نئی دہلی : انصاف نیوز نیٹ ورک
سپریم کورٹ نے سنبھل تشدد2024 کے مبینہ کلیدی ملزم ملا افروز کی قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت کی گئی احتیاطی حراست کو منسوخ کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا، جس میں ملا افروز کی حراست کو برقرار رکھا گیا تھا۔
جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اتر پردیش حکومت پولیس حراست کے دوران ملا افروز سے مبینہ طور پر حاصل کیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر احتیاطی حراست کا حکم جاری نہیں کرسکتی تھی۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے غیر قانونی حراستی حکم جاری کیے جانے پر 10 لاکھ روپے کی لاگت عائد کی۔
ملا افروز سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے بعد ہونے والے تشدد کے معاملے میں ملزم ہیں۔ اس تشدد میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہیں واقعے کے تقریباً 54 دن بعد گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس نے مبینہ طور پر حراست کے دوران ان کے اعترافی بیان کو گرفتاری کی بنیاد بنایا تھا۔بعد ازاں الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی، تاہم 13 اکتوبر 2025 کو ان کے خلاف قومی سلامتی قانون کے تحت احتیاطی حراست کا حکم جاری کیا گیا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے اس حکم کو برقرار رکھے جانے کے بعد ملا افروز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں درخواست گزار کی جانب سے مو¿قف اختیار کیا گیا کہ پولیس نے خود تشدد کے دوران فائرنگ کی تھی، لیکن اس پہلو کی مناسب تحقیقات نہیں کی گئی۔ ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پولیس حراست میں لیا گیا مبینہ اعترافی بیان قانون کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔
درخواست گزار نے یہ دلیل بھی دی کہ محض کسی شخص کے خلاف متعدد فوجداری مقدمات کا موجود ہونا احتیاطی حراست کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ٹھوس اور قابل اعتماد مواد کی بنیاد پر متعلقہ حکام کا باخبر اور حقیقی اطمینان ضروری ہے۔
دوسری جانب اتر پردیش حکومت نے مو¿قف اختیار کیا کہ دستیاب شواہد سے اس بات کا امکان ظاہر ہوتا ہے کہ ملا افروز دوبارہ تشدد کا سبب بن سکتے ہیں یا عوامی نظم و نسق کو متاثر کرسکتے ہیں، اس لیے احتیاطی حراست کا فیصلہ درست تھا۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پولیس حراست کے دوران مبینہ اعترافی بیان کی قانونی حیثیت اور احتیاطی حراست کے لیے درکار مواد کی اہمیت پر غور کرتے ہوئے ملا افروز کی حراست منسوخ کردی۔
