کلکتہ :انصاف نیوز نیٹ ورک
کلکتہ میں درگا پوجا کے موقع پر شمالی کلکتہ کے چوربگان علاقے میں واقع درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ جیسے المناک واقعے میں 18 افراد کی موت اور 25 دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ حادثہ سپتمی کی شام اس وقت پیش آیا، جب دیوی درگا کے درشن کے لیے بڑی تعداد میں لوگ پنڈال میں جمع تھے۔ اسی دوران علاقے میں موسلا دھار بارش شروع ہوگئی، جس کے باعث پنڈال کے اندر اور باہر لوگوں کی بھیڑ بڑھ گئی اور صورتِ حال بے قابو ہوگئی۔
وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے سنیچر کی رات واقعے میں 18 افراد کی موت اور 25 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ زخمیوں کو کلکتہ میڈیکل کالج سمیت مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ حادثے کے بعد چور بگان درگا پوجا کو روک دیا گیا، جبکہ شہر کے دیگر پوجا پنڈالوں میں بھی حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے اقدامات کیے گئے۔
تیز بارش اور بھیڑ کے دباؤ سے افراتفری
موصولہ اطلاعات کے مطابق، سپتمی کی شام شمالی کلکتہ میں اچانک تیز بارش شروع ہوگئی۔ درگا پوجا کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مند دیوی درگا کے درشن کے لیے چوربگان پنڈال پہنچے ہوئے تھے۔ بارش سے بچنے کے لیے لوگ پنڈال کے اندر پناہ لینے کی کوشش کرنے لگے، اس کے نتیجے میں داخلی اور خارجی راستوں پر بھیڑ کا دباؤ بڑھ گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، بارش کے دوران باہر کھڑے لوگوں نے پنڈال میں داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ اندر موجود افراد بھیڑ کے باعث باہر نکلنے میں دشواری محسوس کر رہے تھے۔ اسی دوران دھکم پیل شروع ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورتِ حال سنگین ہوگئی اور کئی افراد بھیڑ کے دباؤ میں کچلے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حادثے میں خواتین، مردوں اور ایک بچے سمیت مختلف عمر کے افراد کی جانیں گئیں۔ زخمیوں میں سے متعدد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
ماں کو آنکھوں کے سامنے کھو دیا، بیٹے کی دردناک روداد
اس حادثے میں متاثر ہونے والوں میں کمارٹولی کے رہنے والے 25 سالہ سونو پال بھی شامل ہیں، جو اپنی ماں کے ساتھ چورباگن پنڈال میں درگا کے درشن کے لیے گئے تھے۔ ان کی ماں بھیڑ کے دباؤ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
سونو پال نے واقعے کی روداد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اپنی ماں کے ساتھ پنڈال میں موجود تھے، اس وقت باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ ان کے مطابق، بارش سے بچنے کے لیے لوگ پنڈال کے اندر رکنا چاہتے تھے، جبکہ باہر موجود افراد اندر داخل ہونے کے لیے دھکم پیل کر رہے تھے۔
سونو کے مطابق، بھیڑ کا دباؤ اتنا بڑھ گیا کہ لوگ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ وہ خود بھی اس دھکم پیل میں پھنس گئے تھے۔ کسی طرح خود کو سنبھالنے کے بعد جب وہ اپنی ماں کے پاس پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی ماں کی موت ہوچکی ہے۔اپنی آنکھوں کے سامنے ماں کو کھونے والے سونو نے کہا کہ وہ خود بھی بھیڑ میں کچلے جا رہے تھے اور انہیں محسوس ہوا کہ شاید وہ بھی اس حادثے میں زندہ نہیں بچ پاتے۔ان کی یہ روداد حادثے کی شدت اور بھیڑ کے دوران پیدا ہونے والی افراتفری کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
انتظامات میں کوتاہی کے الزامات
حادثے کے بعد بعض عینی شاہدین اور مقامی باشندوں نے پنڈال میں بھیڑ کو منظم کرنے کے انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پنڈال میں داخلے اور باہر نکلنے کے راستوں سے متعلق مناسب اعلانات نہیں کیے گئے تھے اور بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے بھی خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں تھے۔
مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پنڈال میں پولیس کی مناسب تعداد تعینات نہیں تھی اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی زیادہ تر وی آئی پی گیٹ تک محدود تھی۔ ان کے مطابق، زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کے لیے بھی فوری اور مؤثر انتظامی مدد کی کمی محسوس ہوئی۔
تاہم، ان الزامات کی سرکاری تحقیقات اور آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ واقعے کی اصل وجوہات اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ خامیوں کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔
وزیر اعلیٰ کا تحقیقات اور کارروائی کا اعلان
وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے حادثے کے بعد اسپتال پہنچ کر زخمیوں کے علاج اور صورتِ حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جائے گی اور واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ حادثے کے بعد چوربگان پوجا کو روک دیا گیا، جبکہ چیتلا اگرانی اور ایلن پارک سمیت کلکتہ کے دیگر پوجا مقامات پر بھی سنیچر کی رات کچھ وقت کے لیے تقریبات روکنے کی اطلاعات ہیں۔
