انویشا سین گپتا

کلکتہ ہمیشہ سے ایک مہاجر شہر رہا ہے۔ اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس نے بنگال کے مختلف علاقوں، برصغیرِ ہند اور اس سے باہر کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ ان مختلف گروہوں میں مسلمان ایک اہم حصہ تھے۔ اس شہر میں آنے والے مسلمان مختلف سماجی طبقات، مختلف مسالک اور مختلف لسانی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔

بنگالی بولنے والے مسلمان پڑوسی دیہی اضلاع سے کلکتہ آئے اور انہوں نے خدمات کے شعبے میں کام کیا، خاص طور پر خوانچہ فروشوں، بُنکروں، دھوبیوں، مزدوروں اور گھریلو ملازمین کے طور پر۔ تعلیم کے ایک اہم مرکز کی حیثیت سے کلکتہ نے بنگالی مسلمان اشرافیہ خاندانوں کے نوجوانوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا۔

اٹھارہویں صدی کے اواخر سے لے کر انیسویں اور بیسویں صدی تک مسلمان دور دراز علاقوں سے بھی کلکتہ آتے رہے۔ اودھ کے نوابوں اور میسور کے حکمران خاندان کے ساتھ درباری اشرافیہ، ملازمین اور دانشور بھی آئے، جو شاہی سرپرستی پر انحصار کرتے تھے۔ کٹھیاواڑ، دہلی، لکھنؤ، مغربی ہندوستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے تاجر بھی کلکتہ پہنچے۔ ابتدائی نوآبادیاتی دور میں فارسی درباری زبان تھی، اس لیے سرکاری ملازمتوں میں اپ کنٹری مسلمانوں کی لسانی مہارت کی خاص طلب تھی۔

مختصراً، نوآبادیاتی دور میں کلکتہ کے بعض شہری پیشوں پر مسلمانوں کا تقریباً مکمل غلبہ تھا۔ خانسامے، درزی اور قصائی اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دستکاروں، چھوٹے تاجروں اور معماروں میں بھی ان کی موجودگی قابلِ ذکر تھی۔ اسی طرح شہر میں مسلمان دانشوروں، صحافیوں، سفید پوش پیشہ ور افراد اور ممتاز سیاست دانوں کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔

یوں بیسویں صدی کے وسط تک مسلمانوں کی یہ متنوع برادری شہر کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی تھی۔ شہر کو ایک ممتاز مسلم تعلیمی ادارے، کلکتہ مدرسہ، پر فخر تھا۔ یہی شہر برصغیر میں اردو صحافت کی جائے پیدائش بھی تھا اور یہاں اردو کی ایک منفرد مقامی شکل، جسے ’’گلابی اردو‘‘ کہا جاتا تھا، بھی پروان چڑھی۔

بنگالی مسلمانوں میں مقبول روزنامے، جیسے آزاد اور اتحاد، اسی شہر سے شائع ہوتے تھے۔ محمدن اسپورٹنگ کلب، جو کلکتہ کا ایک نہایت مقبول فٹبال کلب تھا اور برصغیر کے بہترین مسلم کھلاڑیوں کو اپنی جانب راغب کرتا تھا، نہ صرف متوسط طبقے کے مسلمانوں اور طلبہ میں بلکہ غریب مسلمانوں میں بھی بے حد مقبول تھا۔

شہر متعدد اسلامی سماجی اور مذہبی تحریکوں کا مرکز رہا اور بیسویں صدی کے دوران کلکتہ برصغیر میں مسلم سیاست کے اہم ترین مراکز میں شمار ہونے لگا۔ ایم۔ کے۔ اے۔ صدیقی کے الفاظ میں، مسلمانوں کا نوآبادیاتی کلکتہ کے ساتھ ایک گہرا اور منظم تعلق قائم ہو چکا تھا۔

یہ شہر جتنا ہندوؤں کا تھا، اتنا ہی مسلمانوں کا بھی تھا۔ چنانچہ جب برطانوی ہند کی تقسیم اور اس کے نتیجے میں بنگال پریذیڈنسی کی تقسیم ناگزیر ہوگئی تو کلکتہ دونوں برادریوں اور ان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید تنازع کا موضوع بن گیا۔

تعجب کی بات نہیں کہ بنگال پروونشل مسلم لیگ نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے کلکتہ کے حق میں ایک مضبوط دعویٰ پیش کیا۔ آزاد اور اتحاد جیسے اخبارات، جو تحریکِ پاکستان کے حامی تھے، باقاعدگی سے نقشے اور شماریاتی جدولیں شائع کرتے تھے تاکہ مسلم لیگ کے دعوے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ شہر کے مختلف حصوں میں جلسے اور ریلیاں منعقد کی گئیں تاکہ عوام کو اس مطالبے کی حمایت کے لیے متحرک کیا جا سکے۔ مسلم لیگ کی طلبہ تنظیم نے ان سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔

اقتصادی دلائل بھی پیش کیے گئے۔ کلکتہ کی بندرگاہ بڑی حد تک لاسکاروں کے ذریعے چلائی جاتی تھی، جبکہ شہر کی معاشی خوشحالی کا ایک بڑا سبب پٹ سن (جوٹ) کی تجارت تھی۔ لاسکاروں کی بڑی تعداد سلہٹ سے تعلق رکھنے والے مسلمان ملاحوں پر مشتمل تھی، جبکہ مشرقی بنگال پٹ سن کی پیداوار کا اہم مرکز تھا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ دلیل دی جاتی تھی کہ کلکتہ کی معاشی ترقی مشرقی بنگال کی مرہونِ منت تھی، جو جلد ہی مشرقی پاکستان بننے والا تھا۔ اگر ایسا تھا تو کلکتہ پر پاکستان کا دعویٰ ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط سمجھا جاتا تھا۔

شہر میں مسلمان خود تعداد کے اعتبار سے اقلیت میں تھے۔ تاہم کلکتہ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ نے باؤنڈری کمیشن سے اپیل کی کہ شہر میں مسلمانوں کی تعداد کا تعین 1941 کی مردم شماری کے بجائے راشن کارڈز کی بنیاد پر کیا جائے۔

اس کے علاوہ کلکتہ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کی خواتین ذیلی کمیٹی کے ایک اجلاس میں باؤنڈری کمیشن کے اراکین اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے درخواست کی گئی کہ اس معاملے میں کلکتہ کی ’’نقل پذیر آبادی‘‘ (Floating Population) کو بھی مستقل باشندوں کے ساتھ مدنظر رکھا جائے۔

اس مطالبے کے حق میں یہ دلیل بھی دی گئی کہ چونکہ بنگال پریذیڈنسی کا بڑا حصہ مشرقی پاکستان میں شامل ہونے والا ہے، اس لیے بنگال کے سب سے بڑے شہر پر بھی اس کا حق بنتا ہے۔

اگر کلکتہ کو مشرقی پاکستان میں شامل کرنا ممکن نہ ہو تو مسلم لیگ کے مطابق متبادل یہ تھا کہ اسے ایک ’’مشترکہ شہر‘‘ قرار دیا جائے، جو مشرقی و مغربی بنگال، اور پاکستان و ہندوستان دونوں کا مشترکہ شہر ہو۔

متحدہ بنگال کے آخری وزیرِ اعظم، حسین شہید سہروردی نے بھی صوبے کے گورنر کو اس مطالبے کی معقولیت پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

17 جولائی 1947 کو دی اسٹیٹس مین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں متحدہ بنگال کے وزیرِ خزانہ محمد علی کا بھی اسی نوعیت کا موقف نقل کیا گیا۔ محمد علی کے مطابق کلکتہ کو مشرقی اور مغربی بنگال دونوں حکومتوں کا دارالحکومت ہونا چاہیے، کم از کم اس وقت تک جب تک اثاثوں اور واجبات کی تقسیم کا عمل مکمل نہ ہو جائے، تاکہ نئے صوبوں کو عجلت میں دارالحکومت قائم کرنے سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یقیناً ان تجاویز کی ہندو مہاسبھا اور کانگریس نے شدید مخالفت کی۔ این سی چٹرجی نے مسلم لیگ کے کلکتہ پر دعوے کو عجیب، غیر منطقی اور بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کلکتہ کے زیادہ تر باشندے غیر مسلم ہیں، رہائشی املاک کے 91.55 فیصد مالکان غیر مسلم ہیں، میونسپل اور دیگر ٹیکسوں کا بڑا حصہ بھی وہی ادا کرتے ہیں، اور شہر کی بڑی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کی ملکیت اور انتظام بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے یہ تمام نکات باؤنڈری کمیشن کے عوامی اجلاس میں پیش کیے۔

چٹرجی کے نزدیک اعداد و شمار اور بالخصوص جائیداد کی ملکیت ہی کلکتہ پر حقِ ملکیت کا سب سے مضبوط جواز تھی۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ جتیندر موہن دت کا وہ مضمون تھا جو 13 جولائی 1947 کو ہندوستان اسٹینڈرڈ میں شائع ہوا۔ انہوں نے کلکتہ کو ’’مشترکہ شہر‘‘ بنانے کی تجویز کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا۔

ان کے مطابق ایک ہی شہر کا دو خودمختار ریاستوں کے درمیان تقسیم ہونا کوئی بالکل نئی بات نہیں تھی، کیونکہ روم میں واقع ویٹیکن سٹی اس کی ایک مثال تھا۔ تاہم ویٹیکن کی حیثیت منفرد تھی، کیونکہ وہ دنیاوی سیاسی مسابقت سے بالاتر ایک مذہبی مرکز تھا اور اس کی سرزمین کو غیر جانبدار اور ناقابلِ تعرض سمجھا جاتا تھا۔

دت نے استدلال کیا:

’’پاکستان ویٹیکن نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا:

’’وجود میں آنے والا پاکستان سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں سے مبارک باد وصول کر رہا ہے۔ وہ یقیناً اقوامِ متحدہ کا رکن بنے گا۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ضرور ہوگا، لیکن ہولی سی کی طرح محض ایک روحانی طاقت نہیں ہوگا۔‘‘

لہٰذا ان کے نزدیک پاکستان کے ساتھ کسی علاقے کی مشترکہ ملکیت کا تصور ناقابلِ عمل تھا۔

تاہم کلکتہ کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ تشویش مہاسبھا یا کانگریس کی مخالفت سے نہیں بلکہ مسلم لیگ کے اندر پائی جانے والی رائے کی تقسیم سے تھی۔ مسلم لیگ کے ’’ناظم الدین گروپ‘‘ کا کلکتہ کے مطالبے کے بارے میں رویہ خاصا مبہم تھا۔

کلکتہ کے ممتاز دانشور اور اس وقت اتحاد کے مدیر، ابوالمنصور احمد لکھتے ہیں:

’’ناظم الدین گروپ کے متعدد رہنما اتحاد کے دفتر آتے اور مجھے ’کلکتہ رکھو تحریک‘ کے خلاف قائل کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم کلکتہ کا مطالبہ ترک کر دیں تو مشرقی پاکستان کو 33 کروڑ روپے بطور معاوضہ مل جائیں گے۔ اس رقم سے ڈھاکہ کو آسانی سے نیویارک بنایا جا سکتا ہے۔‘‘

33 کروڑ روپے کا یہ وعدہ اتنا پرکشش ثابت ہوا کہ کلکتہ کے مطالبے کو پس منظر میں دھکیلنے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ رفتہ رفتہ مسلم لیگ نواز اخبارات، جیسے آزاد اور مارننگ نیوز، بھی کلکتہ پر اصرار کم کرنے لگے۔

شاید مسلم لیگ نے اس مطالبے کے لیے پوری سنجیدگی سے جدوجہد نہیں کی، یا پھر کلکتہ کو ہندوستان میں شامل رکھنے کے حق میں دلائل زیادہ طاقتور ثابت ہوئے۔ بہرحال تقسیم کے بعد کلکتہ ہندوستان کا حصہ بن گیا اور شہر کے مسلمان، جو پہلے ہی بار بار بھڑکنے والے فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کر رہے تھے، ایک کمزور مذہبی اقلیت میں تبدیل ہوگئے۔

کلکتہ کے مغربی بنگال میں شامل ہونے کے ساتھ ہی وہاں کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

15 اگست 1947: ایک غیر معمولی دن

15 اگست 1947 کو، حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کے باوجود، کلکتہ میں حیرت انگیز طور پر امن اور جشن کا ماحول تھا۔ حالات اس قدر غیر متوقع تھے کہ منظر تقریباً غیر حقیقی محسوس ہوتا تھا۔

گارڈین کے خصوصی نامہ نگار نے کلکتہ سے رپورٹ کرتے ہوئے لکھا:

’’ہندو اور مسلمان آزادانہ طور پر ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور آج رات آزادی کی آمد پر پورے جوش و خروش سے جشن منا رہے ہیں۔ جہاں کبھی فرقہ وارانہ تصادم ہوا کرتے تھے، آج وہاں دونوں برادریوں کے لوگ اکٹھے ہو کر نعرے لگا رہے ہیں اور سڑکوں پر رقص کر رہے ہیں۔ رات گئے تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔‘‘

سماجیات دان آندرے بیٹیل، جو اس وقت اسکول کے طالب علم تھے، اس دن کی یاد یوں بیان کرتے ہیں:

’’شام کے وقت ہمارے محلے کے چند لڑکے نہایت جوش و خروش کے ساتھ ہمارے گھر آئے اور راجہ بازار کے حالات بیان کرنے لگے۔ مسلمان تہوار کے لباس میں ملبوس سڑکوں پر نکل آئے تھے اور گزرنے والوں پر گلاب کا پانی اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے۔ میری والدہ نے ہمیں بھی راجہ بازار جا کر جشن میں شریک ہونے کی اجازت دی۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں:

’’ہم نے جو تبدیلی دیکھی، اسی قسم کی تبدیلی لاکھوں دوسرے لوگوں نے بھی شہر کے مختلف حصوں میں دیکھی۔ اس منظر میں واقعی کوئی جادوئی کیفیت تھی۔‘‘

ایک ایسے شہر کے لیے، جس نے صرف ایک سال قبل بدترین فرقہ وارانہ خونریزی دیکھی تھی، یہ منظر غیر معمولی تھا۔ گریٹ کلکتہ کلنگ کے بعد سے شہر وقفے وقفے سے فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار رہا تھا۔ ایسے میں کسی نے بھی اس قدر پُرامن یومِ آزادی کی توقع نہیں کی تھی۔

مہاتما گاندھی بھی انہی دنوں کلکتہ میں موجود تھے۔ ان کے اپنے الفاظ میں وہ یہاں ’’بھڑکتی ہوئی آگ پر پانی کا ایک برتن انڈیلنے‘‘ آئے تھے۔

اس خوف اور بے یقینی کے ماحول میں یومِ آزادی کا پُرامن گزر جانا واقعی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔

تاہم گاندھی کی تشویش بے بنیاد نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی قریبی ساتھی میرا بہن کو لکھے گئے ایک خط میں کہا:

’’مجمعے میں خوشی تو ہے، لیکن میرے دل میں اطمینان نہیں۔ ہندو مسلم اتحاد بہت اچانک پیدا ہوا ہے، اس لیے یہ پوری طرح حقیقی محسوس نہیں ہوتا۔‘‘

اس امن کے قیام کی چند معقول وجوہات بھی تھیں، اگرچہ یہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ تقریباً دو صدیوں کی نوآبادیاتی غلامی کے بعد آزادی کا حصول، اپنی تمام تر المناکیوں کے باوجود، جشن اور مسرت کا موقع تھا۔ مزید یہ کہ کلکتہ کی اکثریتی ہندو آبادی اس بات پر خوش تھی کہ شہر ہندوستان میں شامل ہوا ہے، اس لیے وہ آزادی کا جشن پوری دلجمعی سے منا رہی تھی۔

دوسری جانب مسلمان، جو اب ایک مشکوک اور اقلیتی برادری میں تبدیل ہو چکے تھے، مزید کسی تنازع یا بدامنی کا سبب بننے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ آزادی کی خوشی نے شاید ان کے دلوں کو بھی چھوا تھا۔ ممکن ہے کہ انہی عوامل نے 15 اگست 1947 کے اس ’’معجزے‘‘ کو ممکن بنایا ہو۔

مگر گاندھی کا اندیشہ درست ثابت ہوا۔ دوستانہ فضا زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔ چند ہی ہفتوں بعد کلکتہ دوبارہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا۔

پروفیسر انیس الزمان، جو اس وقت ایک کم عمر لڑکے تھے، بعد میں ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فسادات تین چار دن تک جاری رہے۔ گاندھی نے تشدد کے خاتمے تک روزہ رکھا۔ سہروردی نے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ حکمران جماعت اور اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے قتل و غارت گری روکنے کی پوری کوشش کی۔‘‘

اس وقت خوف کا عالم یہ تھا کہ بچے بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ شدید بخار میں مبتلا انیس الزمان کو مسلسل ڈراؤنے خواب آتے تھے:

’’مجھے خواب آتا کہ سکھ برائٹ اسٹریٹ سے ہماری طرف بڑھ رہے ہیں اور ہمیں قتل کرنے آ رہے ہیں۔ میں چیخ اٹھتا: ’سکھ آ رہے ہیں، سکھ آ رہے ہیں!‘‘‘

ستمبر 1947 کے فسادات نے ان کے خاندان کو شدید ذہنی صدمہ پہنچایا۔ بالآخر ان کے والد نے کلکتہ اور ہندوستان چھوڑ کر مشرقی پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

اس کے بعد کئی برس تک کلکتہ وقفے وقفے سے مسلم مخالف تشدد کا مرکز بنا رہا۔ اگرچہ روزمرہ زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی، لیکن وقفے وقفے سے فرقہ وارانہ تصادم اور بدامنی کے واقعات رونما ہوتے رہے۔ 1950 کے ابتدائی مہینوں میں شہر نے ایک بار پھر شدید فرقہ وارانہ فسادات کا سامنا کیا۔

1950 کے فسادات

7 فروری 1950 کو مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کی رکن حسان آرا بیگم نے اسمبلی میں ایک نہایت دردناک اپیل کرتے ہوئے کہا:

’’اس وقت کلکتہ کے مسلمان شدید دباؤ اور خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، خصوصاً منکتلا اور نارکیل ڈانگا کے علاقوں میں، جہاں میں خود جا کر حالات کا جائزہ لے چکی ہوں۔ گزشتہ رات بھی انہیں ہراساں کیا گیا۔ پائیک پاڑہ کے متعدد مسلمان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ میں معزز وزیرِ اعلیٰ سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ان شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں جو حکومت کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘

لیکن ان اپیلوں کے باوجود اگلے ہی دن کلکتہ میں وسیع پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔

تشدد کا آغاز شمالی کلکتہ کے علاقے منکتلا سے ہوا، لیکن جلد ہی یہ بیلیا گھاٹا، امہرسٹ اسٹریٹ، اینٹالی اور ٹانگرا تھانوں کے زیرِ انتظام علاقوں تک پھیل گیا۔

شہر میں چاقو زنی، لوٹ مار اور آتش زنی کے متعدد واقعات پیش آئے، جن کا ہدف زیادہ تر مسلمان تھے۔ اشتعال انگیز پمفلٹ اور ہینڈ بل تقسیم کیے گئے۔ بعض علاقوں میں ایسے پوسٹر آویزاں کیے گئے جن پر ’’خون کا بدلہ خون‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔

متعدد مواقع پر پولیس صورتِ حال پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

فروری 1950 میں کلکتہ میں ایم ایس گولوالکر کی موجودگی اور ہندو مہاسبھا کے رہنماؤں، خصوصاً این سی چٹرجی، کی اشتعال انگیز تقاریر نے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔

ان رہنماؤں نے فوری ’’آبادی کے تبادلے‘‘ کا مطالبہ کیا، یعنی مغربی بنگال کے مسلمانوں کا تبادلہ مشرقی بنگال کے ہندوؤں سے کیا جائے۔

اس مطالبے کا عملی مطلب یہ تھا کہ مغربی بنگال اور خصوصاً کلکتہ میں مسلمانوں کے لیے کوئی مستقل جگہ موجود نہیں ہے، چاہے وہ وہاں رہنا چاہتے ہوں یا نہ چاہتے ہوں۔

اسی دوران مشرقی بنگال سے ہندو پناہ گزینوں کی مسلسل آمد نے کلکتہ کے مسلمانوں کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا۔ ان میں سے بہت سے پناہ گزینوں نے خالی یا متروک مسلم املاک پر قبضہ کر لیا۔

بعض صورتوں میں ہندو مہاسبھا اور دوسری دائیں بازو کی تنظیموں کی حمایت سے مساجد، قبرستانوں، وقف املاک اور مسلم خاندانوں کے مکانات پر بھی قبضے کیے گئے، جس کے نتیجے میں بہت سے مسلمان بے گھر ہوگئے۔

