نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے بعد ووٹر لسٹ سے خارج افراد کو راشن کی سہولت فراہم نہ کرنے کے مغربی بنگال حکومت کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی پر فوری سماعت اور عبوری راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار کو کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
عرضی میں مغربی بنگال حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے خارج ہونے والے افراد کو راشن سمیت بعض فلاحی سہولتوں سے محروم کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
منگل کے روز سپریم کورٹ نے اس رٹ پٹیشن کو فوری سماعت کے لیے فہرست بند کرنے سے انکار کر دیا۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس جے مالیہ باگچی پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے ایڈووکیٹ ایس پرسنا کی زبانی درخواست مسترد کر دی، جنہوں نے معاملے کی فوری سماعت کی استدعا کی تھی۔ یہ عرضی مغربی بنگال کی تنظیم پسم بنگا کھیت مزدور سمیتی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس ناگرتھنا نے وکیل سے سوال کیا کہ جب اس معاملے میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے تو پھر آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت براہِ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا گیا؟
اس پر وکیل ایس پرسنا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ صرف مغربی بنگال کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی نوعیت کا معاملہ ہے، کیونکہ کئی دیگر ریاستیں بھی ووٹر لسٹ سے خارج افراد کو فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کرنے کے لیے مغربی بنگال کے طرزِ عمل کی پیروی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی ایس آئی آر کے عمل کو برقرار رکھ چکی ہے، اس لیے اس سے پیدا ہونے والے نتائج سے متعلق معاملات پر غور کرنے کے لیے بھی یہی مناسب فورم ہے۔
تاہم بنچ نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ یہ ایک الگ قانونی تنازع ہے جس کی بنیادِ دعویٰ مختلف ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کلکتہ ہائی کورٹ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کام شروع کر چکی ہے۔
جسٹس ناگرتھنا نے درخواست گزار کو مشورہ دیتے ہوئے کہا:
“براہِ کرم اس معاملے کو کلکتہ ہائی کورٹ لے جائیں۔”
چنانچہ سپریم کورٹ نے عرضی کو فوری سماعت کے لیے فہرست بند کرنے سے انکار کر دیا اور درخواست گزار کو مناسب ریلیف کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