ہندتو تنظیم کی دھمکی دینے کے بعد مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کے ارلا گائوں میں آبادمسلم خاندان کا نقل مکانی کرنے کرنے کا اعلان

lok scaled

انصاف نیوز نیٹ ورک:

مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کے ارلا گائوں میں پیش آنے والے تشدد کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیاہے ۔متاثرہ خاندانوں نے پولیس پر کارروائی میں تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے اپریل کے واقعے کے سلسلے میں بمبئی ہائی کورٹ کے کولہاپور بنچ سے رجوع کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔*

رواں سال 7 جون کو مہاراشٹر کے ضلع سانگلی کے گاؤں آرلا سے تعلق رکھنے والے مسلم خاندانوں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور بمبئی ہائی کورٹ کے کولہاپور بنچ کی جانب روانہ ہو گئے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ عدالت کے باہر دھرنا دے کر احتجاج کریں، کیونکہ ان کا الزام تھا کہ اپریل میں ایک کٹر ہندو تنظیم ’’شری شیو پرتیشتھان ہندوستان‘‘ سے وابستہ ہجوم کی جانب سے ان کے خاندان کے افراد پر کیے گئے حملے کے بعد پولیس نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے۔

اس سال قبل بھی گائوں والوں نے احتجاج کرنے کیلئے ہائی کورٹ کا گھیرائو کرنے کیلئے مارچ کیا تھا۔تاہم پولس انتظامیہ مارچ کو راستے ہی میں روک دیا اور آٹھ دن کے اندر کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے دی گئی تحریری یقین دہانیوں پر اب تک عمل نہیں کیا گیا، جس کے باعث وہ دوبارہ ہائی کورٹ کی طرف مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ڈانگے خاندان پر 28 اپریل کو آرلا گاؤں میں واقع ان کی چکن کی دکان پر ایک معمولی تنازع کے بعد حملہ کیا گیا تھا۔ پڑوسی گاؤں پاڈلی سے نوجوانوں کا ایک گروپ تفریحی اجتماع کے لیے آرلا کے قریب آیا تھا۔ انہوں نے حسین ڈانگے کی دکان سے چکن خریدا اور کھانا پکانے کے لیے ایک برتن، ڈھکن اور کڑچھی بھی لے گئے۔ جب وہ برتن واپس کرنے آئے تو مفت لے جایا گیا ڈھکن اور کڑچھی غائب تھے۔

حسین کے بھائی عادل ڈانگے نے بتایا کہ جب وہ لڑکے برتن واپس کرنے آئے تو وہ مکمل طور پر نشے میں تھے اور گالم گلوچ کرنے لگے۔ میرے بھائی نے انہیں وہاں سے چلے جانے کو کہا۔تاہم، ملزمان کچھ دیر بعد مزید افراد کے ساتھ واپس آئے اور معاملہ شدت اختیار کر گیا۔ آرلا گاؤں کے چند مقامی نوجوان — کیدار پرگاوکر، روہت پیٹکر، ساحل پاٹل اور سمت پاٹل — بھی موقع پر پہنچ گئے۔کیدار پرگاوکر کے انسٹاگرام پیج کے مطابق، وہ سمبھاجی بھیڈے کی قیادت میں چلنے والی کٹر ہندو تنظیم ’’شری شیو پرتیشتھان ہندوستان‘‘ سے وابستہ ہے۔ اس کے انسٹاگرام بائیو میں آر ایس ایس (RSS) کا ذکر بھی موجود تھا، جبکہ اس کے صفحے پر تلواریں اٹھائے مارچ کرنے والے افراد کی ویڈیوز بھی موجود تھیں۔

عابد ڈانگے نے کہاکہ عابد کے مطابق، ان کے بھائی حسین نے پولیس کو طلب کیا، جو موقع پر پہنچ کر فریقین کے درمیان معاملہ سلجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، اسی دوران اس گروپ نے حسین ڈانگے پر چاقو سے حملہ کر دیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) میں داخل کرایا گیا۔

اسلام پور کے ’’آدھار ہیلتھ کیئر سینٹر‘‘ کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق، ان کے بائیں بازو پر چاقو کا تقریباً 15 سینٹی میٹر گہرا زخم آیا تھا، جس کے نتیجے میں عضلات اور النر شریان (Ulnar Artery) متاثر ہوئی تھی۔

عابد کا کہنا ہے کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی شکایت میں اس کا ذکر شامل نہیں کیا گیا۔ اس حملے میں عابد اور خاندان کے دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔

ایف آئی آر اور پولیس کا مؤقف

حملے کے بعد ایک ایف آئی آر درج کی گئی اور پولیس کے مطابق 16 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم، ابتدائی ایف آئی آر میں اقدامِ قتل کی دفعہ (BNS 109) شامل نہیں کی گئی تھی۔

عابد نے الزام لگایاکہ پولیس نے ہمارا بیان اسی طرح ریکارڈ نہیں کیا جس طرح ہم نے دیا تھا۔ ہم نے انہیں بتایا تھا کہ حملہ آور ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ تمام اصل ملزمان کے نام شامل نہیں کیے گئے اور کیس کو کمزور کرنے کے لیے کچھ غیر متعلقہ نام شامل کر دیے گئے۔ بعد میں 4 مئی کو اسپتال کی رپورٹ آنے پر اقدامِ قتل کی دفعہ شامل کی گئی، لیکن 18 مئی کو مقامی عدالت میں سماعت کے دوران یہ دفعہ موجود نہیں تھی اور ملزمان کو ضمانت مل گئی۔”