مثال کے طور پر، راجہ دینندر اسٹریٹ میں قائم ایک رضاکار تنظیم لال باغان سیوا سمیتی نے دعویٰ کیا کہ اس نے لال باغان کے علاقے میں واقع 229 مبینہ خالی گھروں میں تقریباً 650 پناہ گزین خاندانوں کو آباد کیا۔

ان گھروں کے علاوہ متعدد ایسے مکانات بھی تھے جو فسادات میں جل چکے تھے اور بعد میں پناہ گزینوں کو الاٹ کر دیے گئے۔

اس تنظیم کو کانگریس کی شمالی کلکتہ ضلعی کمیٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔

یہ بات اہم ہے کہ لال باغان کا علاقہ انہی محلوں پر مشتمل تھا جو 1950 کے فسادات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے، جن میں منکتلا، امہرسٹ اسٹریٹ اور بیڈن اسٹریٹ شامل تھے۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جن گھروں کو ’’خالی‘‘ یا ’’جلے ہوئے‘‘ قرار دیا گیا، ان کے اصل مکین بڑی تعداد میں مسلمان تھے۔

بعض واقعات اتنے سنگین تھے کہ انہوں نے نئی دہلی کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا لی۔

جواہر لال نہرو نے مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ بی سی رائے کو لکھے گئے ایک خط میں کہا:

’’مجھے اطلاع ملی ہے کہ میرزا پور کے علاقے میں متعدد مسلمانوں کے گھروں پر زبردستی قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح منکتلا اور دیگر علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں مکانات تباہ کیے گئے ہیں۔‘‘

یہاں تک کہ 1958 تک حکومت کو مسلمانوں کی جانب سے کم از کم 3,176 درخواستیں موصول ہو چکی تھیں، جن میں ان جائیدادوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا جن پر 1950 کے فسادات کے دوران قبضہ کر لیا گیا تھا۔

حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ اس عرصے میں مسلمانوں کی 956 جائیدادیں ان کے اصل مالکان کو واپس دلوا چکی ہے۔

یہ اعداد و شمار خود اس سانحے کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہیں۔

تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ کلکتہ کی اجتماعی یادداشت میں 1950 کے فسادات کو نسبتاً کم یاد رکھا گیا، جبکہ 1946 کے ’’گریٹ کلکتہ کلنگ‘‘ کا ذکر آج بھی زیادہ نمایاں طور پر کیا جاتا ہے۔

منتخب یادداشت، مسلمانوں کی اقلیت میں تبدیلی اور شناخت کا بحران

تاہم 1950 کے فسادات کلکتہ کی اجتماعی یادداشت میں وہ مقام حاصل نہ کر سکے جو 1946 کے ’’گریٹ کلکتہ کلنگ‘‘ کو حاصل ہوا۔ 1946 کے واقعات، جن کا مرکزی ذمہ دار اکثر حسین شہید سہروردی کو قرار دیا جاتا ہے، آج بھی شہر کی عوامی یادداشت میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اس انتخابی یادداشت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 1946 میں اقتدار برطانوی حکومت اور مسلم لیگ کے ہاتھوں میں تھا، جنہیں بعد از نوآبادیاتی قومی بیانیے میں نسبتاً آسانی سے ’’بیرونی‘‘ قرار دیا جا سکتا تھا۔

اس کے برعکس 1950 اور 1964 کے فسادات نے کانگریس حکومت کے سیکولر دعووں پر سوالات کھڑے کیے۔ ان واقعات میں فرقہ وارانہ تشدد کے ذمہ دار عناصر زیادہ تر ہندو تنظیموں اور گروہوں سے وابستہ تھے جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد مسلمان تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات قومی یادداشت میں کم جگہ پا سکے اور وقت کے ساتھ ان پر خاموشی اختیار کر لی گئی۔

تاہم صرف آبادی کا تناسب کسی برادری کو اقلیت نہیں بناتا۔ اقلیت بننا دراصل طاقت، تحفظ اور ریاست کے ساتھ تعلق کے احساس سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب کوئی برادری خود کو ریاستی ڈھانچے میں غیر محفوظ، کمزور یا امتیازی سلوک کا شکار محسوس کرنے لگتی ہے تو اس کے اندر اقلیتی شعور جنم لیتا ہے۔

کلکتہ کے مسلمانوں کے لیے بھی یہی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ حکومت فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے اور مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ میں بار بار ناکام رہی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر بے بسی، عدم تحفظ اور حاشیے پر دھکیلے جانے کا احساس گہرا ہوتا چلا گیا۔ اگرچہ فرقہ وارانہ تشدد اس عمل کا ایک اہم سبب تھا، لیکن مسلمانوں کی اقلیت میں تبدیلی (Minoritisation) کے پیچھے کئی دوسرے عوامل بھی کارفرما تھے۔

اسلامیہ کالج اور مسلم شناخت کا زوال

تقسیم کے بعد شہر کی متعدد مسلم شناختی علامتیں اور ادارے رفتہ رفتہ اپنی سابقہ حیثیت کھونے لگے۔ اس کی ایک اہم مثال اسلامیہ کالج ہے۔

وسطی کلکتہ میں واقع اسلامیہ کالج 1926 میں اس وقت کے گورنر بنگال لارڈ لٹن کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد مسلم طلبہ کو جدید اور دینی تعلیم کا امتزاج فراہم کرنا تھا۔ تقسیم کے بعد کالج کے دروازے تمام مذاہب کے طلبہ کے لیے کھول دیے گئے، جو بذاتِ خود ایک مثبت قدم تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی ادارے کا نام ’’اسلامیہ کالج‘‘ سے بدل کر ’’سنٹرل کلکتہ کالج‘‘ رکھ دیا گیا۔

نیا نام بظاہر جغرافیائی شناخت کی نمائندگی کرتا تھا، لیکن بہت سے مسلمانوں کے نزدیک یہ ادارے کے مسلم تاریخی اور ثقافتی تشخص کو پس منظر میں دھکیلنے کی ایک علامت بھی تھا۔

کلکتہ مدرسہ: ایک عظیم ادارے کی کمزوری

سنٹرل کلکتہ کالج سے چند منٹ کے فاصلے پر واقع کلکتہ مدرسہ برصغیر کے قدیم ترین مسلم تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ 1781 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ تقسیم کے نتیجے میں شدید متاثر ہوا۔

مدرسے کی منقولہ جائیداد، نایاب کتابیں، مخطوطات اور دیگر علمی ذخائر ڈھاکہ منتقل کر دیے گئے۔ بنگال مدرسہ ایجوکیشن بورڈ بھی مشرقی پاکستان چلا گیا، جس کے نتیجے میں مغربی بنگال کے متعدد مدارس ایک مرکزی انتظامی ڈھانچے سے محروم ہو گئے۔

کلکتہ مدرسہ کے تدریسی عملے کے بیشتر ارکان بھی مشرقی پاکستان منتقل ہو گئے۔ یوں ادارہ اگرچہ رسمی طور پر باقی رہا، لیکن اپنے علمی اور تاریخی وقار کا بڑا حصہ کھو بیٹھا۔

بعد کے برسوں میں مدرسے کے ایک لائبریرین محمد قاسم علی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1927 کی فہرست میں درج بیشتر نایاب کتابیں اب لائبریری میں موجود نہیں رہیں۔ ان کے نزدیک تقسیم صرف سیاسی تقسیم نہیں تھی بلکہ مسلمانوں کے علمی ورثے کی بھی تقسیم تھی۔

وقف املاک، مساجد اور قبرستانوں پر قبضے

تقسیم کے بعد مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی جگہیں بھی مسلسل دباؤ کا شکار رہیں۔

1946 کے بعد ہونے والے تقریباً ہر بڑے فرقہ وارانہ تصادم کے دوران متعدد مساجد، قبرستانوں اور وقف املاک پر حملے یا قبضے کی شکایات سامنے آئیں۔ مشرقی پاکستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد نے شہر کے مختلف حصوں میں آباد ہونا شروع کیا، اور بعض مواقع پر متروک یا کمزور مسلم املاک کو نشانہ بنایا گیا۔

بہالہ، ٹولی گنج، کاسبہ، گڑیا اور سنتوش پور جیسے علاقوں میں قائم ہونے والی متعدد غیر رسمی آبادیاں وقف زمینوں تک پھیل گئیں۔ بعض مساجد اور قبرستان بھی تجاوزات کا شکار ہوئے۔

محقق جویا چٹرجی نے اپنی معروف تحقیق Of Graveyards and Ghettos: Muslims in Partitioned West Bengal, 1947–67 میں دکھایا ہے کہ سلیمی پور سمیت کئی علاقوں میں مسلمان رفتہ رفتہ اپنے قبرستانوں اور مذہبی مقامات پر عملی کنٹرول کھوتے گئے۔

پارک سرکس، گوبرا اور دیگر علاقوں کے قبرستانوں کے بارے میں بھی ایسی شکایات سامنے آئیں کہ ان کی حدود سکڑتی گئیں، ان کے بعض حصوں پر قبضے ہوئے یا انہیں دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

یہ صرف زمینوں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے لیے ان مقدس مقامات کی علامتی اہمیت بھی تھی۔ ان مقامات کے سکڑنے سے ان کے اجتماعی وجود اور ثقافتی شناخت پر بھی اثر پڑا۔

شناخت کا بحران اور اقلیت کا احساس

تقسیم کے بعد کلکتہ کے مسلمانوں کو صرف جسمانی تحفظ کے مسائل کا سامنا نہیں تھا بلکہ وہ ایک گہرے شناختی بحران سے بھی دوچار تھے۔

ایک طرف ان کی سیاسی قیادت کا بڑا حصہ مشرقی پاکستان منتقل ہو چکا تھا، دوسری طرف ان کے تعلیمی، سماجی اور ثقافتی ادارے بھی کمزور پڑ رہے تھے۔ جو مسلمان ہندوستان میں رہ گئے، انہیں بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔

بہت سے مسلمانوں نے مسلم لیگ سے فاصلہ اختیار کیا اور کانگریس یا دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ ہندوستانی ریاست کے وفادار شہری ہیں اور تقسیم کے بعد کی سیاست میں اپنا مقام برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود فرقہ وارانہ تشدد، معاشی مسابقت، سیاسی تنہائی اور ادارہ جاتی کمزوریوں نے مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کیا۔

یوں تقسیمِ ہند کے بعد کلکتہ کے مسلمان صرف عددی اعتبار سے اقلیت نہیں بنے بلکہ سماجی، سیاسی اور نفسیاتی سطح پر بھی ایک ایسی اقلیت میں تبدیل ہو گئے جسے اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کے بارے میں مسلسل خدشات لاحق تھے۔

معاشی تبدیلیاں، سیاسی سمجھوتے اور نئی مسلم سیاست

تقسیم کے بعد کلکتہ کے مسلمانوں کو صرف سماجی اور سیاسی مسائل کا سامنا نہیں تھا بلکہ معاشی میدان میں بھی ان کی پوزیشن مسلسل کمزور ہوتی جا رہی تھی۔

شہر کے بعض پیشے، جن پر ایک زمانے میں مسلمانوں کا نمایاں غلبہ تھا، رفتہ رفتہ ان کے ہاتھوں سے نکلنے لگے۔ اس کی ایک اہم مثال درزیوں کا پیشہ ہے۔

تقسیم سے قبل کلکتہ میں تیار ملبوسات کی صنعت پر بڑی حد تک مسلمان درزیوں کا کنٹرول تھا۔ میٹیا برز اور سنتوش پور جیسے علاقوں میں آباد مسلمان درزی کلکتہ اور ہاوڑہ کی مارکیٹوں میں اہم مقام رکھتے تھے۔ ان کی مہارت، خاندانی روایات اور تجارتی روابط نے انہیں اس شعبے میں ممتاز حیثیت دلائی تھی۔

تاہم تقسیم کے بعد مشرقی بنگال سے بڑی تعداد میں ہندو پناہ گزین کلکتہ پہنچے۔ ان میں سے بہت سے افراد روزگار کی تلاش میں انہی پیشوں کی طرف متوجہ ہوئے جن پر پہلے مسلمانوں کی اجارہ داری سمجھی جاتی تھی۔

محققین ایم۔ کے۔ اے۔ صدیقی اور ایس۔ پی۔ لالا کے مطابق پناہ گزین درزی نہ صرف زیادہ کاروباری ذہن رکھتے تھے بلکہ انہیں سرکاری قرضوں اور امدادی سہولتوں تک بھی رسائی حاصل تھی۔ انہوں نے مسلمان درزیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے جلد ہی یہ ہنر سیکھ لیا اور تھوڑے ہی عرصے میں مارکیٹ میں مضبوط مقام حاصل کر لیا۔

اس تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ پناہ گزین خاندانوں کی خواتین بھی معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگیں، جس سے ان کی آمدنی اور کاروباری صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

نتیجتاً وہ معاشی برتری، جو کئی دہائیوں تک مسلمانوں کے پاس رہی تھی، بتدریج کمزور پڑنے لگی۔

مسلم لیگ سے فاصلہ اور نئی سیاسی شناخت

معاشی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی منظرنامہ بھی مکمل طور پر بدل چکا تھا۔

تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ وہ اپنی سیاسی شناخت کس بنیاد پر تشکیل دیں۔

مسلم لیگ، جو قیامِ پاکستان کی جدوجہد کی علامت بن چکی تھی، آزاد ہندوستان میں اپنی سابقہ حیثیت برقرار نہیں رکھ سکتی تھی۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو محسوس ہوا کہ اگر وہ نئی ریاست کے وفادار شہری کے طور پر قبول کیے جانا چاہتے ہیں تو انہیں مسلم لیگ کی سیاست سے فاصلہ اختیار کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ہندو مہاسبھا جیسی جماعتوں میں شمولیت ان کے لیے ممکن نہیں تھی، کیونکہ ان جماعتوں کی سیاست واضح طور پر ہندو قوم پرستی کے گرد گھومتی تھی۔

اس صورتِ حال میں بہت سے سابق مسلم لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے کانگریس کا رخ کیا۔

ان کے نزدیک کانگریس ہی وہ پلیٹ فارم تھا جس کے ذریعے مسلمان نئے ہندوستان میں اپنی سیاسی جگہ محفوظ کر سکتے تھے۔

نومبر 1947 میں کلکتہ کے یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ ہال میں مغربی بنگال کے مسلمانوں کے ایک اہم اجتماع میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا:

’’موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کسی علیحدہ سیاسی جماعت کا وجود نہ صرف غیر ضروری بلکہ خودکشی کے مترادف ہے۔‘‘

یہ قرارداد اس ذہنی تبدیلی کی عکاس تھی جو تقسیم کے بعد مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں پیدا ہو چکی تھی۔

پارلیمانی اپوزیشن پارٹی آف ویسٹ بنگال

تاہم تمام مسلم رہنما کانگریس میں شامل ہونے پر آمادہ نہیں تھے۔

کچھ افراد ایسی سیاسی راہ تلاش کرنا چاہتے تھے جو مسلم لیگ سے بھی مختلف ہو اور کانگریس میں مکمل انضمام سے بھی گریز کرے۔

اسی پس منظر میں ’’پارلیمانی اپوزیشن پارٹی آف ویسٹ بنگال‘‘ وجود میں آئی۔

اس جماعت کے نمایاں رہنما ابوالہاشم تھے، جنہوں نے 26 مارچ 1949 کو مغربی بنگال اسمبلی میں اپنی جماعت کے بنیادی اصولوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا:

’’ہماری سیاست انسانی مساوات، سماجی انصاف اور جمہوری اقدار پر مبنی ہوگی۔‘‘

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی کسی قسم کی فرقہ وارانہ سیاست سے وابستہ نہیں ہوگی۔

یہ دراصل ایک نئی مسلم سیاسی حکمتِ عملی تھی، جس کا مقصد مذہبی شناخت کے بجائے جمہوری اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرنا تھا۔

پناہ گزینوں اور مسلمانوں کے درمیان توازن کا مسئلہ

تقسیم کے بعد مغربی بنگال حکومت ایک نہایت پیچیدہ صورتِ حال سے دوچار تھی۔

ایک طرف اس پر آئینی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

دوسری طرف اسے لاکھوں ہندو پناہ گزینوں کی آبادکاری کا مسئلہ بھی درپیش تھا، جنہیں عوامی ہمدردی اور مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

حکومت نے کئی مرتبہ ان جائیدادوں سے پناہ گزینوں کو ہٹانے کی کوشش کی جن پر غیر قانونی قبضے کی شکایات موجود تھیں، لیکن ساتھ ہی ان کے لیے متبادل رہائش اور مالی امداد کا بندوبست کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

1951 کے ویسٹ بنگال ایکٹ XVI کے تحت یہ طے کیا گیا کہ اگر کسی پناہ گزین کو کسی قبضہ شدہ جائیداد سے بے دخل کیا جائے تو اسے مناسب معاوضہ اور متبادل رہائش فراہم کی جائے گی۔

بعد ازاں 1957 میں اس قانون میں ترامیم کی گئیں، جن کے تحت حکومت کو زیادہ اختیارات حاصل ہو گئے۔

حکومت کا مؤقف تھا کہ ان قوانین کا مقصد مسلمانوں اور دیگر مالکان کی جائیدادوں کو غیر قانونی قبضوں سے آزاد کرا کے ان کے اصل مالکان کو واپس دلانا ہے۔

تاہم اپوزیشن جماعتوں نے ان اقدامات پر مختلف اعتراضات کیے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کو شبہ تھا کہ حکومت دراصل صنعت کاروں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے، جبکہ دائیں بازو کی جماعتوں نے اسے پناہ گزین مخالف پالیسی قرار دیا۔

ان تنازعات سے قطع نظر حقیقت یہ تھی کہ تقسیم کے بعد زمین، رہائش اور ملکیت کا مسئلہ کلکتہ کی سیاست کا ایک نہایت حساس اور پیچیدہ موضوع بن چکا تھا۔

ہجرت، یادیں اور کلکتہ سے بچھڑنے کا درد

کلکتہ کے بہت سے مسلمانوں کے لیے تقسیم کے بعد شہر میں رہنا اب ایک قابلِ عمل آپشن نہیں رہا تھا۔ ہجرت کا سلسلہ تقسیم کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا، جب مسلم اشرافیہ اور تعلیم یافتہ طبقے کے بعض افراد نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

1946 کے ’’گریٹ کلکتہ کلنگ‘‘، نوآکھالی اور بہار کے فسادات، اور پھر پنجاب و دہلی میں ہونے والی خونریز فرقہ وارانہ ہلاکتوں نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔ چنانچہ جب یہ واضح ہوگیا کہ کلکتہ ہندوستان کا حصہ رہے گا تو بہت سے مسلمانوں نے مستقبل کے خوف کے باعث ہجرت کا راستہ اختیار کیا۔

فروری 1950 کے فسادات نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ آخری دھکا ثابت ہوا۔ انہیں محسوس ہونے لگا کہ اب یہاں رہنا محفوظ نہیں رہا اور ہجرت ہی واحد راستہ ہے۔

اسی دوران ڈھاکہ مشرقی پاکستان کا دارالحکومت بن چکا تھا۔ مسلم سیاست کا مرکز بھی آہستہ آہستہ کلکتہ سے منتقل ہو کر ڈھاکہ پہنچ رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلم لیگ سے وابستہ بہت سے ممتاز رہنما، دانشور، سرکاری ملازمین اور پیشہ ور افراد کلکتہ چھوڑ کر مشرقی پاکستان چلے گئے تاکہ اپنی زندگی اور کیریئر کا نیا آغاز کر سکیں۔

اس کے علاوہ ڈھاکہ میں روزگار اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے تھے، جس کے باعث شہری مسلم اشرافیہ کی بڑی تعداد نے اسی شہر کا رخ کیا۔

کلکتہ اور ڈھاکہ: دو مختلف دنیائیں

تاہم کلکتہ سے آنے والے بہت سے مسلمانوں کے لیے ڈھاکہ ایک اجنبی اور نسبتاً غیر ترقی یافتہ شہر تھا۔

کلکتہ صرف ایک شہر نہیں تھا؛ وہ برطانوی ہند کے عظیم ترین شہری مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ اسے کبھی برصغیر کا لندن کہا جاتا تھا۔ اس کی تعلیمی، ثقافتی، ادبی اور تجارتی زندگی پورے خطے میں منفرد مقام رکھتی تھی۔

سماجیات دان آندرے بیٹیل لکھتے ہیں:

