کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے 10 اکتوبر کو دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کیلئے ہونے والے احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے ریاست کے مختلف اضلاع میں اس کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا۔ تنظیم کے مطابق، 8 اکتوبر کو کلکتہ کے نیو ٹاؤن علاقے میں ایک ہوٹل سے پارٹی کارکن شیخ عبدالحفیظ سمیت پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا اور انہیں 13 گھنٹے سے زائد وقت تک پولیس کی تحویل میں رکھا گیا۔
آلٹ نیوز کی 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عبدالحفیظ کے ساتھ حراست میں لیے گئے کارکنوں میں آمنہ خان، ثنا رحمان، سنندا گھوش اور حبیب الاسلام شامل تھے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارکن دہلی جانے والی ٹرین میں سوار ہونے کے لیے کلکتہ آئے تھے۔ انہیں جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے نیو ٹاؤن میں واقع ایک ہوٹل سے پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔
سی جے پی کے مشرقی زون کی رابطہ کار پراکرتی ساہو نے الزام لگایا کہ پولیس نے کارکنوں کو حراست میں لینے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی اور نہ ہی کوئی وارنٹ دکھایا۔ ان کے مطابق، کارکنوں کے اہل خانہ اور تنظیم کے دیگر ارکان کو بھی ان کی موجودگی کے بارے میں فوری طور پر معلومات نہیں مل سکیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی قانونی ٹیم نے نیو ٹاؤن اور راجرہاٹ پولیس اسٹیشنوں سے رابطہ کیا، لیکن ابتدا میں کارکنوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ بعد ازاں قانونی ٹیم کی مداخلت سے معلوم ہوا کہ انہیں ودھان نگر نارتھ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے۔
خواتین کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام
سی جے پی نے الزام لگایا کہ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہونے والے پولیس اہلکاروں نے خواتین کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی کی، ان کے موبائل فون زبردستی لے لیے اور انہیں جسمانی طور پر نقصان پہنچایا۔ تنظیم کے مطابق، آمنہ خان، ثنا رحمان اور سنندا گھوش کو معمولی چوٹیں آئیں۔
عبدالحفیظ نے رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز جاری کرکے الزام لگایا کہ پولیس نے کارکنوں کو تھپڑ مارے اور ان پر دباؤ ڈال کر ایک تحریری بیان پر دستخط کرائے کہ ان کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس نے انہیں زبانی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا۔
عبدالحفیظ کے مطابق پولیس اسٹیشن سے نکلنے کے بعد کارکنوں نے سالٹ لیک کے سیکٹر ون میں واقع سیوا اسپتال میں طبی معائنہ کرایا۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس اہلکار اسپتال تک بھی ان کے پیچھے پہنچ گئے، جس سے انہیں دوبارہ حراست میں لیے جانے کا خوف لاحق ہوا۔سی جے پی نے دعویٰ کیا کہ عبدالحفیظ اور ان کے ساتھیوں کو رات تقریباً ساڑھے نو بجے تک رہا نہیں کیا گیا، حالاں کہ پولیس کی جانب سے شام ساڑھے چھ بجے رہائی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
پولیس کا مؤقف: مارپیٹ کی تردید
ودھان نگر نارتھ پولیس اسٹیشن کے انچارج کشور سنہا چودھری نے آلٹ نیوز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ کارکنوں کو ان کے پولیس اسٹیشن لایا گیا تھا، تاہم انہوں نے مارپیٹ یا بدسلوکی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ان کے مطابق، معاملہ ایک دوسرے پولیس اسٹیشن، ایکو پارک، سے متعلق تھا، جہاں سیاسی کارکنوں کے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایکو پارک پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ کے لیے کارکنوں کو ودھان نگر نارتھ پولیس اسٹیشن لانے کی درخواست کی تھی۔ اس عمل میں ودھان نگر سٹی پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) رینک کے ایک افسر نے بھی درخواست آگے بڑھائی تھی۔
پولیس اسٹیشن انچارج نے کہا کہ وہ اس دوران ایسٹ بنگال اور موہن بگان کے فٹ بال میچ کے سلسلے میں حفاظتی انتظامات کی نگرانی کررہے تھے، اس لیے خود وہاں موجود نہیں تھے۔ تاہم، انہوں نے اپنے ڈیوٹی افسر کو ہدایت دی تھی کہ پولیس اسٹیشن کے احاطے میں کسی قسم کی جھڑپ نہ ہو۔
ان کے مطابق، ڈپٹی کمشنر رینک کی ایک خاتون افسر اور ایکو پارک پولیس اسٹیشن کے اہلکار بھی پوچھ گچھ کے عمل میں شامل تھے۔ انہوں نے نیو ٹاؤن کے ڈپٹی کمشنر جیوتیرموئے رائے کی شمولیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے پولیس اسٹیشن کے اندر کسی قسم کی مارپیٹ نہیں ہوئی۔
ہوڑہ اور دیگر اضلاع میں بھی کارروائی کا دعویٰ
سی جے پی کے مطابق ہوڑہ میں بھی اس کے تین کارکنوں شیخ سراج، رنجیت کولے اور سلام الدین کو جمعرات کی دوپہر تقریباً 12 بجے ان کی رہائش گاہوں سے حراست میں لیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہیں ٹکیہ پاڑہ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، لیکن بعد میں مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا۔
سی جے پی کے مطابق، سلام الدین کو شیب پور، شیخ سراج کو بنکرا اور رنجیت کولے کو جگاچا پولیس اسٹیشن بھیجا گیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ تینوں کو رات ساڑھے گیارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے کے درمیان رہا کیا گیا۔ تاہم، تنظیم کے دو دیگر کارکنوں، سفیان اور اقبال، کے بارے میں رپورٹ تیار کیے جانے کے وقت تک صورت حال واضح نہیں تھی۔
تنظیم نے جنوبی 24 پرگنہ کے سونارپور، ہوڑہ، مالدہ اور مشرقی و مغربی مدناپور میں بھی کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر دھمکانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
پرا کِرتی ساہو کے مطابق، بعض کارکنوں سے فون پر پوچھا گیا کہ آیا وہ 10 اکتوبر کو دہلی جائیں گے، وہاں کیوں جانا چاہتے ہیں اور اس روز کہاں موجود ہوں گے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کے ذریعے کارکنوں کو احتجاج میں شرکت سے روکنے اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عبدالحفیظ کے والد کی موت کا معاملہ بھی زیر بحث
عبدالحفیظ اس سے قبل بھی ایک تنازعے کا مرکز بن چکے ہیں۔ آلٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اگست 2026 میں بانکوڑا ضلع کے کریسونڈا گاؤں میں ان پر مبینہ حملہ ہوا تھا۔ عبدالحفیظ نے الزام لگایا تھا کہ مقامی بی جے پی کارکنوں نے سی جے پی سے ان کی وابستگی اور سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کے سبب انہیں نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق، 13 اگست کو ان کے گھر پر حملہ کیا گیا اور ان کے والد شیخ محمد مافک انہیں بچانے کی کوشش میں زخمی ہوگئے۔ 15 اگست کو ان کے والد کی موت ہوگئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس معاملے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
عبدالحفیظ نے اس واقعے کے بعد کہا تھا کہ وہ اپنے والد کی موت کے معاوضے کے بجائے اپنے گاؤں میں ایک معیاری اسکول کی تعمیر چاہتے ہیں۔
پرامن احتجاج میں شرکت کا حق؟
سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کے کارکن 10 اکتوبر کو دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے سفر کررہے تھے۔ تنظیم نے پولیس کارروائی کو احتجاج میں شرکت روکنے کی کوشش قرار دیا ہے۔پولیس نے کارکنوں کے ساتھ مارپیٹ کے الزامات کی تردید کی ہے، جب کہ سی جے پی نے اپنی شکایات کی تحقیقات اور کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ جمہوری نظام میں پرامن احتجاج کے لیے سفر کرنے والے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔ تاہم، کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات اور پولیس کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