اس کے جواب میں کوکرڈ پولیس اسٹیشن کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر راہول اتیگرے نے کہاکہ ابتدا میں وہ آئی سی یو میں تھا اور ڈاکٹر نے ہمیں بتایا تھا کہ دل سے ہاتھ کی طرف جانے والی شریان متاثر ہوئی ہے۔ مجھے خدشہ تھا کہ اس کی جان جا سکتی ہے، اسی لیے ہم نے فوری طور پر اقدامِ قتل کی دفعہ شامل کی تھی۔ تاہم، ڈاکٹر کی حتمی رائے موصول ہونے کے بعد جب چارج شیٹ داخل کی گئی تو دفعہ 109 ہٹا کر دفعہ 326 (شدید جسمانی نقصان پہنچانا) شامل کی گئی۔ جسم کے کسی نہایت حساس حصے پر حملہ نہیں ہوا تھا، البتہ بازو پر شدید نوعیت کا زخم آیا تھا۔

اتیگرے نے یہ بھی کہا کہ انہیں ملزمان کے شیو پرتیشتھان سے وابستہ ہونے کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔

عابد نے مزید کہاکہ ضمانت ملنے کے بعد ملزمان نے گاؤں میں جشن منایا۔ ریلی نکالی گئی، پٹاخے پھوڑے گئے اور ڈی جے کی دھن پر رقص کیا گیا۔ سڑک کے بیچوں بیچ ان کی پوجا کی گئی۔ جس شخص نے ہم پر چاقو سے حملہ کیا تھا، اسے دودھ سے نہلایا گیا۔ شام کو جشن کے لیے 12 ہزار روپے مالیت کا بکرا ذبح کیا گیا۔ کیا اس ملک میں اب بھی جمہوریت اور آئین کی بالادستی باقی ہے؟ اگر مجرموں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا تو ہم انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟”

دوسری جانب، عابد کے بھتیجے کے خلاف بھی ایک جوابی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس افسر اتیگرے کا کہنا ہےکہ ان کے ایک لڑکے نے ہجوم کے درمیان انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی چلائی، جس سے 20 سے 25 افراد کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی، اور بعد میں گاڑی کو ریورس بھی کیا۔”جبکہ عابد کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھتیجے نے انہیں بچانے کے لیے گاڑی ہجوم کی طرف موڑی تھی، کیونکہ انہیں بے رحمی سے پیٹا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

اتیگرے نے مزید کہاکہ ملزمان کسان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشہ ور مجرم، چور یا فسادی نہیں ہیں۔ ہمارے پاس واقعے کی ویڈیو موجود ہے۔ ہم نے ملزمان کو گرفتار کیا اور قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی۔
عابد کا کہنا ہے کہ انصاف کی امید ماند پڑنے کے بعد خاندانوں نے گاؤں چھوڑنے اور ہائی کورٹ کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایاکہ ہم آٹھ سے نو خاندان اپنا سارا سامان لے کر 7 جون کو کولہاپور کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن ہمیں منزل سے تقریباً 10 سے 12 کلومیٹر پہلے ہی روک دیا گیا اور آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔”

خاندان کی مدد کرنے والے سماجی کارکن شکیل تمبولی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے ان کا مارچ روکا اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ ان کے مطابق، موقع پر ہی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) سے رابطہ کیا گیا اور عابد کی ان سے بات بھی کرائی گئی۔

متاثرہ خاندان نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں۔ کیس کی تحقیقات کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے۔ تفتیشی افسر کو تبدیل کیا جائے۔ کوکرڈ پولیس کے کردار کی تحقیقات کی جائیں۔ واقعے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کی شناخت اور تفتیش کی جائے۔ بی این ایس کی سخت دفعات کا اطلاق کیا جائے۔خاندان کے خلاف درج مبینہ جھوٹا مقدمہ واپس لیا جائے۔ تمام ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے۔

پولیس انتظامیہ کے مطابق، اب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (Dy SP) ویپول پاٹل کو اس کیس کا نیا تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، پاٹل کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک اس حوالے سے کوئی سرکاری حکم نامہ موصول نہیں ہوا۔

دوسری جانب، ڈانگے خاندان کی شکایت پر بمبئی ہائی کورٹ کے پبلک گریوینس سیل نے سانگلی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس توشار دوشی کو معاملے کی جانچ کے لیے خط ارسال کیا ہے، تاہم ایس پی دوشی نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

فی الحال، عابد کی جانب سے اسلام پور ڈسٹرکٹ کورٹ میں ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ ہفتے تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو وہ دوبارہ ہائی کورٹ کی جانب مارچ کریں گے۔

اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے شیو پرتیشتھان ہندوستان (شیرالا تعلقہ) کے سکریٹری نلیش آواٹے نے کہا کہ تنظیم ملزمان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہاکہ “بحیثیت شیو پرتیشتھان، ہم ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔ جب بھی ہندو دھرم یا تنظیمی سرگرمیوں سے متعلق کوئی معاملہ سامنے آتا ہے، ہم اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کیدار ہماری تنظیم کا ایک سرگرم کارکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *