی میڈیا کو یہ دکھانا چاہیے کہ کیسے عام لوگ اپنے مسائل حل کر رہے ہیں، کون سے تعلیمی ماڈلز کامیاب ہیں، اور کیسے قانونی بیداری پیدا کی جا سکتی ہے۔تیسرا، قانونی بیداری: گودی میڈیا کے متبادل چینلز قانونی بیداری پر توجہ نہیں دیتے۔ ایک باقاعدہ کمیونٹی میڈیا قانونی مشاورتی پروگرام، اسکیموں کی تفصیلات، اور سول رائٹس پر مبنی مواد پیش کر سکتا ہے جو کمیونٹی کی زمینی زندگی بدلنے میں مددگار ہو۔ 
چوتھا، تعمیری اور ڈیٹا پر مبنی صحافت (Constructive and Data-Driven Journalism): مثال کے طور پر ‘انتخابی سیاست’ کے ساتھ ساتھ ‘تعلیمی پالیسیوں ‘ اور ‘ہنر مندی’ پر باقاعدہ سیکشن ہو۔ جذباتی اپیل کرنے کے بجائے اعداد و شمار، ریسرچ رپورٹس، اور تعلیمی اعداد و شمار کو بنیاد بنائیں۔ یہ چیز آپ کو دیگر متبادل میڈیا چینلز سے الگ اور باوقار (Credible) بنائے گی۔
مگر ساتھ ہی مسلم کمیونٹی میڈیا کا مطلب ‘مسلمانوں کے لیے’ ہونا چاہیے، نہ کہ ‘صرف مسلمانوں کا’۔ آپ کی رپورٹنگ میں ملک کے دیگر طبقات کے ساتھ یکجہتی اور انسانی حقوق کی بات بھی ہونی چاہیے، تاکہ یہ پلیٹ فارم ایک ‘گھیٹو’ (Ghetto) نہ بنے بلکہ ایک قومی آواز بنے۔ موجودہ متبادل میڈیا مسلمانوں کے ‘وکیل’ کے طور پر کام کر سکتا ہے، لیکن ایک فعال کمیونٹی میڈیا ‘معمار’ کے طور پر کام کرتا ہے۔
کمیونٹی میڈیا دراصل چار ستونوں پر قائم ہونا چاہیے:شرکت (Participation)اس میں صرف ایڈیٹر یا اینکر نہ بولے، بلکہ اس میں عام آدمی، مقامی دانشور، اور ماہرین کو بھی اپنی بات رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے مقامی پن (Proximity): یہ قومی سیاست سے زیادہ مقامی مسائل، مقامی ترقی اور مقامی ثقافت پر توجہ دے۔ اس کی وجہ سے مرکزیت ختم ہوگی اور علاقائی و مقامی سطح پر قابل نوجوانوں کی ضرورت پڑے گی۔تعمیری نقطہ نظر (Constructive approach)یہ صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ متبادل ماڈل پیش کرے۔شفافیت اور احتسابTransparency & Accountability) یہ کمیونٹی کا اپنا ادارہ ہوتا ہے، اس لیے یہ کمیونٹی کے سامنے جوابدہ بھی ہوتا ہے۔
کمیونٹی میڈیا کا مطلب ہے ایک ایسی آواز بننا جو حکمرانوں کو تو سنائی دے ہی، لیکن ساتھ ہی اپنی قوم کے کانوں میں بھی سرگوشی کرے کہ ‘اٹھو، اپنے حالات خود بدلو۔’ جب تک ہم اس کمیونٹی میڈیا کو بطور ‘مشین’ (ادارہ) نہیں بنائیں گے، ہم صرف ‘مائیک’ (آواز) بن کر رہ جائیں گے جو کبھی بھی خاموش کرایا جا سکتا ہے۔ تاہم، کمیونٹی میڈیا اسی وقت کام کر سکتا ہے جب باصلاحیت اور پیشہ ور افراد اس سے جڑیں۔ اس کی کامیابی اسی وقت ہوگی جس میں کمیونٹی میڈیا آواز، اصلاح، اور مکالمہ جیسے کرداروں پر مبنی ہو۔جہاں تک آخری سوال کا تعلق ہے کہ کیا بھارت میں مسلم کمیونٹی میڈیا موجود ہے؟ یقیناً مکمل طور پر خلا نہیں ہے؛ کچھ پروفیشنلز اور اداروں نے اس سمت میں کام کیا ہے، جس میں مکتوب میڈیا، انڈیا ٹومورو، مسلم مرر، ای نیوز روم، انصاف نیوز آن لائن، اور سیاست ڈاٹ کام جیسے ادارے شامل ہیں جنہوں نے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، کمیونٹی میڈیا کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ صرف انگریزی زبان میں صحافت کی جائے، بلکہ انگریزی، اردو اور ہندی کے ساتھ بھارت کی تمام زبانوں میں کمیونٹی میڈیا کی ضرورت ہے تاکہ مقامی سطح سے لے کر اوپری سطح تک مسلمانوں کے تعمیری کردار کو سامنے لایا جا سکے۔ یہ سب اسی وقت ہو سکتا ہے جب مسلم کمیونٹی دوسروں کو ہیرو بنانے کے بجائے اپنے نوجوانوں کی مدد کرے اور اس شعبے میں کام کرنے والے افراد کی معاونت کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *