ای نیوز روم کانکلیو میں گاندھی کے صحافتی نظریات، ڈیجیٹل میڈیا پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کنٹرول، کارپوریٹ میڈیا کی اجارہ داری اور آزاد صحافت کی مالی خودمختاری پر تفصیلی گفتگو-عبدالعزیز اور کمال نین چھپڑیا کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، رقیب الزماں کو ابھرتے ہوئے صحافی کا اعزاز
کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
بھارت کی تحریک آزادی کے دوران مہاتما گاندھی نے عوام تک پہنچنے، سماجی بیداری پیدا کرنے اور سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے اخبارات جاری کیے۔ ان کے لیے اخبارات محض خبروں کی اشاعت کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ صحافت ایک تحریک تھی۔ وہ اسے اقتدار یا کارپوریٹ گھرانوں کے مفادات کی ترجمانی کے بجائے عوامی شعور بیدار کرنے اور سماجی اصلاح کی راہ ہموار کرنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنے اخبارات کے ذریعے عوام سے مکالمہ کیا اور مختلف سماجی و سیاسی مسائل پر اپنے خیالات پیش کیے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں گاندھی کی صحافت کی کیا معنویت ہے؟ موجودہ صحافت کا ایک بڑا حصہ بازار کے دباؤ اور کارپوریٹ مفادات سے متاثر ہے، جب کہ متبادل میڈیا کو ڈیجیٹل پلیٹ فارموں، سوشل میڈیا اور ان کے الگورتھم پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ کیا خبروں کی ترجیحات عوامی مفاد کے تحت طے ہوتی ہیں یا پھر ان کا مقصد الگورتھم کی توجہ حاصل کرنا، زیادہ سے زیادہ کلک سمیٹنا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونا بن چکا ہے؟
کولکاتا میں ہفتے کے روز نیشنل لائبریری کے بھاشا بھون ہال میں ویب سائٹ ’ای نیوز روم‘ کے زیر اہتمام منعقدہ کانکلیو میں گاندھی کی صحافت کی روشنی میں آج کے ذرائع ابلاغ کو درپیش چیلنجوں پر سینئر صحافیوں، دانش وروں، ماہرین تعلیم اور سماجی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کانکلیو کا موضوع تھا: ’’صحافی گاندھی: آج ہندوستان کو ان کے صحافتی وژن کی ضرورت کیوں ہے؟‘‘
مذاکرے میں گاندھی کی صحافتی زندگی، ڈیجیٹل میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے، خبر کی ترسیل پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کنٹرول، کارپوریٹ میڈیا میں ملکیت کے ارتکاز، متبادل میڈیا کی اہمیت اور آزاد صحافت کی مالی خودمختاری جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
گاندھی کی صحافت: عوامی شعور اور سماجی اصلاح کا ذریعہ
پرسار بھارتی کے سابق چیئرمین اور سابق مرکزی سکریٹری برائے ثقافت جواہر سرکار نے مہاتما گاندھی کی صحافتی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گاندھی ہمیشہ قلم اور کاغذ اپنے ساتھ رکھتے تھے اور جب بھی وقت ملتا، لکھنے بیٹھ جاتے تھے۔ انہوں نے گاندھی کی تحریروں کے وسیع ذخیرے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے کام کو ڈیجیٹل شکل دینے میں ہی تقریباً دو سال لگے۔
جواہر سرکار کے مطابق، گاندھی نے ’انڈین اوپینین‘، ’ینگ انڈیا‘، ’نوجیون‘ اور ’ہریجن‘ جیسے اخبارات کی ادارت اور اشاعت کی۔ یہ اخبارات محض سیاسی نظریات کی تشہیر یا تحریک آزادی کے پیغامات عوام تک پہنچانے کے لیے نہیں تھے، بلکہ ان کے ذریعے گاندھی سماجی اصلاح، اخلاقی ذمہ داری، سچائی اور عوامی خدمت جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کرتے تھے۔
گاندھی کے لیے اخبار ایک ایسا وسیلہ تھا جس کے ذریعے وہ عام لوگوں سے رابطہ قائم کرتے، ان کے مسائل پر اظہار خیال کرتے اور معاشرے میں رائج خرابیوں کو چیلنج کرتے تھے۔ ان کی صحافت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ خبر اور تحریر کو محض واقعات کی اطلاع دینے تک محدود نہیں رکھتے تھے، بلکہ انہیں عوامی شعور کی تشکیل اور سماجی تبدیلی کے لیے استعمال کرتے تھے۔
موجودہ ڈیجیٹل دور میں گاندھی کی صحافت کا حوالہ محض تاریخی یاد دہانی نہیں، بلکہ صحافت کے مقصد اور اس کی اخلاقی ذمہ داری پر ازسرنو غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ آج جب کسی خبر کی اہمیت اکثر اس کی فوری مقبولیت سے ناپی جاتی ہے، تو گاندھی کا صحافتی تصور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا مقبول ہونے والی ہر خبر واقعی عوامی مفاد میں بھی ہوتی ہے؟
ڈیجیٹل میڈیا: خبر شائع کرنا آسان، قارئین تک پہنچانا مشکل
آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے موجودہ ڈیجیٹل نظام کے ایک بنیادی تضاد کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق، ٹیکنالوجی نے ایک طرف صحافت کو زیادہ قابل رسائی بنایا ہے، لیکن دوسری طرف خبر کی تقسیم پر اختیار چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کے دور میں مہاتما گاندھی، بال گنگا دھر تلک اور بھگت سنگھ جیسے رہنماؤں اور مجاہدین آزادی کے اپنے اخبارات ہوتے تھے۔ ان اخبارات کے ذریعے وہ اپنے قارئین تک پہنچنے کے لیے اشاعت اور تقسیم کے ذرائع استعمال کرتے تھے۔ اخبار نکالنا اور اسے قارئین تک پہنچانا اس دور میں آسان نہیں تھا، لیکن ادارے اپنی اشاعت کے ذریعے قارئین کے ساتھ نسبتاً براہ راست تعلق قائم کرسکتے تھے۔
آج صورت حال مختلف ہے۔ ڈیجیٹل نیوز ادارے چند لمحوں میں اپنی خبر شائع کرسکتے ہیں، لیکن اس خبر کی رسائی کا انحصار اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارموں اور ان کے الگورتھم پر ہوتا ہے۔ فیس بک اور ایکس جیسے پلیٹ فارموں پر خبر کی نمائش اور رسائی ایسے نظاموں سے متاثر ہوتی ہے جن پر متعلقہ میڈیا اداروں کا براہ راست اختیار نہیں ہوتا۔
پرتیک سنہا نے مارک زکربرگ اور ایلون مسک جیسے بڑے ٹیکنالوجی کاروباری رہنماؤں کے زیر اثر پلیٹ فارموں کے الگورتھم کو ڈیجیٹل نیوز اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق، اس صورت حال میں خبر تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ادارے بھی اپنے قارئین تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتے۔
اس تبدیلی کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ صحافت کے دو الگ پہلو سامنے آتے ہیں: خبر تیار کرنے اور شائع کرنے کی صلاحیت، اور اس خبر کو قارئین تک پہنچانے کی صلاحیت۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے پہلے مرحلے کو آسان بنایا ہے، لیکن دوسرے مرحلے میں میڈیا اداروں کا انحصار ایسے پلیٹ فارموں پر بڑھ گیا ہے جن کے فیصلوں پر ان کا اختیار محدود ہے۔
سنہا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چھوٹے اور آزاد نیوز اداروں کو اسمارٹ فون اور معمولی وسائل کی مدد سے زمینی رپورٹنگ کے زیادہ مواقع ملے ہیں۔ آج جنتر منتر جیسے مقام پر دو صحافی بھی اسمارٹ فون اور چھوٹے مائیکروفون کی مدد سے براہ راست رپورٹنگ کرسکتے ہیں، جب کہ ماضی میں اس نوعیت کی کوریج کے لیے زیادہ وسائل اور ادارہ جاتی انتظام درکار ہوسکتا تھا۔
تاہم، اس سہولت کے باوجود خبر کی رسائی کا مسئلہ برقرار ہے۔ صحافی کے لیے خبر تیار کرنا آسان ہوسکتا ہے، لیکن اسے کتنے لوگ دیکھیں گے، اس کا انحصار بڑی حد تک ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے نظام پر رہتا ہے۔
پرتیک سنہا نے آزاد میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھائیں اور میڈیا کی ملکیت چند ارب پتی کاروباری شخصیات کے ہاتھوں میں سمٹنے کے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
الگورتھم، وائرل خبریں اور صحافت کی بدلتی ترجیحات
ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے صحافت کے سامنے ایک اہم ادارتی سوال کھڑا کردیا ہے: کیا نیوز روم اپنی خبروں کا انتخاب عوامی اہمیت کی بنیاد پر کرتے ہیں یا اس بات کو پیش نظر رکھتے ہیں کہ کون سا موضوع زیادہ کلک حاصل کرسکتا ہے؟
سوشل میڈیا کے موجودہ ماحول میں فوری ردعمل، جذباتی سرخیاں اور سنسنی خیز مواد تیزی سے توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس، انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں، شہری حقوق، انتظامی ناانصافی، معاشی محرومی اور مقامی آبادی کے مسائل پر طویل تحقیق کے لیے زیادہ وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ایسی رپورٹنگ کی اہمیت بہت زیادہ ہوسکتی ہے، لیکن اس کی مقبولیت لازماً کسی وائرل خبر کے برابر نہیں ہوتی۔
کانکلیو میں سامنے آنے والی بحث کا اہم پہلو یہی تھا کہ خبر کی مقبولیت اور اس کی عوامی افادیت کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جاسکتا۔ اگر کسی خبر کو کم لوگ دیکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیر اہم ہے۔ اسی طرح کسی خبر کا لاکھوں لوگوں تک پہنچ جانا بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس نے عوامی مفاد میں کوئی اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس تناظر میں گاندھی کی صحافت خاص اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ ان کے اخبارات کا مقصد محض زیادہ سے زیادہ قارئین حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ عوامی مسائل پر گفتگو، سماجی اصلاح اور سیاسی شعور کی بیداری بھی تھا۔
رشید قدوائی: خبر کا بامعنی ہونا، وائرل ہونے سے زیادہ اہم
سینئر صحافی اور مصنف رشید قدوائی نے صحافت میں مقبولیت اور اعداد و شمار کو غیر ضروری اہمیت دینے کے رجحان پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں خبروں کا وائرل ہونا نہیں، بلکہ بامعنی ہونا زیادہ اہم ہے۔ صحافت کا جوہر مسائل کو اٹھانے، معاشرے کی مشکلات کو اجاگر کرنے اور ایسی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے میں ہے جس کے اثرات سماج میں محسوس کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق، یہی مہاتما گاندھی کی تعلیمات کا بنیادی پیغام بھی تھا۔
رشید قدوائی نے اس تاثر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سنجیدہ اور تحقیق پر مبنی صحافت اب بھی مرکزی دھارے کے میڈیا میں موجود ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ’انڈین ایکسپریس‘ کی صحافی ریتیکا چوپڑا کی انتخابی فہرستوں پر نظرثانی سے متعلق تحقیقات کا حوالہ دیا، جن میں لاکھوں ووٹروں کے نام غائب ہونے کے معاملے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
ان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ صحافت کی قدر کا تعین صرف اس کی مقبولیت سے نہیں ہونا چاہیے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ رپورٹنگ نے کسی مسئلے کو عوامی بحث کا حصہ بنایا یا نہیں، متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا یا نہیں اور کسی ممکنہ اصلاح کے لیے راستہ ہموار کیا یا نہیں۔
یہ تصور خاص طور پر اس وقت اہم ہوجاتا ہے جب شہریوں کے حقوق، انتخابی عمل اور سرکاری اداروں کی جواب دہی جیسے موضوعات پر مسلسل اور سنجیدہ رپورٹنگ کی ضرورت ہو۔ ایسے معاملات میں صحافت کا کام صرف کسی واقعے کو نمایاں کرنا نہیں، بلکہ اس کے پس منظر، اثرات اور عوام کے لیے اس کی اہمیت کو بھی واضح کرنا ہوتا ہے۔
عارفہ خانم شیروانی: مرکزی دھارے کی خاموشی میں متبادل میڈیا کا کردار اہم
سینئر صحافی عارفہ خانم شیروانی نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے متبادل میڈیا کے کردار کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور متبادل میڈیا کو درپیش مشکلات کے باوجود آج ان پلیٹ فارموں کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
ان کے مطابق، اگر ایسے ادارے طویل عرصے سے نظرانداز کیے جانے والے مسائل کو مسلسل نہیں اٹھاتے تو جنتر منتر کے احتجاج اور مختلف عوامی تحریکوں کو بھی وہ توجہ نہیں ملتی جو عوامی بحث میں ان کی اہمیت کے لیے ضروری ہے۔
عارفہ خانم شیروانی نے گاندھی کی صحافت اور موجودہ متبادل میڈیا کے درمیان مماثلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سے مشکل سوال کرنا، زمینی حقائق کو سامنے لانا اور ان آوازوں کو جگہ دینا جنہیں مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ اکثر نظرانداز کرتے ہیں، آزاد صحافت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
متبادل میڈیا کی اہمیت اس پہلو سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ چھوٹے ادارے بعض ایسے مقامی مسائل کی مسلسل پیروی کرسکتے ہیں جنہیں بڑے نیوز رومز میں محدود جگہ ملتی ہے۔ تاہم، ان اداروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ تحقیق، حقائق کی تصدیق، ادارتی توازن اور جواب دہی کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔ آزاد صحافت کی قدر صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ مرکزی دھارے سے مختلف موقف اختیار کرتی ہے، بلکہ اس سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوؤں کو کس حد تک معتبر شواہد سے ثابت کرتی ہے۔
شہنواز اختر: صحافت کیوں وجود میں آئی اور اسے کس کی خدمت کرنی چاہیے؟
ای نیوز روم کے منیجنگ ایڈیٹر شہنواز اختر نے کہا کہ کانکلیو کے انعقاد کا بنیادی مقصد صحافت کے اسی سوال کو دوبارہ سامنے لانا تھا کہ صحافت کیوں وجود میں آئی اور اسے کس کی خدمت کرنی چاہیے۔
ان کے مطابق، گاندھی محض اخباروں میں لکھنے والی شخصیت نہیں تھے، بلکہ وہ صحافت کے مقصد اور اس کی سماجی ذمہ داری پر گہرا غور کرتے تھے۔ شہنواز اختر نے کہا کہ آج اس سوال کو نیوز رومز میں دوبارہ اٹھانا ماضی کی یاد تازہ کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ ایک فوری اور عملی ضرورت ہے۔
ان کی اس بات میں موجودہ میڈیا کے لیے ایک اہم پیغام پوشیدہ ہے۔ جب کسی ادارے پر آمدنی، تشہیر، ناظرین کی تعداد اور ڈیجیٹل مقبولیت بڑھانے کا دباؤ ہو تو ادارتی ترجیحات متاثر ہوسکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں صحافت کے بنیادی مقصد پر واضح اتفاق اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کا عزم مزید اہم ہوجاتا ہے۔
محمد ریاض: گاندھی نے صحافت سے لوگوں کی بات سننا اور حقائق کی تصدیق کرنا سیکھا
پروفیسر محمد ریاض نے گاندھی کی زندگی کے ایک نسبتاً کم معروف پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گاندھی نے ایک بڑے سیاسی رہنما کے طور پر ابھرنے سے پہلے آزاد صحافی کی حیثیت سے کام کیا اور جنگی نامہ نگار کے طور پر بھی رپورٹنگ کی۔
ان کے مطابق، رپورٹنگ اور اشاعت گاندھی کی سیاسی زندگی کے ضمنی پہلو نہیں تھے، بلکہ یہ وہ بنیادی ذرائع تھے جن کے ذریعے انہوں نے لوگوں کی بات سننے، معلومات کی تصدیق کرنے اور عوام سے رابطہ قائم کرنے کا تجربہ حاصل کیا۔