ریاستی حکومت نے شہر کے دیگر بڑے درگا پوجا پنڈالوں میں بھی حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ ان میں تلا پرتیائے اور چیتلا اگرانی جیسے مقامات شامل ہیں۔ انتظامیہ کی توجہ اب بھیڑ کو قابو میں رکھنے، داخلی و خارجی راستوں کو محفوظ بنانے اور کسی دوسرے ناخوش گوار واقعے کو روکنے پر مرکوز ہے۔
امت شاہ کے پروگرام منسوخ، زخمیوں سے اسپتال میں ملاقات کا اعلان
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سنیچر کو اس حادثے کے روز کلکتہ پہنچے تھے۔ اتوار کو ان کے کئی پروگرام طے تھے، جن میں بیلور مٹھ کا دورہ، بالی میں دیش بندھو کلب کی درگا پوجا اور کلکتہ کے مختلف معروف پوجا پنڈالوں کا دورہ شامل تھا۔
ان پروگراموں میں چیتلا 24 پلی، شوبھابازار راج باڑی اور سری بھومی اسپورٹنگ کلب کی پوجا بھی شامل تھی۔ تاہم، چورباگن میں بھگدڑ کے واقعے اور متعدد افراد کی موت کے بعد امت شاہ نے اتوار کے اپنے تمام پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ مغربی بنگال میں اتوار کے اپنے تمام پروگرام منسوخ کرکے زخمیوں کی عیادت کے لیے اسپتال جائیں گے۔ انہوں نے دیوی درگا سے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
امت شاہ نے یہ بھی بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری سے بات کی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور صدر مرمو کا اظہارِ تعزیت
وزیر اعظم نریندر مودی نے چور بگان حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے حادثے پر دکھ کا اظہار کیا اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی۔اس واقعے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی غم اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کے مناسب علاج اور متاثرہ خاندانوں کی مدد پر زور دیا۔
راہل گاندھی نے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے چوربگان درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ کے واقعے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
راہل گاندھی نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ زخمیوں کے مناسب علاج کو یقینی بنایا جائے اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے مغربی بنگال میں کانگریس کارکنوں سے کہا کہ وہ بچاؤ اور راحت کے کاموں میں مدد کریں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے رہیں۔
ملک ارجن کھرگے نے متاثرین کے لیے امداد کا مطالبہ کیا
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔کھرگے نے مغربی بنگال حکومت سے اپیل کی کہ زخمیوں کے لیے مناسب علاج اور بچاؤ کے انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے جاں بحق افراد اور زخمیوں کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکے۔ کھرگے نے ریاستی کانگریس کارکنوں سے متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی اپیل کی۔
زخمیوں کا کولکتہ میڈیکل کالج اور ایس ایس کے ایم میں علاج
حادثے کے بعد زخمیوں کو کلکتہ میڈیکل کالج سمیت مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ کلکتہ میڈیکل کالج کے ذرائع کے مطابق، زخمیوں کو ایمرجنسی آبزرویشن وارڈ میں داخل کرکے علاج شروع کردیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، 11 زخمیوں کو مزید علاج کے لیے ایس ایس کے ایم اسپتال منتقل کیا گیا۔ابتدائی طبی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ جاں بحق افراد میں تین مرد، ایک بچہ اور 13 خواتین شامل ہیں۔ تاہم، ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی حتمی تفصیلات کی سرکاری تصدیق ضروری ہے۔
مغربی بنگال حکومت نے متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کی معلومات کے لیے ایک ٹول فری ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے:
**ہیلپ لائن نمبر: 18003455678**
## بڑے سوالات باقی
چورباگن درگا پوجا پنڈال میں پیش آنے والے اس المناک حادثے نے بڑے مذہبی اور عوامی اجتماعات میں بھیڑ کو منظم کرنے، بارش جیسی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے اور ہنگامی اخراج کے انتظامات پر اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
کیا پنڈال میں لوگوں کی گنجائش کے مطابق انتظامات کیے گئے تھے؟ کیا داخلی اور خارجی راستے کافی تھے؟ کیا پولیس اور منتظمین نے بارش کے دوران بڑھتی ہوئی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے بروقت اقدامات کیے؟ اور کیا زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال پہنچانے کے لیے مناسب انتظام موجود تھا؟
ان سوالات کے جواب تحقیقات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے جائزے کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔ فی الحال سب سے اہم ضرورت زخمیوں کے علاج، متاثرہ خاندانوں کی مدد اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
نام اور عہدوں کی درستگی صاف کریںخبر کو مختصر اور زیادہ مؤثر بنائیںالزامات کو مزید غیر جانب دار بنائیں
