لکھنو : انصاف نیوز نیٹ ورک
الہ آباد ہائی کورٹ نے آگرہ کی دو بالغ بہنوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے والد نے گزشتہ ایک سال سے گھر میں قید کر رکھا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین والدین کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ محض اپنے بالغ بچوں کے مذہب یا عقیدے سے اختلاف کی بنیاد پر انہیں قید میں رکھیں۔ عدالت نے دونوں بہنوں کی رہائی کا حکم دیتے ہوئے ان کے والد اور اتر پردیش حکومت کو مشترکہ طور پر 25 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت بھی دی۔
آگرہ پولیس نے گزشتہ سال ان دونوں بہنوں، جن کی عمریں بالترتیب 35 اور 20 سال ہیں کو مغربی بنگال کے کولکاتا سے گرفتار کیا تھا۔پولیس نے مبینہ اغوا اور جبری شادی کے الزامات کے تحت کم از کم ایک درجن افراد کو گرفتار کیا تھا۔
عدالت نے اس پورے معاملے کو ’’مکمل طور پر غیر قانونی‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کے بنیادی حقوق سے ’’غیر قانونی محرومی‘‘کا معاملہ ہے۔
دونوں خواتین نے مبینہ طور پر 2020 اور 2021 میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے بعد وہ گزشتہ سال اپنا گھر چھوڑ کر کولکاتا چلی گئی تھیں۔ ان کے والد نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی کہ انہیں اغوا کرکے جبری شادی کے لیے لے جایا گیا ہے۔آگرہ پولیس دونوں خواتین کو کولکاتا سے واپس لے آئی اور مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے گرفتار افراد کے خلاف سخت دفعات عائد کی گئیں۔ ان میں ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے اور ایک منظم گروہ کا حصہ ہونے سے متعلق دفعات کے علاوہ اتر پردیش انسدادِ غیر قانونی مذہبی تبدیلی قانون کی دفعات بھی شامل تھیں۔
دونوں خواتین کو پولیس نے ان کے والد کے حوالے کر دیا تھا، جبکہ گرفتار ملزمان جیل میں ہیں۔ یہ بات ان کے وکیل علی بن سیف نے بتائی۔
جب دونوں خواتین نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور اپنے والد کی جانب سے قید اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا تو جسٹس سندیپ جین کی سنگل بنچ نے 6اگست کے اپنے حکم میں کہاکہ
> ’’آئین والدین کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ صرف اس وجہ سے اپنے بالغ بچوں کو قید میں رکھیں کہ وہ ان کے عقیدے، مذہبی نظریات یا ذاتی انتخاب سے اختلاف کرتے ہیں۔ آئینی حقوق کو والدین کے اختیار، سماجی اخلاقیات یا اکثریتی جذبات کے زیرِ اثر نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
جسٹس جین نے مزید کہاکہ ’’کسی بالغ فرد کی آزادی ناقابلِ تسخیر ہے، اور طاقت یا جبر کے ذریعے اس آزادی کو دبانے کی کوئی بھی کوشش آئینی عدالتی جانچ کے دائرے میں آتی ہے۔ ایسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر مناسب عوامی قانونی کارروائی کے ساتھ مالی معاوضہ بھی دیا جا سکتا ہے۔‘‘
دونوں بہنوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنی مرضی اور مکمل شعوری فیصلے کے تحت اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کسی لالچ، اثر و رسوخ، جبر، دباؤ، غیر ضروری ترغیب یا کسی بیرونی مفاد کے تحت نہیں کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ان کے والد نے انہیں زبردستی آبائی گھر میں قید رکھا اور انہیں اپنا مذہب ترک کرکے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے جسمانی پابندی، دھمکی اور مسلسل ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
بہنوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، شناختی دستاویزات، بینک پاس بکس، چیک بکس، مذہب تبدیلی سے متعلق دستاویزات اور دیگر ذاتی سامان ان کے والد نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
بڑی بہن ایم ایس سی، ایم فل اور بی ایڈ کی ڈگریاں رکھتی ہیں، جبکہ چھوٹی بہن نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔
ان کے وکیل علی بن سیف نے بتایا کہ ان کے والد کو 2021 میں دونوں بیٹیوں کے اسلام قبول کرنے کا علم ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر دونوں کو زبردستی گھر میں قید رکھا۔ گزشتہ سال دونوں بہنیں گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تھیں۔
اتر پردیش حکومت کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ خواتین کا مبینہ مذہب تبدیل کرنا ’’ایک بڑی اور منظم سازش‘‘ کا حصہ تھا، جس کے ملک کی خودمختاری، سالمیت اور اتحاد پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تفتیش کاروں نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ افراد ایک منظم منصوبےکے تحت کام کر رہے تھے، جس کا مقصد غیر قانونی مذہبی تبدیلیوں کے ذریعے ملک کے سماجی ڈھانچے کو متاثر کرنا تھا۔تفتیش کاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مبینہ مذہب تبدیلی کے عمل میں غیر ملکی عناصر اور بیرونی قوتوں کے ممکنہ کردار سے متعلق مواد سامنے آیا ہے۔تاہم، خواتین کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مذہب تبدیلی کو ملک کی خودمختاری، سالمیت اور اتحاد کے لیے خطرہ قرار دینا محض قیاس آرائی ہے اور اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دو بالغ خواتین کا اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا ملک کی خودمختاری، سالمیت یا اتحاد کے لیے خطرہ کیسے بن سکتا ہے؟۔
تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے ریاستی حکومت کے اس بنیادی مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ ہندو مذہب سے اسلام قبول کرنے والی دونوں خواتین کا معاملہ کسی ایسی بڑی سازش کا حصہ ہے جو ملک کی خودمختاری، سالمیت اور اتحاد کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔عدالت نے کہا کہ دونوں خواتین کے بیانات ’’بے ساختہ، مربوط اور واضح‘‘ تھے اور ایسا کچھ بھی سامنے نہیں آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ ان میں سے کوئی بھی خاتون جبر، خوف، لالچ یا غیر ضروری اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہی تھی۔
بنچ نے اپنے حکم میں کہاکہ > ’’دو بالغ خواتین کو محض اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کی وجہ سے زبردستی قید کرنا قانون کی حکمرانی کے لیے ایک سنگین توہین اور آئین کے آرٹیکل 21 اور 25 میں دی گئی ناقابلِ تسخیر ضمانتوں کی کھلی، دانستہ اور مسلسل خلاف ورزی ہے۔‘‘عدالت نے ریاستی اداروں کے کردار کو بھی ’’انتہائی تشویشناک‘‘قرار دیا۔
عدالت نے کہا کہ ریاست، جو ہر شہری کی زندگی اور آزادی کے تحفظ کی سب سے بڑی آئینی ذمہ دار ہے، خواتین کو غیر قانونی قید سے آزاد کرانے کے بجائے انہیں فوجداری مقدمے کی آڑ میں اسی غیر قانونی حراست میں رہنے دیا۔عدالت کے مطابق ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی مشینری اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی۔اس طرح کی انتظامی بے عملی اور آئینی بے حسی کو عدالت کی منظوری حاصل نہیں ہو سکتی، اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے میں ریاست بھی عوامی قانون کے تحت جواب دہ ہے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ دونوں خواتین کو ان کے والد کی جانب سے ریاستی اداروں کی ملی بھگت اور چشم پوشی میں حراست میں رکھنا مکمل طور پر غیر قانونی تھا۔ عدالت نے ان کی آزادی بحال کرنے کا حکم دیا۔
ساتھ ہی عدالت نے ہدایت دی کہ اس معاملے کی پولیس تفتیش قانون کے مطابق جاری رکھی جائے اور موجودہ کارروائی کے دوران عدالت کی جانب سے دیے گئے مشاہدات کو تفتیش پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے۔تاہم، عدالت نے ریاستی حکومت کو اجازت دی کہ 25 لاکھ روپے کے معاوضے میں سے 50 فیصد رقم والد سے وصول کی جائے، جبکہ باقی 50 فیصد ان سرکاری اہلکاروں سے وصول کی جائے۔جن کے افعال یا غفلت کے باعث دونوں خواتین کو ان کی آئینی آزادی سے غیر قانونی طور پر محروم کیا گیا۔