اس پہلو سے گاندھی کی صحافت کو سمجھنے کا ایک اہم زاویہ سامنے آتا ہے: صحافت محض اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ معاشرے کو سننے، مختلف تجربات کو سمجھنے اور حقائق کی بنیاد پر عوامی مکالمہ قائم کرنے کا عمل بھی ہے۔
آج کے ڈیجیٹل ماحول میں، جہاں خبر کی رفتار اکثر اس کی تصدیق سے آگے نکل جاتی ہے، یہ اصول مزید اہم ہوجاتا ہے۔ تیز رفتار اشاعت کے باوجود حقائق کی جانچ، سیاق و سباق کی وضاحت اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
آزاد صحافت کو مالی مدد کون دے گا؟
کانکلیو میں صحافتی اصولوں کے ساتھ ساتھ آزاد میڈیا کے معاشی مستقبل پر بھی گفتگو ہوئی۔ یہ سوال خاص اہمیت رکھتا ہے کہ اگر کوئی ادارہ بڑے کارپوریٹ گروپوں کی مالی سرپرستی کے بغیر کام کرنا چاہے تو وہ اپنے اخراجات کیسے پورے کرے گا، صحافیوں کو تنخواہیں کیسے دے گا اور زمینی رپورٹنگ کے لیے وسائل کہاں سے حاصل کرے گا؟
ماہر تعلیم اور امید گلوبل اسکول کے بانی ولی رحمانی نے کہا کہ تحریک آزادی کے دور میں مجاہدین آزادی اپنے اخبارات کے ذریعے اداریے لکھتے اور سچائی عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ اگر کوئی دوسرا سچ شائع نہیں کرے گا تو وہ خود اسے شائع کریں گے۔ ولی رحمانی کے مطابق، ای نیوز روم کی ٹیم بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کررہی ہے۔
انہوں نے اس تضاد کی نشاندہی کی کہ لوگ ایماندار اور مستند صحافت چاہتے ہیں، لیکن ایسے اداروں کی مالی مدد کے لیے ہمیشہ آگے نہیں آتے۔
ولی رحمانی نے کہا کہ صرف اخلاقی حمایت کسی میڈیا ادارے کو طویل مدت تک چلانے کے لیے کافی نہیں۔ صحافیوں کی تنخواہوں، سفر، زمینی رپورٹنگ، تکنیکی وسائل اور روزمرہ کے ادارتی اخراجات پورے کرنے کے لیے مالی تعاون بھی ضروری ہے۔
ان کا پیغام واضح تھا کہ اگر عوام آزاد اور ذمہ دار صحافت کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کے معاشی استحکام میں بھی حصہ لینا ہوگا۔ اس تعاون کو محض خیرات کے بجائے عوامی مفاد میں کام کرنے والے ایک ادارے کو برقرار رکھنے کی اجتماعی کوشش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر ان چھوٹے نیوز اداروں کے لیے اہم ہے جو بڑے اشتہاری بجٹ یا کارپوریٹ وسائل کے بغیر کام کرتے ہیں۔ ان کے لیے عوامی تعاون، قارئین کی مالی شراکت اور آمدنی کے شفاف ذرائع ادارتی خودمختاری برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔
ایس آئی آر کے معاملے میں مقامی صحافت کا کردار
ونگ کمانڈر (ریٹائرڈ) محمد شمیم اختر نے قابل اعتماد مقامی صحافت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ای نیوز روم نے ان کے معاملے کی تحقیق اور رپورٹنگ کی تھی۔
ان کے مطابق، جب شہریوں کی شکایات کو انتظامی سطح پر مناسب توجہ نہیں ملتی تو مقامی اور چھوٹے میڈیا ادارے ان مسائل کو عوامی سطح پر اٹھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
محمد شمیم اختر نے ای نیوز روم کے لیے اپنی ذاتی مالی حمایت کا اعلان کیا اور قارئین سے بھی اپیل کی کہ وہ زمینی رپورٹنگ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔
ان کا تجربہ اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ مقامی صحافت کا کام صرف بڑے سیاسی واقعات کی رپورٹنگ تک محدود نہیں۔ شہریوں کو درپیش انتظامی مسائل، انتخابی عمل سے متعلق شکایات اور سرکاری اداروں کی جواب دہی جیسے معاملات میں بھی مقامی صحافی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
عبدالعزیز اور کمال نین چھپڑیا کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ
کانکلیو کے دوران عوامی مفاد پر مبنی صحافت میں نمایاں خدمات انجام دینے والے صحافیوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔
این ڈی شرما میموریل لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سینئر صحافی عبدالعزیز اور کمال نین چھپڑیا کو ان کی طویل صحافتی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ دونوں صحافیوں نے کئی دہائیوں تک عوامی مفاد پر مبنی رپورٹنگ کے میدان میں خدمات انجام دی ہیں۔
جبکہ بسواجیت رائے میموریل ایمرجنگ جرنلسٹ ایوارڈ رقیب الزماں کو دیا گیا۔ انہیں آسام، شمال مشرقی ہندوستان اور مغربی بنگال میں شہریت، نقل مکانی، شناخت اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی جیسے حساس موضوعات پر زمینی رپورٹنگ کے لیے یہ اعزاز دیا گیا۔
یہ دونوں ایوارڈز این ڈی شرما اور بسواجیت رائے کی یاد میں قائم کیے گئے ہیں، جو ای نیوز روم کے صحافتی سفر سے وابستہ رہے تھے۔ ان اعزازات کے ذریعے طویل عرصے سے عوامی مفاد کی صحافت میں خدمات انجام دینے والے سینئر صحافیوں کے ساتھ نئی نسل کے صحافیوں کی خدمات کو بھی تسلیم کیا گیا۔
بسواجیت رائے کی کتاب کا اجرا، ’پیروکار‘ کے نئے شمارے کی رونمائی
کانکلیو کے اختتام پر سینئر صحافی مرحوم بسواجیت رائے کی کتاب ’عرب۔یہودی تعلقات اور ٹیگور‘ کا باضابطہ اجرا کیا گیا۔ اس کتاب میں رابندر ناتھ ٹیگور کی تحریروں کے حوالے سے عرب۔یہودی سوالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس موقع پر سہ ماہی رسالے ’پیروکار‘ کے تازہ شمارے کی رونمائی بھی کی گئی۔
کتاب کے اجرا اور رسالے کی رونمائی نے تقریب کے علمی اور صحافتی پہلو کو مزید وسعت دی، جہاں صحافت، تاریخ، ادب اور سماجی سوالات کے باہمی تعلق پر توجہ مرکوز رہی۔
گاندھی کی صحافت آج بھی ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے
ای نیوز روم کانکلیو میں ہونے والی گفتگو نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے صحافت کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ نئے انحصار اور خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔ آج ایک چھوٹا ادارہ بھی ایسی رپورٹنگ کرسکتا ہے جس کے لیے ماضی میں بڑے وسائل درکار ہوتے تھے، لیکن اس کی خبر کی رسائی ایسے پلیٹ فارموں کے فیصلوں سے متاثر ہوسکتی ہے جن پر اس کا براہ راست اختیار نہیں۔
اسی طرح، ڈیجیٹل اعداد و شمار کسی ادارے کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ قارئین کن موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن اگر کلک اور مقبولیت ہی ادارتی کامیابی کا واحد پیمانہ بن جائیں تو طویل تحقیق، پیچیدہ سماجی مسائل اور کمزور طبقات کی آوازیں پس منظر میں جاسکتی ہیں۔
آزاد صحافت کی مالی خودمختاری بھی اسی بحث کا اہم حصہ ہے۔ جو ادارے عوامی مفاد کو ترجیح دینا چاہتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالی وسائل کے پائیدار اور شفاف ذرائع پیدا کریں، جب کہ قارئین کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس قسم کی صحافت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔
گاندھی کی صحافت کی معنویت اسی سوال میں پوشیدہ ہے کہ خبر کا اصل مقصد کیا ہے۔ اگر صحافت عوام کو باخبر کرنے، سماجی مسائل کو اجاگر کرنے، اقتدار کو جواب دہ بنانے اور معاشرے میں اصلاح کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے تو اس کی کامیابی کو صرف ناظرین، کلک اور وائرل ہونے کے اعداد و شمار تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
گاندھی کے پاس اخبارات تھے اور آج ہمارے پاس الگورتھم ہیں، لیکن صحافت کی اصل آزمائش اب بھی وہی ہے: کیا وہ طاقت ور حلقوں کے مفادات سے بالاتر ہوکر عوام کی خدمت، سچائی کی تلاش اور معاشرتی جواب دہی کو اپنی پہلی ترجیح بنا سکتی ہے؟
