• Skip to primary navigation
  • Skip to main content
  • Skip to primary sidebar

انصاف نیوز نیٹ ورک

  • سیاسیات
  • معیشت
  • قانون
  • ادب وثقافت
  • تجزیہ
  • خصوصی رپورٹ
  • مسلم ورثہ
  • مجھے ہے حکم اذاں

بی جے پی بنگال کی تقسیم کا جشن کیوں منا رہی ہے؟

June 24, 2026 by Insaf News Network Leave a Comment

شعیب دانیال

1940 میں محمد علی جناح لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کے لیے کھڑے ہوئے اور وہ نظریہ پیش کیا جو بعد میں ’’دو قومی نظریہ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ پاکستان کے مستقبل کے بانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ تصور محض ایک خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قومیت تشکیل دے سکتے ہیں کیونکہ وہ ’’دو مختلف مذہبی فلسفوں، سماجی روایات اور ادبی روایتوں‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔

جناح کی یہ تقریر برصغیر کی تاریخ کی سب سے اثر انگیز تقریروں میں شمار کی جاتی ہے۔ محض سات برس بعد برطانوی ہند کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا۔ یہ تقسیم نہ صرف خونریز تھی بلکہ اس کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کی سیاست اور معاشرت پر گہرے نقوش چھوڑے ہوئے ہیں۔

لاہور 1940 سے بنگال 2026 تک
اس پس منظر میں یہ بات حیران کن محسوس ہوتی ہے کہ مغربی بنگال کے ایک وزیر آج اسی طرزِ فکر کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سواپن داس گپتا نے اپنے ایک مضمون میںhttps://www.telegraphindia.com/opinion/myth-punctured-the-tremors-of-west-bengal-day-are-fascinating-prnt/cid/2166026 استدلال کیا کہ ’’مذہبی خلیج کے باوجود ایک مشترکہ ثقافتی برادری‘‘ کا تصور دراصل ایک ’’افسانہ‘‘ تھا۔ چند پیراگراف بعد انہوں نے دوبارہ لکھا کہ ’’مشترکہ بنگالی شناخت ایک خوش آئند لیکن مفروضاتی تصور تھی‘‘۔ان کے مطابق اگرچہ بنگال کے ہندو اور مسلمان ایک ہی زبان بولتے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ’’دو الگ برادریاں‘‘ تھیں جن کے درمیان کوئی بامعنی سماجی یا فکری مکالمہ موجود نہیں تھا۔

داس گپتا کا یہ مؤقف دراصل جناح کے لاہور خطاب کی بازگشت معلوم ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہندو اور مسلمان بنیادی طور پر ’’الگ‘‘ ہیں اور ان کے درمیان کوئی حقیقی مشترکہ شناخت موجود نہیں، تو یہ بات جناح کے اس دعوے سے بہت مختلف نہیں رہتی کہ دونوں ’’دو مختلف مذہبی فلسفوں، سماجی رسم و رواج اور ادبی روایتوں‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔

بھارت نے سرکاری طور پر ہمیشہ دو قومی نظریے کو مسترد کیا ہے، اس لیے یہ مؤقف بظاہر متضاد محسوس ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوتوا کی سیاست میں دو قومی نظریے کی بازگشت اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود یہ نظریہ۔ ونائک دامودر ساورکر، جنہیں ہندوتوا نظریے کا معمار سمجھا جاتا ہے، اس معاملے میں بالکل واضح تھے۔ 1943 میں انہوں نے کہا تھا:

’’مجھے مسٹر جناح کے دو قومی نظریے سے کوئی اختلاف نہیں۔ ہم ہندو اپنی جگہ ایک قوم ہیں، اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔‘

ساورکر اس سے بھی آگے گئے۔ ان کے تصور میں مسلمان صرف ایک الگ قوم نہیں تھے بلکہ ایک ایسی اقلیت تھے جسے برابر کے شہری حقوق حاصل نہیں ہونے چاہئیں۔ ایک امریکی صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ مسلمان ہندوستان میں اسی طرح اقلیت ہوں گے جیسے امریکہ میں سیاہ فام تھے۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ میں نسلی امتیاز قانونی اور سماجی سطح پر رائج تھا۔

نظریے سے پالیسی تک

بی جے پی پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ اس نے ساورکر کے اسی تصور کو عملی سیاست میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ ناقدین کے مطابق بی جے پی کے زیر اقتدار کئی ریاستوں میں مسلمانوں کو دیگر شہریوں کے مقابلے میں کم تحفظ اور کم مواقع حاصل ہیں۔اس صورتحال کا سب سے واضح اثر نظامِ انصاف میں نظر آتا ہے۔ معمولی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والے مسلمانوں کو بھی بعض اوقات سخت یا غیر متناسب سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ کئی معاملات میں ماورائے عدالت اقدامات کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

اتر پردیش جیسی ریاستوں میں متعدد مواقع پر ایسے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں جرائم کے ملزم مسلمانوں کے مکانات بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیے گئے۔ اسی طرح پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والوں میں مسلمانوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے زیادہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

دوسری جانب مسلمانوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے نرم رویے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس فضا نے بعض شدت پسند عناصر کو اس قدر بے خوف کر دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کی ویڈیوز خود سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوگی۔

عدلیہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ میں ایک عدالت نے گنگا کے کنارے چکن کھانے کے الزام میں گرفتار مسلمانوں کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اگر یہی عمل کسی اور مذہبی شناخت رکھنے والے افراد نے کیا ہوتا تو شاید ردعمل مختلف ہوتا۔

2019 میں منظور ہونے والے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کو بھی ناقدین اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب بھارتی شہریت کے قانون میں مذہب کو ایک باقاعدہ عنصر کے طور پر شامل کیا گیا۔ اس وقت بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے یہ اشارے دیے تھے کہ اگر CAA کو قومی شہری رجسٹر (NRC) کے ساتھ نافذ کیا گیا تو بھارتی مسلمانوں کی شہریت کے دعووں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بعد میں حالات نے ایک مختلف رخ اختیار کیا۔ مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کی ’’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘‘ (SIR) مہم کے دوران یہ الزام سامنے آیا کہ مسلم ووٹروں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا اور ان کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے۔ بعد ازاں ریاست میں بی جے پی حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات بھی کیے گئے جن کے نتیجے میں فہرست سے خارج ہونے والے افراد کو بعض فلاحی اسکیموں اور پسماندہ طبقات کے لیے مخصوص سہولتوں سے محروم ہونا پڑا۔

1947 کی تقسیم کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش

اسی پس منظر میں یہ بات زیادہ حیران کن نہیں ہے کہ بی جے پی اب تقسیمِ ہند کو ایک مثبت تاریخی واقعے کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کے ابتدائی فیصلوں میں سے ایک 20 جون کو ’’مغربی بنگال ڈے‘‘ قرار دینا تھا۔یہ وہی تاریخ ہے جب 1947 میں بنگال اسمبلی کا اجلاس تقسیمِ بنگال کے سوال پر منعقد ہوا تھا۔

بی جے پی اس دن کو اس دلیل کے ساتھ مناتی ہے کہ اسی فیصلے نے مغربی بنگال کو پاکستان کا حصہ بننے سے بچایا اور اس کا بڑا کریڈٹ اپنے نظریاتی پیش رو شیاما پرساد مکھرجی کو دیتی ہے۔ تاہم تاریخی حقائق اس دعوے کو مکمل طور پر تقویت نہیں دیتے۔

حقیقت یہ ہے کہ 20 جون کی ووٹنگ بڑی حد تک ایک رسمی کارروائی تھی۔ تقسیم کا بنیادی خاکہ پہلے ہی ماؤنٹ بیٹن پلان کے ذریعے طے کیا جا چکا تھا۔ اس منصوبے کے مطابق بنگال اسمبلی کو مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہو کر الگ الگ ووٹ دینا تھا۔ اگر دونوں میں سے صرف ایک حصہ بھی تقسیم اور بھارت کے حق میں فیصلہ کرتا تو تقسیم عمل میں آ سکتی تھی۔

کانگریس پہلے ہی ماؤنٹ بیٹن منصوبے کی منظوری دے چکی تھی اور اسمبلی کے مغربی حصے میں اس کی واضح اکثریت موجود تھی۔ اس لیے 20 جون کی ووٹنگ عملی طور پر ایک طے شدہ عمل کی توثیق تھی۔

مزید یہ کہ شیاما پرساد مکھرجی کی جماعت ہندو مہاسبھا کے پاس اسمبلی میں صرف ایک نشست تھی۔ اس اعتبار سے ووٹنگ کے نتائج پر ان کا اثر محدود تھا۔ تاریخی ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مکھرجی بنگال کی تقسیم کے حامی تھے، خواہ پورے ہندوستان کی تقسیم نہ بھی ہوتی۔ اس لیے یہ کہنا کہ انہوں نے صرف بنگال کو پاکستان میں شامل ہونے سے بچانے کے لیے تقسیم کی حمایت کی، تاریخی اعتبار سے مکمل طور پر درست نہیں۔

آزادی کے بعد بھارت کا سرکاری مؤقف ہمیشہ یہ رہا کہ تقسیم ایک افسوسناک لیکن ناگزیر حقیقت تھی، جسے کانگریس قیادت نے مجبوری کے تحت قبول کیا۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ تقسیم کو دو قومی نظریے کی کامیابی اور اپنی قومی شناخت کی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔

تاہم 20 جون کو ’’مغربی بنگال ڈے‘‘ قرار دیے جانے کے بعد ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بھی پہلی بار تقسیمِ ہند کو ایک جشن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی محض ایک تاریخی تعبیر نہیں بلکہ قومی شناخت، شہریت اور مذہبی تعلق کے بارے میں ایک نئے سیاسی بیانیے کی عکاسی کرتی ہے۔

بشکریہ اسکرول ڈاٹ کام

Filed Under: Video

Reader Interactions

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Primary Sidebar

Recently Posts

  • بنگال میں اقلیتی فنڈ میں بھاری کٹوتی، اسکالرشپ پروگرام خطرے میں
  • بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام برکت اللہ یونیورسٹی ہی رہے گا۔ نام تبدیل نہیں ہوگا
  • نوآکھالی میں گاندھی کی ہم آہنگی کی تلاش
  • یہ ہمارے وجود کا سوال ہے. مساجد کے انہدام پر اے پی سی آرکا انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ
  • بی جے پی بنگال کی تقسیم کا جشن کیوں منا رہی ہے؟

Categories

  • Video
  • ادب وثقافت
  • تجزیہ
  • خصوصی رپورٹ
  • سیاسیات
  • قانون
  • مسلم ورثہ
  • نور اللہ جاوید کے کالمس
Follow us
  • Facebook
  • YouTube
  • WhatsApp

Pages

Copyright © 2026 · News Pro on Genesis Framework · WordPress · Log in