آبادیاتی تبدیلی کی کمیٹی میںماہرِ آبادیات کی عدم شمولیت

صرف غیر قانونی تارکینِ وطن توجہ مرکوز کرنا: سیاسی ایجنڈا کا حصہ

حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی کمیٹی میں کسی ماہرِ آبادیات (Demographer) کی عدم شمولیت نے ان نتائج پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو مستقبل کی پالیسی سازی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، جب 2027 کی مردم شماری کا عمل پہلے ہی جاری ہے، تو اس کے متوازی ایک نئی مشق شروع کرنے اور صرف غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ نقطۂ نظر گرتی ہوئی شرحِ پیدائش، آبادی کے تیزی سے معمر ہونے اور دیگر اہم آبادیاتی رجحانات کو نظر انداز کرتا ہے۔

سراوستی داس گپتا : بشکریہ دی وایر

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے غیر قانونی ہجرت اور دیگر غیر معمولی عوامل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، لیکن اس میں ایک بھی ماہرِ آبادیات شامل نہیں کیا گیا۔ اس صورت حال نے نہ صرف ان سفارشات اور نتائج کے معیار پر سوالات پیدا کر دیے ہیں جن کی بنیاد پر مستقبل کی پالیسیاں مرتب کی جائیں گی، بلکہ اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ جب مردم شماری 2027کا عمل جاری ہے تو ایسی الگ کمیٹی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

کمیٹی کی تمام تر توجہ غیر قانونی ہجرت پر مرکوز ہے، جبکہ شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی، آبادی کے معمر ہونے اور علاقائی آبادیاتی عدم توازن جیسے اہم مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ وہ عوامل ہیں جو ملک میں حقیقی اور دیرپا آبادیاتی تبدیلیوں کا سبب بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ کوشش اصل آبادیاتی چیلنجز سے توجہ ہٹانے اور اعداد و شمار کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہےأ

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیے ہیں جب بی جے پی گزشتہ چند برسوں سے آبادی کے دھماکے (Population Explosion) کے بیانیے کو فروغ دیتی رہی ہے، حالانکہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (NFHS-6) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی مجموعی شرحِ پیدائش (TFR) 2.0تک آ چکی ہے، جو متبادل سطح (Replacement Level) 2.1سے کم ہے۔ اگرچہ اس صورتحال نے آبادی کے معمر ہونے اور مختلف ریاستوں میں آبادی کی شرحِ نمو میں تفاوت جیسے خدشات کو جنم دیا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق بی جے پی نے ان مسائل کے بجائے مصنوعی آبادیاتی تبدیلی کے خدشے کو نمایاں کرتے ہوئے خوف اور غیر ملکیوں کے خلاف منفی جذبات کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔

انگریزی ویب سایٹ دی وائر نے ماہرینِ آبادیات، آبادیاتی تجزیہ کاروں، ماہرینِ سیاسیات اور صحت و آبادی سے متعلق اعداد و شمار کا مطالعہ کرنے والے ماہرین سے گفتگو کی۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی ایسی عارضی کمیٹیاں نہ صرف مردم شماری جیسے ادارہ جاتی عمل کو نظر انداز کرتی ہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی بیانیے کو بھی تقویت دیتی ہیں۔ ان کے مطابق غیر قانونی ہجرت کو ملک کا واحد آبادیاتی چیلنج قرار دینا گرتی ہوئی شرحِ پیدائش، معمر ہوتی آبادی اور دیگر اہم مسائل کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی عوامل بھارت کے آبادیاتی مستقبل اور اس کے آبادیاتی فائدے (Demographic Dividend) پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جو ملک کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔

کمیٹی کے ارکان کون ہیں؟

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے 26 مئی کو اعلان کردہ اس کمیٹی کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس پرکاش پربھاکر ناولیگر ہوں گے۔ کمیٹی میں مردم شماری کے کمشنر مرتونجے کمار نارائن، ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر درگا شنکر مشرا، ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر بالاجی سریواستو اور وزیرِ اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکن شمیکا روی شامل ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری (Foreigners-I) اس کے رکن سکریٹری (Member Secretary) ہوں گے۔ کمیٹی ایک سال کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پونم متریجا نے کہاکہ آبادیاتبدیلی کے کسی بھی سنجیدہ مطالعے کے لیے آبادیاتی مہارت ناگزیر ہے۔ ڈیموگرافی ایک مخصوص علمی شعبہ ہے جس میں شرحِ پیدائش، شرحِ اموات، ہجرت، عمرانی ساخت، آبادی کے تخمینے، مردم شماری کے طریقۂ کار اور سروے کے نتائج کی تشریح شامل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ

مثبت بات ہے کہ کمیٹی میں شمیکا روی شامل ہیں، جو ایک ماہرِ اقتصادیات ہیں، کیونکہ آبادی میں تبدیلی کے لیبر مارکیٹ، عوامی مالیات، علاقائی ترقی اور سماجی تحفظ پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم، کسی ماہرِ آبادیات کی عدم موجودگی ایک نمایاں خلا ہے۔

انہوں نے خبردار کیاکہ ماہرِ آبادیات کے بغیر یہ خطرہ موجود ہے کہ پیچیدہ آبادیاتی تبدیلیوں کی تشریح محدود یا
انتخابی انداز میں کی جائے۔ بھارت کی آبادیاتی صورتِ حال کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، جن میں شرحِ پیدائش میں کمی، عمر رسیدہ آبادی، اندرونی ہجرت، شہری کاری، تعلیم، افرادی قوت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور علاقائی ناہمواریاں شامل ہیں۔ ماہرینِ آبادیات کے علاوہ ہجرت کے ماہرین، ماہرینِ شماریات، صحتِ عامہ کے ماہرین، صنفی امور کے ماہرین، ریاستی حکومتوں کے نمائندے اور سول سوسائٹی کی آراء بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

کمیٹی کے ارکان کا پس منظر

جسٹس پی پی ناولیگر، جنہوں نے حال ہی میں اعتراف کیا تھا کہ آبادیات اور غیر قانونی ہجرت ان کے لیے نسبتاً نئے موضوعات ہیں، مدھیہ پردیش کے لوک آیوکت کے طور پر ایک متنازع دور گزار چکے ہیں۔ 2009 میں جب انہیں شیوراج سنگھ چوہان حکومت کے دور میں لوک آیوکت مقرر کیا گیا تو آر ٹی آئی کارکن اجے دوبے نے الزام عائد کیا تھا کہ تقرری کے لیے کوئی باقاعدہ سلیکشن پینل تشکیل نہیں دیا گیا اور نہ ہی مقررہ طریقۂ کار پر عمل کیا گیا۔ بعد ازاں ان کے ماتحت لوک آیوکت نے وزیرِ اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور ان کی اہلیہ سادھنا سنگھ کو ڈمپر مشینوں کی خریداری اور لیز سے متعلق ایک مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں کلین چٹ دے دی تھی۔

ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر درگا شنکر مشرا اتر پردیش کے چیف سکریٹری رہ چکے ہیں۔ 2021 سے 2024 کے درمیان ان کی مدتِ ملازمت میں تین مرتبہ توسیع کی گئی، جس کے بعد 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ان کی جگہ منوج کمار سنگھ کو مقرر کیا گیا۔

بالاجی سریواستو 1988 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں اور AGMUT کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ پڈوچیری کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (DGP) بھی رہ چکے ہیں۔ 2021 میں راکیش آستھانا کی تقرری سے قبل انہیں دہلی پولیس کمشنر کا اضافی چارج بھی سونپا گیا تھا۔

2020 میں شمیکا روی سرقۂ ادبی (Plagiarism) کے ایک تنازع میں اس وقت گھر گئیں جب انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والے ان کے ایک مضمون کے بعض حصے ماہرِ اقتصادیات پال رومر کے کام سے ماخوذ پائے گئے، مگر ان کا حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اخبار نے مضمون واپس لے لیا اور روی نے اس پر معذرت بھی کی۔

مردم شماری کے کمشنر مرتونجے کمار نارائن، جو اس کمیٹی کے رکن ہیں، کو 2024 میں دو سال کی توسیع دی گئی تھی تاکہ وہ جاری مردم شماری کے عمل کی نگرانی جاری رکھ سکیں۔ وہ 2020 سے وزارتِ داخلہ کے تحت اس عہدے پر فائز ہیں۔

مردم شماری کے ساتھ عدم ہم آہنگی؟

اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل ایسے وقت میں کی گئی ہے جب تاخیر کا شکار دہائی وار مردم شماری (Decennial Census)، جو 2021 میں منعقد ہونی تھی، اب 16 سال کے طویل وقفے کے بعد شروع ہو رہی ہے۔

مردم شماری کے تازہ اعداد و شمار کی عدم دستیابی کے باعث اس کمیٹی کے ممکنہ نتائج اور سفارشات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبادی کی ساخت میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا درست اندازہ صرف مردم شماری کے اعداد و شمار سے ہی لگایا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ جانچ ممکن ہوتی ہے کہ ان تبدیلیوں میں غیر قانونی ہجرت کا کتنا کردار ہے۔

حیدرآباد یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے پروفیسر کے کے کیلاش نے کہاکہ ایسی عارضی کمیٹیاں مردم شماری جیسے مستقل اور معتبر اداروں کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی نظام کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ بنیادی اعداد و شمار (Baseline Data) کے بغیر آپ قدرتی اور غیر قدرتی آبادیاتی تبدیلیوں میں فرق کیسے کر سکتے ہیں؟أ

پونم متریجا کے مطابق، اگرچہ مردم شماری کسی بھی سنجیدہ آبادیاتی تجزیے کی بنیادی ضرورت ہے، تاہم صرف اسی کی بنیاد پر غیر قانونی ہجرت کی شناخت نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہاکہ اس مقصد کے لیے ایک الگ، شفاف اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار درکار ہے، جس میں مردم شماری کے اعداد و شمار، انتظامی ریکارڈ، سرحدی انتظام سے متعلق معلومات، مقامی سطح کے مطالعات اور آزاد ماہرینِ آبادیات کی آراء کو شامل کیا جائے۔ اس لیے کمیٹی کو مردم شماری کے عمل کا متبادل بننے کے بجائے اسے بنیادی ثبوت کے طور پر استعمال کرنا چاہیے اور اس کی بنیاد پر ایک معتبر طریقۂ کار وضع کرنا چاہیے۔

