انصاف نیوز نیٹ ورک:
پونے کی ایک خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت میں ونائک دامودر ساورکر کے پوتے ستیہکی ساورکر نے اعتراف کیا کہ ساورکر نے برطانوی حکومت کے سامنے اپنی سزا میں کمی کے لیے 10 رحم (Mercy) کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسی دور کے کئی دیگر انقلابیوں نے انگریز حکومت کے سامنے معافی یا رحم کی درخواستیں دینے سے انکار کر دیا تھا۔
یہ بیان ستیہکی ساورکر نے خصوصی جج امول شندے کی عدالت میں اپنی جرح کے دوران دیا۔ عدالت اپوزیشن لیڈر اہل گاندھی کے خلاف دائر مجرمانہ ہتکِ عزت کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے، جو ستیہکی ساورکر نے لندن میں راہول گاندھی کی ایک تقریر کے بعد دائر کیا تھا۔
راہول گاندھی کے وکیل ملند پوار کی جانب سے جرح کے دوران ستیہکی ساورکر نے تسلیم کیا کہ ونائک دامودر ساورکر نے دس مرتبہ رحم کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر کو ’’ویر‘‘ (بہادر) کا خطاب انڈمان بھیجے جانے سے پہلے ہی دیا جا چکا تھا اور یہ خطاب ان کی رحم کی درخواستوں کے بعد بھی برقرار رہا۔
جرح کے دوران ستیہکی ساورکر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ساورکر نے سزا سنائے جانے کے ایک ماہ میں ہی پہلی رحم کی درخواست دائر کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے برطانوی حکومت کے سامنے رحم کی درخواستیں نہیں دیں اور وہ اپنے نظریات اور اصولوں پر آخری وقت تک قائم رہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ساورکر کی جانب سے دائر تمام رحم کی درخواستوں کا ریکارڈ سرکاری دستاویزات میں موجود ہے۔ تاہم ستیہکی ساورکر کا مؤقف تھا کہ ان درخواستوں میں استعمال ہونے والی زبان کو برطانوی حکومت سے وفاداری کے اظہار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ زبان اس دور کے سرکاری ضابطوں اور پروٹوکول کے مطابق تھی۔
ستیہ ساورکر نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت نے ساورکر کی تمام رحم کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انگریز انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ اگر ساورکر کو رہا کر دیا گیا تو وہ دوبارہ انقلابی سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ رحم کی درخواست دائر کرنا اس دور میں ایک قانونی اور معمول کا عمل تھا اور صرف ساورکر ہی نہیں بلکہ دیگر قیدی بھی ایسی درخواستیں جمع کراتے تھے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کسی قیدی پر رحم کی درخواست دائر کرنے کی کوئی قانونی پابندی نہیں تھی اور یہ مکمل طور پر اس کی اپنی مرضی پر منحصر تھا۔
جرح کے دوران ستیہکی ساورکر اس بات کی کوئی دستاویزی شہادت پیش نہیں کر سکے کہ ساورکر کی رحم کی درخواستوں میں استعمال ہونے والی زبان محض رسمی تھی یا کسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ان مخصوص انقلابیوں کے نام معلوم نہیں جو رحم کی درخواستیں دائر کیے بغیر سخت سزائیں برداشت کرتے رہے۔
عدالت میں ساورکر کی ایک رحم کی درخواست کا حوالہ بھی پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے شکایت کی تھی کہ ان کے ساتھ انڈمان بھیجے گئے دیگر قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جبکہ انہیں اب بھی سخت شرائط کے تحت قید رکھا گیا ہے۔
مقدمے کی آئندہ سماعت میں مزید جرح اور شواہد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ونائک دامودر ساورکر کے پوتے ستیہکی ساورکر کی جانب سے دائر مجرمانہ ہتکِ عزت کی شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مختلف مواقع پر ساورکر کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز اور جھوٹے بیانات دیے ہیں۔
شکایت میں خاص طور پر 5 مارچ 2023 کو برطانیہ میں اوورسیز کانگریس کے ایک پروگرام سے راہول گاندھی کے خطاب کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ستیہکی ساورکر کا دعویٰ ہے کہ گاندھی نے جان بوجھ کر ایسے الزامات عائد کیے اس کا مقصد ساورکر کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور ان کے خاندان کو ذہنی اذیت پہنچانا تھا۔
شکایت کے مطابق اگرچہ یہ تقریر انگلینڈ میں کی گئی تھی، لیکن اس کے اثرات پونے سمیت پورے بھ’ارت میں محسوس کیے گئے کیونکہ تقریر کی ویڈیوز اور خبریں مختلف میڈیا پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر نشر اور شائع ہوئیں۔
ستیہکی ساورکر نے اپنی شکایت کے ساتھ راہل گاندھی کی تقریر کی ویڈیوز، متعدد نیوز رپورٹس اور یوٹیوب لنکس کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا ہے۔
شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں ساورکر پر ایک ایسی کتاب لکھنے کا الزام عائد کیا جس میں مبینہ طور پر ایک مسلمان شخص پر تشدد کا ذکر تھا۔ ستیہکی ساورکر کے مطابق نہ تو ساورکر نے ایسی کوئی کتاب لکھی اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات مکمل طور پر بے بنیاد، جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے۔
ستیہکی ساورکر نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ راہل گاندھی کو تعزیراتِ ہند (IPC) کی دفعہ 500 کے تحت ہتکِ عزت کے جرم میں زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 357 کے تحت زیادہ سے زیادہ مالی معاوضہ عائد کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔مقدمہ اس وقت پونے کی خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جہاں دونوں فریق اپنے اپنے دلائل اور شواہد پیش کر رہے ہیں۔