’’کلکتہ ہر مضافاتی بنگالی کے خوابوں کا شہر تھا۔ میرے لیے کلکتہ تنوع، امکانات اور فراوانی کی علامت تھا۔ اس میں وہ سب کچھ موجود تھا جو چندن نگر میں نہیں تھا۔ لندن یقیناً زیادہ شاندار تھا، لیکن وہ میری پہنچ سے باہر تھا۔ کلکتہ ہی ہمارے تخیل اور لوک داستانوں کا مرکز تھا۔‘‘

ایسے شہر کو چھوڑنا بہت سے لوگوں کے لیے صرف جغرافیائی نقل مکانی نہیں بلکہ ایک پوری دنیا سے جدائی تھی۔

انیس الزمان کی یادیں

پروفیسر انیس الزمان نے اپنی یادداشتوں میں بیان کیا ہے کہ ان کے خاندان کے افراد کلکتہ چھوڑنے کے فیصلے کے باوجود مسلسل اسی شہر کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے تھے۔

وہ بار بار پوچھتے:

’’ڈھاکہ کیسا شہر ہے؟ کیا وہاں روٹی اور مکھن ملتا ہے؟ کیا وہاں بجلی اور نل کا پانی موجود ہے؟ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے جاتے ہیں؟ کیا وہاں کلکتہ کی طرح ٹرامیں اور بسیں چلتی ہیں؟‘‘

یہ سوال دراصل اس ذہنی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں جس میں کلکتہ کی شہری زندگی معیار بن چکی تھی اور نئی جگہ کا موازنہ مسلسل اسی پیمانے پر کیا جا رہا تھا۔

کلکتہ کی یاد اس قدر شدید تھی کہ خاندان کے بعض افراد نے ڈھاکہ کے بجائے خُلنا میں آباد ہونا پسند کیا، کیونکہ وہ سرحد کے نسبتاً قریب تھا اور کلکتہ سے ان کا تعلق کسی نہ کسی صورت برقرار رہ سکتا تھا۔

میزان رحمان کی مایوسی

بنگلہ دیش کے معروف مصنف اور کارٹونسٹ میجانور رحمان 1948 میں کلکتہ سے ڈھاکہ منتقل ہوئے۔ اس وقت وہ نوعمر تھے۔

انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا:

’’جب ہم کلکتہ سے ڈھاکہ آئے تو میں شدید افسردہ تھا۔ ڈھاکہ کو ایک بڑا شہر کہنا بھی مشکل تھا۔ اس کا حجم محدود تھا اور شہری سہولتیں بھی کم تھیں۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں:

’’دھاکوریا جھیل، علی پور چڑیا گھر، منروا، سری رنگم، اسٹار تھیٹر، میٹرو، لائٹ ہاؤس، گلوب، نیو ایمپائر اور ایلیٹ جیسے سینما گھر— ڈھاکہ میں ان کا کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔ کالج اسٹریٹ کی کتابوں کی دنیا اور میدان کی وسعت کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔‘‘

ان کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے لیے کلکتہ صرف ایک رہائش گاہ نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور فکری زندگی کی علامت تھا۔

طیبہ کمال کا تجربہ

طیبہ کمال اپنے والدین کے ساتھ تقسیم سے محض دو روز قبل کلکتہ چھوڑ کر ڈھاکہ پہنچی تھیں۔

ان کے والد تحریکِ پاکستان کے حامی تھے اور نئی ریاست کی تعمیر میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ ان کے لیے ہجرت ایک سیاسی اور نظریاتی فیصلہ تھا۔

لیکن نظریاتی وابستگی کے باوجود روزمرہ زندگی کی مشکلات کو نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔

طیبہ کمال یاد کرتی ہیں:

’’ڈھاکہ میں مچھروں کی بہتات تھی۔ اچھی روٹی دستیاب نہیں تھی۔ ناشتے میں اکثر ہمیں مُڑی کھانی پڑتی تھی۔ کلکتہ کے مقابلے میں ڈھاکہ بہت کم ترقی یافتہ تھا۔ وہاں وہ شہری سہولتیں موجود نہیں تھیں جن کے ہم عادی ہو چکے تھے۔‘‘

یہ مشاہدات ظاہر کرتے ہیں کہ ہجرت صرف سیاسی یا مذہبی عمل نہیں تھی بلکہ روزمرہ زندگی کے معیار میں تبدیلی کا تجربہ بھی تھی۔

ابوالکاشم اور آزادی کی یاد

بنگلہ دیش کے معروف مصور ابوالکاشم نے اپنی یادداشتوں میں کلکتہ کو نہایت جذباتی انداز میں یاد کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں:

’’میں مشرقی بنگال میں پیدا ہوا تھا، لیکن اپنی جوانی کے ابتدائی سال کلکتہ میں گزارے۔ آج بھی جب کلکتہ کو یاد کرتا ہوں تو دل بھر آتا ہے۔‘‘

وہ کلکتہ کی یاد کو آسمان پر اڑتے ہوئے پرندوں کے ایک عظیم جھنڈ سے تشبیہ دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ وہ منظر انہیں آزادی، وسعت اور امکانات کا احساس دلاتا تھا۔

ایک قدامت پسند ماحول میں پرورش پانے والے ابوالکاشم کے لیے کلکتہ وہ جگہ تھی جہاں انہیں فن، تخلیق اور اظہارِ رائے کی آزادی ملی۔

1950 کے فسادات نے انہیں شہر چھوڑنے پر مجبور تو کر دیا، لیکن ان کے ذہن میں کلکتہ ہمیشہ آزادی اور تخلیقی امکانات کی علامت بنا رہا۔

اشرافیہ اور غریب مسلمانوں کے مختلف تجربات

یہ بات بھی اہم ہے کہ ہجرت کا تجربہ تمام مسلمانوں کے لیے یکساں نہیں تھا۔

انیس الزمان، میجانور رحمان اور ابوالکاشم جیسے افراد نسبتاً تعلیم یافتہ اور متوسط یا بالائی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے پاس تعلیم، مالی وسائل، سماجی روابط اور نئے ماحول میں خود کو منظم کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔

اگرچہ ان کے لیے بھی ہجرت ایک صدماتی تجربہ تھی، لیکن ان کے پاس انتخاب اور منصوبہ بندی کا کچھ نہ کچھ موقع موجود تھا۔

اس کے برعکس غریب مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اچانک حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگ فسادات سے جان بچانے کے لیے گھروں سے نکلے اور انہیں یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ ان کا اگلا ٹھکانہ کہاں ہوگا۔

بعض افراد سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوئے، لیکن اکثریت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔ چنانچہ انہوں نے کلکتہ اور اس کے مضافات میں ایسے علاقوں کا رخ کیا جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاً زیادہ تھی اور انہیں کچھ تحفظ حاصل ہو سکتا تھا۔

یوں تقسیم کے بعد مسلمانوں کی ہجرت صرف جغرافیائی نقل مکانی نہیں تھی بلکہ یادداشت، شناخت، تہذیب اور وابستگی کے ایک گہرے بحران کی داستان بھی تھی۔

گھیٹوائزیشن، بے دخلی اور ایک بدلتا ہوا شہر

تقسیم کے بعد کلکتہ کے غریب مسلمانوں کا تجربہ متوسط اور اعلیٰ طبقے کے مسلمانوں سے بالکل مختلف تھا۔ جہاں تعلیم یافتہ اور خوش حال طبقے کے بعض افراد مشرقی پاکستان منتقل ہونے میں کامیاب ہو گئے، وہیں غریب مسلمان اکثر فسادات سے جان بچانے کے لیے شہر کے اندر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

پوسٹ پارٹیشن کلکتہ پر تحقیق کرنے والے متعدد محققین نے مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی گھیٹوائزیشن (محلہ جاتی علیحدگی) کی نشاندہی کی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مسلمان زیادہ تر انہی علاقوں میں سمٹتے گئے جہاں ان کی آبادی نسبتاً زیادہ تھی اور جہاں انہیں کسی حد تک تحفظ کا احساس حاصل تھا۔

جو مسلمان نہ تو مشرقی پاکستان ہجرت کر سکے اور نہ ہی مسلم اکثریتی محلوں میں پناہ حاصل کر سکے، وہ سب سے زیادہ غیر محفوظ تھے۔ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران یہی طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

بعض لوگ جان بچانے میں کامیاب ہو گئے، لیکن ان کے پاس رہائش کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ ایسے افراد کو حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے عارضی امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔

پارک سرکس کا ریلیف کیمپ

1950 کے فسادات کے دوران بڑی تعداد میں مسلمان بے گھر ہو کر پارک سرکس میدان میں جمع ہو گئے۔ حکومت نے ان کے لیے عارضی خیمے نصب کیے، لیکن یہ انتظام انتہائی محدود تھا۔

کھلے میدان میں چند خیموں کے سہارے زندگی گزارنا کسی حقیقی بحالی کے مترادف نہیں تھا۔ بے گھر خاندان شدید مشکلات، غیر یقینی اور خوف کی کیفیت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔

جون 1950 تک حکومت نے انہیں محدود مقدار میں خشک راشن فراہم کیا، لیکن اس کے بعد انہیں مڈناپور کے موہیشادل ڈیسٹی ٹیوٹ ہوم منتقل کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔

حکومتی مؤقف یہ تھا کہ پارک سرکس میدان میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا قیام عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور شہر کے پارکوں کو مستقل پناہ گاہوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

چنانچہ امدادی سہولتیں محدود کر دی گئیں تاکہ لوگ خود ہی وہاں سے چلے جائیں۔ بالآخر جنوری 1951 کے آغاز میں پارک سرکس میدان میں مقیم مسلمانوں کو زبردستی وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

خاموشی اور بے حسی

یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔

تقسیم کے بعد ہندو پناہ گزینوں کی بے دخلی یا ان کے مسائل اکثر سیاسی تنازع، عوامی احتجاج اور اخباری بحث کا موضوع بنتے تھے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ان کے حق میں آواز اٹھاتی تھیں اور ان کے مسائل کو عوامی ہمدردی حاصل ہوتی تھی۔

لیکن پارک سرکس کے بے گھر مسلمان ایسی ہمدردی سے تقریباً محروم تھے۔

ان کی بے دخلی نہ تو کوئی بڑا سیاسی مسئلہ بنی، نہ ہی اس کے خلاف کوئی وسیع عوامی تحریک اٹھی۔ گویا وہ عوامی منظرنامے میں تقریباً غیر مرئی ہو چکے تھے۔

یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ تقسیم کے بعد کلکتہ کے مسلمان صرف عددی اعتبار سے نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی کمزور ہو چکے تھے۔

بدلتے ہوئے آبادکاری کے نقشے

اگرچہ غریب مسلمانوں کی نقل مکانی اور آبادکاری کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار محدود ہیں، لیکن اسمبلی کی کارروائیوں، سرکاری دستاویزات اور سماجی مطالعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تقسیم کے بعد مسلمانوں کے رہائشی نقشے میں نمایاں تبدیلی آئی۔

مسلمان بڑی حد تک ان علاقوں میں مرتکز ہونے لگے جہاں پہلے سے ان کی معقول آبادی موجود تھی۔ اس عمل نے بعد کے عشروں میں مغربی بنگال اور خصوصاً کلکتہ کے شہری جغرافیے کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

نتیجہ

برطانوی ہند کی تقسیم صرف سیاسی سرحدوں کی تقسیم نہیں تھی بلکہ اس نے کلکتہ کے سماجی ڈھانچے، ثقافتی شناخت اور شہری زندگی کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔

ایک ایسا شہر جو کبھی مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کا مشترکہ مرکز تھا، تقسیم کے بعد ایک نئے سماجی اور سیاسی مرحلے میں داخل ہوا۔

کلکتہ کے مسلمانوں کے لیے یہ تبدیلی خاص طور پر گہری اور تکلیف دہ ثابت ہوئی۔ فرقہ وارانہ فسادات، روزمرہ عدم تحفظ، معاشی مسابقت، سیاسی تنہائی اور مذہبی و ثقافتی اداروں کی کمزوری نے انہیں بتدریج ایک کمزور اقلیتی برادری میں تبدیل کر دیا۔

اس عمل کے جواب میں بعض مسلمانوں نے ہجرت کا راستہ اختیار کیا، بعض نے نئی سیاسی حکمتِ عملیاں اپنائیں، جبکہ بہت سے لوگ شہر کے اندر ہی نسبتاً محفوظ مسلم آبادی والے علاقوں میں منتقل ہو گئے۔

یوں تقسیم کے بعد کلکتہ میں گھیٹوائزیشن کا عمل شروع ہوا، جس نے نہ صرف مسلمانوں کی رہائش کے انداز کو متاثر کیا بلکہ شہر کی مجموعی سماجی ساخت کو بھی بدل کر رکھ دیا۔

فرقہ وارانہ تشدد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ردِ عمل نے کلکتہ کو ناقابلِ واپسی طور پر تبدیل کر دیا۔ جو شہر کبھی اپنی کثیرالثقافتی اور کاسموپولیٹن شناخت کے لیے جانا جاتا تھا، وہ رفتہ رفتہ ایک ایسے شہری منظرنامے میں ڈھل گیا جہاں اکثریتی اور اقلیتی برادریوں کے درمیان فاصلے پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گئے۔

تقسیم کی یہ داستان صرف سیاسی فیصلوں کی تاریخ نہیں بلکہ ان لاکھوں انسانوں کی یادداشت، محرومی، خوف، امید اور بقا کی جدوجہد کی تاریخ بھی ہے جنہوں نے اس تبدیلی کو اپنی زندگیوں میں محسوس کیا۔

کلکتہ کے مسلمانوں کی کہانی اسی وسیع انسانی تجربے کا ایک اہم باب ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تقسیم کے اثرات سرحدوں کے قیام کے ساتھ ختم نہیں ہوئے بلکہ آنے والی کئی نسلوں کی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی زندگیوں پر بھی گہرے نقوش چھوڑ گئے۔