اعداد و شمار کا سیاسی استعمال اور بی جے پی کا بدلتا ہوا بیانیہ کمیٹی کی تشکیل کے بعد سے ہی امت شاہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ یہ کمیشن ملک میں مصنوعی آبادیاتی تبدیلی کا مطالعہ کرے گا۔

28 مئی کو گاندھی نگر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آبادی میں مصنوعی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور کمیٹی یہ بھی سفارش کرے گی کہ آیا اس سلسلے میں کسی نئے قانون کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ہم مصنوعی آبادیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔2024 کے بعد سے بی جے پی نے جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور بہار سمیت متعدد ریاستوں کے انتخابات میں غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کو اپنے اہم انتخابی موضوعات میں شامل رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے قبل بھی، جس میں کہا گیا تھا کہ شہریت کے بارے میں حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن نہیں بلکہ مرکزی حکومت کرے گی، بی جے پی کی زیرِ قیادت بعض ریاستی حکومتوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران خارج کیے گئے ناموں کی بنیاد پر فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کی فہرستوں میں تبدیلیاں شروع کر دی تھیں۔

بہار کے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اپریل میں دعویٰ کیا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں 22 لاکھ راشن کارڈ منسوخ کیے گئے۔ دوسری جانب مغربی بنگال کے وزیر اعلیسویندو ادھیکاری نے اعلان کیا تھا کہ مبینہ دراندازوں کو عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے بارڈر سکیورٹی فورس (BSF) کے حوالے کیا جائے گا۔

اب جبکہ کمیٹی “مصنوعی آبادیاتی اضافے” کا جائزہ لے رہی ہے، اس کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کے امکانات کو بھی جنم دیتے ہیں۔

پروفیسر کیلاش کے مطابق اعداد و شمار خوف اور ہنگامی کیفیت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے سخت اقدامات کا جواز پیدا کیا جا سکتا ہے جو معمول کے حالات میں قابلِ قبول نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ صورتحال غیر ارادی طور پر اپوزیشن کے لیے بھی سوالات اٹھانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر اعداد و شمار واقعی بہت زیادہ ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مرکزی حکومت گزشتہ بارہ برسوں کے دوران سرحدی نگرانی اور سلامتی کے اپنے فرائض مؤثر انداز میں انجام دینے میں ناکام رہی ہے۔”

گزشتہ چند برسوں کے دوران بی جے پی نے آبادی کے مسئلے پر اپنا بیانیہ نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ 2019 اور 2020 میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کی تقریروں میں بالترتیب “آبادی کے دھماکے” اور “آبادی پر قابو پانے” کی ضرورت پر زور دیا تھا، جبکہ 2025 میں انہوں نے “ہائی پاورڈ ڈیموگرافی مشن” کے قیام کا اعلان کیا۔

اس سے ایک سال قبل، 2024 میں، وزیرِ خزانہ نرملہ سیتا رمن نے کہا تھا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور آبادیاتی تبدیلیاں “وکست بھارت” کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ اسی دوران نریندر مودی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران ہندی پٹی میں “زیادہ بچے پیدا کرنے والوں” کے خلاف بیانات دیے تھے، جنہیں ناقدین نے مسلمانوں کی جانب اشارہ قرار دیا تھا۔

آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق اس کمیٹی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مودی حکومت لوک سبھا میں ایک آئینی ترمیم منظور کرانے میں ناکام رہی، جس کا مقصد آبادی کے لحاظ سے بڑی ریاستوں کو زیادہ نمائندگی فراہم کرنا تھا۔

بھارت کے حقیقی آبادیاتی چیلنجز دی وائر سے گفتگو کرنے والے ماہرین کے مطابق بھارت کو جن آبادیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، وہ غیر قانونی ہجرت کے مسئلے سے کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہیں۔

پونم متریجا کے مطابق بھارت کے اصل آبادیاتی مسائل کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ بیشتر ریاستوں میں شرحِ پیدائش پہلے ہی متبادل سطح سے نیچے آ چکی ہے۔ کئی ریاستیں تیزی سے عمر رسیدہ آبادی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ اندرونی ہجرت لیبر مارکیٹ اور شہری ڈھانچوں کو تبدیل کر رہی ہے۔ دیہی اور شہری معیشتوں کے درمیان فرق بھی مسلسل پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ خواتین کی تعلیم، روزگار، تولیدی صحت، نگہداشت کے کام اور سماجی تحفظ جیسے عوامل بھارت کے آبادیاتی مستقبل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔”

انہوں نے خبردار کیاکہ اگر آبادیاتی تبدیلی کو صرف غیر قانونی ہجرت یا مذہبی و سماجی عدم توازن کے زاویے سے دیکھا جائے گا تو ہم ان بنیادی پالیسی سوالات کو نظر انداز کر بیٹھیں گے جو درحقیقت بھارت کی آئندہ ترقی کی سمت کا تعین کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *