نور اللہ جاوید
1990 کی دہائی میں جب بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازع اپنے عروج پر تھا تو بعض لبرل دانشوروں اور سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ اگر مسلمان رضاکارانہ طور پر بابری مسجد کے دعوے سے دستبردار ہو جائیں تو شاید تاریخی عبادت گاہوں کو لے کر جاری کشیدگی کا خاتمہ ہو جائے گا اور بھارت میں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور یکجہتی کا ماحول قائم اور ہندتو کی سیاست کا خاتمہ ہوجائے گا۔ تاہم نومبر 2019 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کی زمین ہندو فریق کے حوالے کر دی گئی اور بعد ازاں رام مندر کی تعمیر بھی مکمل ہو گئی، لیکن اس کے باوجود تاریخی مساجد اور اسلامی یادگاروںکو متنازع بنانے کا سلسلہ نہیں روکا ہے۔رام جنم بھومی ، کاشی اور متھرا کے بعد سنبھل اور دھار کی بھوج شالہ متنازع بن چکے ہیں ۔اسلامی یادگار ، تاریخی مساجد اور تاریخی عمارت کو متنازع بنانے کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے ۔حالیہ برسوں میں بعض حلقوں کی جانب سے دیوبند کی نئی تعمیر شدہ مسجد رشید کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اب اسی سلسلے کی تازہ کڑی مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں واقع آدینہ مسجد ہے، جو کبھی پورے برصغیر کی سب سے بڑی مسجد سمجھی جاتی تھی اور جو سلطنتِ بنگال کی سیاسی، ثقافتی اور مذہبی عظمت کی ایک غیر معمولی علامت ہے۔تقریباً ساڑھے چھ سو برس قبل تعمیر ہونے والی یہ عظیم الشان مسجد آج محکمہ آثارِ قدیمہ ہند (ASI) کے تحفظ میں ہے۔ یہاں کئی دہائیوں سے باقاعدہ نماز ادا نہیں کی جا رہی اور یہ ایک محفوظ تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں بعض ہندوتوا تنظیموں اور نظریاتی حلقوں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کردیاہے کہ آدینہ مسجد دراصل کسی قدیم ہندو مندر کو منہدم کر کے تعمیر کی گئی ہے، اس لیے اس کی مذہبی حیثیت پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔اس مہم میں بنگال کی حکمراں جماعت بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ بھی شامل ہوچکے ہیں ۔دسمبر 2025میں بنگال بی جے پی کے صدر شیامک بھٹاچاریہ نے راجیہ سبھا میں اس مسئلے کو اٹھایا تو دوسرے ممبر پارلیمنٹ راہل سنہا نے کہا کہ ’’آدینہ مسجد ‘’ ہمارے لئے بابری مسجد سے کم نہیں ہے۔رام مندر کو لے کر جو جذبات ہندئوں میں تھےوہی جذبات ہمیںآدینہ مسجد کی جگہ شیولنگ اور آدی ناتھ مندر کی تعمیر کو لے کرہے۔
تاہم یہ سوال اہم ہے کہ آزادی کے بعد سات دہائیوں تک آدینہ مسجد کبھی عوامی یا سیاسی تنازع کا موضوع کیوں نہیں تھی اور اب اچانک کیوں ہوگئی؟ نوآبادیاتی دور کے برطانوی ماہرین آثارِ قدیمہ، بنگال کے نامور مورخین اور جدید تعلیمی اداروں سے وابستہ محققین نے آدینہ مسجد پر تفصیلی تحقیقات کی ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اسے بابری مسجد یا متھرا طرز کے کسی مذہبی تنازع کے طور پر پیش نہیں کیا۔ پھر آخر آج اسے متنازع بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ اس کے پس منظر میں کون سے سیاسی، نظریاتی اور ثقافتی عوامل کارفرما ہیں؟یہ بحث صرف ایک عمارت کی ملکیت یا مذہبی شناخت تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق بنگال کی تاریخ، سلطنتِ بنگال کی سیاسی خودمختاری، اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقا اور برصغیر کی مشترکہ تہذیبی وراثت سے بھی ہے۔ آدینہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ چودھویں صدی کے بنگال کی سیاسی خود اعتمادی، تہذیبی شناخت اور شاہی تصورِ اقتدار کی نمائندہ یادگار ہے۔اس تنازع کے تناظر میں ایک اور اہم سوال بھی سامنے آتا ہے۔ آدینہ مسجد میں بعض ایسے ستون، سنگی تختے اور آرائشی نقوش موجود ہیں جن پر ہندو اور بدھ فنِ تعمیر کے اثرات نمایاں ہیں۔ جب کہ اسلامی عقیدہ بت پرستی اور مورتی پوجا کی واضح نفی کرتا ہے، تو پھر مسجد جیسی خالص توحیدی عبادت گاہ میں ایسے پتھروں اور آرائشی عناصر کا استعمال کیوں کیا گیا؟ کیا یہ واقعی کسی مندر کے انہدام کا ثبوت ہیں یا پھر ان کی کوئی دوسری تاریخی اور تعمیراتی توضیح موجود ہے؟اس مضمون میں ہم آدینہ مسجد کی تاریخ، اس کے فنِ تعمیر، آثارِ قدیمہ کے شواہد، برطانوی اور بنگالی مورخین کی آرا، اور حالیہ سیاسی دعووں کا تنقیدی جائزہ لیں گے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آدینہ مسجد کے بارے میں تاریخ کیا کہتی ہے اور معاصر سیاست اس تاریخ کو کس طرح پڑھنے اور پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔آدینہ مسجد کے بارے میں جاری معاصر بحث کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ جذباتی اور سیاسی دعووں سے ہٹ کر تاریخی شواہد، آثارِ قدیمہ کی تحقیقات اور مستند مورخین کی آرا کا جائزہ لیا جائے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آدینہ مسجد کس تاریخی پس منظر میں تعمیر ہوئی، سلطنتِ بنگال کی سیاسی حیثیت کیا تھی، اور اس مسجد کا قیام محض ایک مذہبی عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ ایک خودمختار بنگالی سلطنت کے سیاسی اور تہذیبی اظہار کا حصہ کیوں سمجھا جاتا ہے۔
سلطنتِ بنگال کا ظہور اور آدینہ مسجد کی تعمیر کا تاریخی پس منظر
انگریز مصنف ریچرڈ ایم ا یٹو ن اپنی مشہورکتاب ’’دی رائز آف اسلام ایند بنگال فرینٹیئر 1204-1760میں سلطنت بنگالہ کے قیام اور آدینہ مسجد کی تعمیر کا پس منظرذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’1258ء میں ہلاکو خان کی قیادت میں منگول افواج نے بغداد فتح کیا اور عباسی خلیفہ معتصم کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی اسلامی دنیا میں سیاسی جواز کے سب سے بڑے مرکز کا خاتمہ ہوگیا۔ تاہم اس عظیم سانحے کے کئی دہائیوں بعد تک ہندوستان میں جاری ہونے والے بعض سکوں پر ’’خلیفہ المستعصم کے عہد میں‘‘ جیسے الفاظ درج کیے جاتے رہے، جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برصغیر کے مسلم حکمران عباسی خلافت کو اب بھی سیاسی و مذہبی جواز کا بنیادی سرچشمہ سمجھتے تھے۔بالآخر 1320 میں دہلی کے سلطان قطب الدین مبارک شاہ نے روایت سے ہٹ کر خود کو ’’خلیفۂ اسلام‘‘ قرار دیا۔ اگرچہ اس دعوے کو عالمِ اسلام میں وسیع قبولیت حاصل نہ ہو سکی، لیکن اس نے یہ تصور ضرور پیدا کیا کہ سیاسی اقتدار اور خلافت کا مرکز صرف عرب دنیا تک محدود نہیں ہے اور مختلف علاقوں میں بھی خودمختار مسلم سلطنتیں اپنے اقتدار کے لیے مذہبی و سیاسی جواز پیدا کر سکتی ہیں۔اسی فکری اور سیاسی پس منظر میں 1342ء میں شمس الدین الیاس شاہ نے دہلی سلطنت کی بالادستی سے بنگال کو آزاد کر کے ایک خودمختار سلطنت کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے دارالحکومت کو لکھنوتی سے منتقل کرکے مالدہ ضلع کے پانڈوا میں قائم کیا، جو دہلی سے سیاسی اور علامتی علاحدگی کا واضح اظہار تھا۔ابتدا میں دہلی سلطنت نے بنگال کی آزادی کو تسلیم نہیں کیا۔ 1353ء میں سلطان فیروز شاہ تغلق ایک بڑی فوج کے ساتھ بنگال پر حملہ آور ہوا۔ اگرچہ وہ عارضی طور پر پانڈوا پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن پورے بنگال پر قبضہ نہیں جماسکا چند برس بعد اس نے دوبارہ بنگال پر حملہ کیا، مگر اس بار سلطان سکندر شاہ نے اس کی پیش قدمی روک دی۔ ان ناکام مہمات کے بعد دہلی نے بنگال پر دوبارہ قبضے کی کوشش ترک کر دی اور یوں بنگال تقریباً دو صدیوں تک شمالی ہند کی فوجی مداخلت سے محفوظ رہا۔بنگالی شناخت اور الیاس شاہی سلطنت الیاس شاہی سلطنت کا ظہور محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ بنگال کی دیرینہ ثقافتی شناخت اور علاقائی خودمختاری کا اظہار بھی تھا۔
تیرہویں صدی کے اواخر میں سیاح مارکو پولو نے ’’بنگالہ‘‘ کا ذکر ایک ایسے خطے کے طور پر کیا جو اپنی جداگانہ شناخت رکھتا تھا اور جہاں کے لوگ ایک مخصوص زبان اور ثقافت کے حامل تھے۔چودھویں صدی کے مؤرخ شمسِ سراج عفیف نے شمس الدین الیاس شاہ کو ’’سلطانِ بنگالیان‘‘ اور ’’شاہِ بنگال‘‘ کے القاب سے یاد کیا ہے۔ ان کے جاری کردہ سکوں اور بعد کے حکمرانوں کی تعمیرات میں بھی بنگال کی سیاسی خودمختاری کا یہی جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔شمس الدین الیاس شاہ کے سکوں پر درج عبارتیں بھی ان کے سیاسی عزائم کی عکاسی کرتی ہیں۔سکہ اوپری حصہ میں ’’العادل السلطان شمس الدنیا والدین ابوالمظفر الیاس شاہ السلطان‘‘سکہ کے دوسرے حصے میں ’’السکندر الثانی، یمین الخلافۃ، ناصر امیرالمؤمنین‘‘یہ القابات ظاہر کرتے ہیں کہ الیاس شاہی حکمران خود کو صرف ایک علاقائی فرمانروا نہیں بلکہ وسیع اسلامی سیاسی روایت کا حصہ سمجھتے تھے۔سکندر شاہ اور آدینہ مسجدالیاس شاہ کے جانشین سلطان سکندر شاہ نے اس سیاسی تصور کو مزید وسعت دی۔ ’’سکندرِ ثانی‘‘ کا لقب اختیار کرکے انہوں نے نہ صرف شاہی عظمت کا اظہار کیا بلکہ اپنے اقتدار کو عالمگیر اسلامی سلطنتوں کی روایت سے بھی جوڑنے کی کوشش کی۔اگرچہ سکندر اعظم جیسی فتوحات ان کے حصے میں نہیں آئیں، تاہم چودھویں صدی کے بھارت میں الیاس شاہی حکمرانوں نے غیر معمولی سیاسی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے دہلی سلطنت کی پیش قدمی کو روکا اور چمپارن، تِرہت، نیپال، جاج نگر (اڑیسہ) اور کامروپ (آسام) سمیت متعدد ہمسایہ علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا۔اسی سیاسی اعتماد اور سلطنتی وقار کا سب سے عظیم اظہار’’ آدینہ مسجد‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔اس کی تعمیر 1375ء میں پانڈوا میں مکمل ہوئی۔آدینہ مسجد اور شاہی تصورِ اقتدارآدینہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ خودمختار سلطنتِ بنگال کے سیاسی اور تہذیبی تشخص کی علامت بھی تھی۔ اپنے حجم، منصوبہ بندی اور تعمیراتی شان و شوکت کے اعتبار سے یہ اپنے عہد کی عظیم ترین مساجد میں شمار ہوتی تھی۔اگرچہ مسجد کی تعمیر میں قبل از اسلام عمارتوں سے حاصل شدہ بعض پتھر اور تعمیراتی اجزاء استعمال کیے گئے، لیکن جدید مؤرخین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بڑی تعداد اسے صرف مذہبی غلبے کی علامت کے طور پر نہیں دیکھتی۔ ان کے نزدیک یہ عمل جزوی طور پر دستیاب تعمیراتی مواد کے استعمال اور مقامی فنی روایت کے تسلسل سے بھی متعلق تھا۔ مسجد کی آرائش میں پالا اور سینا عہد کے فنِ تعمیر کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو بنگال کی مقامی ثقافت اور اسلامی فنِ تعمیر کے امتزاج کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انگریز مصنف ریچرڈ ایم ا یٹو ن آدینہ مسجد کے طرز تعمیر اور نقش ونگار پر تبصرہ کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں کہ مسجد کا طرزِ تعمیر دہلی سلطنت کی روایتی مساجد سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اس کی مغربی دیوار، بلند محرابی ساخت اور مرکزی منصوبہ بندی قبل از اسلام ساسانی ایران کی شاہی عمارتوں، خصوصاً طاقِ کسریٰ، کی یاد دلاتی ہے۔مسجد کے مرکزی حصے میں ایک عظیم الشان بیرل والٹ (Barrel Vault) تعمیر کیا گیا تھا، جو برصغیر کی اسلامی تعمیرات میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال تھی۔ یہ خصوصیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ الیاس شاہی حکمران اپنے اقتدار کو صرف دہلی کی روایت سے نہیں بلکہ وسیع تر ایرانی اور اسلامی شاہی ورثے سے وابستہ کرنا چاہتے تھے۔بادشاہ کا تخت اور سلطنتی وقارآدینہ مسجد کے اندر ایک بلند چبوترہ بھی تعمیر کیا گیا تھا جسے ’’بادشاہ کا تخت‘‘ کہا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق سلطان یہاں عام نمازیوں سے بلند مقام پر کھڑے ہو کر عبادت کرتا تھا۔ اس تک رسائی کے لیے ایک مخصوص نجی راستہ بھی موجود تھا۔یہ انتظام اس بات کی علامت تھا کہ مسجد صرف مذہبی مرکز نہیں بلکہ سلطنتی اقتدار اور شاہی وقار کے اظہار کا بھی ایک ذریعہ تھی۔مسجد کے ایک کتبے میں سلطان سکندر شاہ کی مدح میں درج عبارت اس شاہی خود اعتمادی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں انہیں عرب و فارس کے سلاطین میں ممتاز حکمران کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔فارس، مکہ اور مدینہ سے فکری تعلق الیاس شاہی حکمرانوں کی سیاسی اور ثقافتی وابستگیاں دہلی تک محدود نہیں تھیں۔ سلطان غیاث الدین اعظم شاہ نے مکہ اور مدینہ میں تعلیمی اداروں کی سرپرستی کی اور شیراز کے معروف شاعر حافظ شیرازی سے روابط استوار کرنے کی کوشش کی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلطنتِ بنگال اپنے آپ کو وسیع اسلامی دنیا کا حصہ سمجھتی تھی اور اس کی فکری نگاہیں دہلی سے زیادہ مکہ، مدینہ، شیراز اور ایرانی تہذیبی مراکز کی طرف مرکوز تھیں۔چینی سفیر کی چشم دید گواہی پندرھویں صدی کے اوائل میں بنگال آنے والے ایک چینی سفیر نے پانڈوا کے شاہی دربار کی شان و شوکت کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ اس کے مطابق شاہی محل اینٹوں سے تعمیر شدہ تھا، ستونوں پر سونے اور پیتل کی آرائش کی گئی تھی، ہزاروں سپاہی زرہیں پہنے کھڑے رہتے تھے، ہاتھیوں کی قطاریں موجود تھیں اور بادشاہ جواہرات سے مزین تخت پر جلوہ افروز ہوتا تھا۔مور پنکھ کے چھتر، طلائی برتن، سونے کی کمربندیں اور دیگر شاہی علامات اس دربار کو ایرانی اور ساسانی شاہی روایات سے قریب تر بناتی تھیں۔یہ تمام شواہد اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آدینہ مسجد اور الیاس شاہی سلطنت محض ایک علاقائی حکومت کی نمائندہ نہیں تھیں بلکہ وہ اپنے آپ کو ایک خودمختار، باوقار اور عالمی اسلامی سلطنت کے طور پر پیش کرنا چاہتی تھیں۔ یہی تاریخی پس منظر آدینہ مسجد کی اصل اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور اسے محض موجودہ سیاسی تنازعات کے محدود دائرے میں دیکھنے کے بجائے بنگال کی وسیع تہذیبی اور تاریخی
روایت کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
آدینہ مسجد میں ہندو و بدھ نقوش: مندر انہدام کا ثبوت یا تعمیراتی مواد کا دوبارہ استعمال؟
آدینہ مسجد سے متعلق موجودہ تنازع کی بنیاد بنیادی طور پر اس حقیقت پر قائم ہے کہ مسجد کے مختلف حصوں میں ایسے ستون، سنگی تختے، آرائشی نقوش اور تعمیراتی اجزاء موجود ہیں جن پر ہندو اور بدھ فنِ تعمیر کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ بعض ستونوں پر کنول کے پھول، بیل بوٹے، گھنٹی اور زنجیر کے نقوش نمایاں ہیں، جبکہ چند پتھروں پر ایسی تراش خراش بھی ملتی ہے جو غالباً قبل از اسلام مندروں یا بدھ عبادت گاہوں سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی آثار بعض ہندوتوا حلقوں کو یہ دعویٰ کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ آدینہ مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے تعمیر کی گئی تھی۔تاہم تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے میدان میں صرف تعمیراتی اجزاء کی موجودگی کسی عمارت کے اصل ماخذ یا اس کے قیام کے طریقۂ کار کا قطعی ثبوت نہیں سمجھی جاتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آدینہ مسجد کے بارے میں قدیم، نوآبادیاتی یا جدید تحقیقات اس دعوے کی تائید کرتی ہیں؟دوسرا سوال یہ ہے کہ مسجد جیسی خالص توحیدی مرکز میں ایسے ستون اور پتھر کا استعمال کیوں کیا گیا جس میں مورتیوں کے نقوش تھے ۔دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر سکندر شاہ نے کسی مندر کو منہدم کرکے مسجد کی تعمیر کی تو پھر انہوں نے ایسے ستونوں کا استعمال ہی کیوں کیا ؟ دراصل انہی سوالوں میں ’’آدینہ مسجد ‘‘ کا سچ مضمر ہے۔ ریچرڈ ایم ایٹن بنگال میں اسلام کے پھیلاؤ اور مسلم اقتدار کے قیام کا تجزیہ کرتے ہوئے اس عام تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں کی تمام بڑی تعمیرات محض مذہبی غلبے یا مندروں کی تباہی کی علامت تھیں۔ ایٹن کے مطابق بنگال میں اسلامی اقتدار کے ابتدائی دور میں تعمیراتی سرگرمیوں کے لیے اکثر قدیم عمارتوں سے حاصل شدہ پتھر اور دیگر اجزاء استعمال کیے گئے، کیونکہ بنگال میں معیاری تعمیراتی پتھر کی قلت تھی اور اینٹ بنیادی تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ ان کے نزدیک قدیم ہندو اور بدھ عمارتوں کے تعمیراتی اجزاء کا استعمال لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ کسی مخصوص مندر کو منہدم کرکے مسجد تعمیر کی گئی ہو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایٹن آدینہ مسجد میں پائے جانے والے ہندو اور بدھ طرز کے بعض تعمیراتی عناصر کو بنگال کی مقامی تہذیبی روایت اور اسلامی فنِ تعمیر کے باہمی تعامل کی مثال قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ عمارت بنگال کی متنوع ثقافتی روایت، مقامی فنی ورثے اور اسلامی سیاسی اقتدار کے امتزاج کی نمائندہ ہے، نہ کہ صرف مذہبی تصادم کی ایک علامت۔یہی وجہ ہے کہ ریچرڈ ایٹن سمیت متعدد جدید مورخین آدینہ مسجد کو بنیادی طور پر سلطنتِ بنگال کے سیاسی اور تہذیبی اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مشہور بنگالی مورخ اور ماہر آثار قدیمہ رکھال داس بنرجی نے اپنی کتاب ہسٹری آف بنگال میں یہ ضرور لکھا کہ آدینہ مسجد کی تعمیر میں قدیم ہندو مندروں سے حاصل شدہ مواد استعمال ہوا، لیکن انہوں نے بھی اسے کسی ایک عظیم مندر کی تباہی کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا۔ماہر آثار قدیمہ احمد حسن دانی نے اپنی مشہور کتاب
:Muslim Architecture in Bengal
میں واضح طور پر لکھا کہ آدینہ مسجد میں استعمال شدہ کئی آرائشی عناصر اور سنگی اجزاء مقامی قبل از اسلام روایت سے لیے گئے تھے۔دانی کا زور اس بات پر ہے کہ بنگال کے مسلم معماروں نے مقامی فن اور تعمیراتی روایت کو اسلامی فن تعمیر میں جذب کیا۔ وہ آدینہ مسجد کو محض مندر توڑنے کی داستان کے بجائے ثقافتی امتزاج کی مثال قرار دیتے ہیں۔معروف فنِ تعمیر کے مؤرخ پرسی براؤن نے بھی آدینہ مسجد کو بنگال کی اسلامی تعمیرات کا شاہکار قرار دیا۔ انہوں نے مسجد کے ستونوں اور پتھروں میں ہندو اثرات کا ذکر کیا لیکن اسے صرف مندر کی جگہ تعمیر شدہ مسجد کے طور پر پیش نہیں کیا۔
رچرڈ ایٹن کے علاوہ نوآبادیاتی مورخین فنبار بیری فلڈ،آندرے ونکاور دیگر محققین نے اس مسئلے کا زیادہ باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔ان کے مطابق آدینہ مسجد میں بڑی مقدار میں پرانے مندروں کا تعمیراتی مواد استعمال ہوئے ہیں۔اس زمانے میں بنگال میں پتھر نایاب تھا، اس لیے قدیم عمارتوں کے اجزاء دوبارہ استعمال کرنا ایک عملی ضرورت بھی تھی۔اس عمل کو صرف مذہبی دشمنی کے تناظر میں دیکھنا تاریخی طور پر درست نہیں۔اب تک ایسا کوئی حتمی آثارِ قدیمہ کا ثبوت سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کرے کہ آدینہ مسجد کسی ایک مخصوص مندر کو گرا کر اسی مقام پر تعمیر کی گئی تھی۔ہندو اور بدھ نقوش کیوں موجود ہیں؟اس کے چند ممکنہ اسباب کا ان مصنفین نے ذکر کیا ہے۔قدیم مندروں کے ستون اور پتھر دوبارہ استعمال کیے گئے۔بنگال کے مقامی سنگ تراش اور معمار وہی تھے جو پہلے مندروں پر کام کرتے تھے۔اسلامی دور کے معماروں نے مقامی آرائشی روایت کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا بلکہ اسے نئے تناظر میں ڈھالا۔آدینہ مسجد کے متعدد نقش و نگار، بیل بوٹے، کنول اور زنجیر و گھنٹی کے نمونے مقامی بنگالی فن کی تسلسل کی علامت ہیں۔
آدینہ مسجد میں قبل از اسلام ہندو اور بدھ عمارتوں کے تعمیراتی اجزاء اور آرائشی عناصر کے استعمال کے واضح شواہد موجود ہیں، لیکن برطانوی، نوآبادیاتی اور جدید آثارِ قدیمہ کی تحقیقات اب تک یہ قطعی ثابت نہیں کر سکیں کہ مسجد کسی مخصوص مندر کو منہدم کرکے اسی مقام پر تعمیر کی گئی تھی۔ زیادہ تر ماہرین اسے قدیم تعمیراتی مواد کے دوبارہ استعمال اور بنگال کی مقامی ثقافتی و فنی روایت کے امتزاج کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
مورخین، تعمیراتی ماہرین اور سرکاری ریکارڈ اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں کہ مسجد کسی مسمار شدہ مندر پر بنائی گئی تھی۔ بنگال کی تاریخ کے مؤرخ دیپانجن گھوش نے وضاحت کی کہ مندر والے نظریے کی کوئی تاریخی یا لسانی بنیاد نہیں ہے۔دیپانجن گھوش نے انگریزی ویب سائٹ دی وائر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جو یہ ظاہر کرے کہ اس علاقے میں کبھی آدی ناتھ نام کا کوئی مندر تھا۔ جو تاریخی دستاویزات میں نے دیکھی ہیں ان میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ لفظ ‘آدینہ فارسی میں جمعہ کے دن کو کہتے ہیں۔ آدینہ مسجد کا مطلب ہے جمعہ کی مسجد، یا جامع مسجد۔
مغربی بنگال حکومت کی سرکاری دستاویزات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ادینہ مسجد 1369ء میں سلطان سکندر شاہ نے ایک شاہی جامع مسجد کے طور پر تعمیر کروائی تھی۔ تقریباً 500 میٹر ضرب 300 میٹر کے رقبے پر محیط اور 387 گنبدوں کو سہارا دینے والے 260 ستونوں پر مشتمل اس عظیم الشان ڈھانچے کو 19 ویں صدی میں اس وقت ویران چھوڑ دیا گیا تھا جب شدید زلزلوں نے اس کے اینٹوں کی محرابوں اور گنبدوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ بعد میں اسے کے تحت قومی اہمیت کی یادگار کے طور پر درج کیا گیا۔ادینہ اور اس کی تعمیرات آدینہ کی عمارت ثقافتی اور فنکارانہ ہم آہنگی کی ایک اہم مثال ہے جو قرون وسطیٰ کے بنگال کی خصوصیت رہی ہے۔ اس کے 39 محرابیں اور منبر اسلامی طرز کے ہیں، لیکن ان کی سجاوٹ میں علاقائی نقش و نگار شامل ہیں، جن میں محرابی ستون، کنول کے پھول کی شکل کے پائے اور سہ پتی محرابیں شامل ہیں۔ یہ اسلامی علامتوں کے ساتھ نظر آتے ہیں، جیسے سورۃ النور سے منسوب لٹکتے ہوئے چراغ کے ڈیزائن۔اس یادگار میں بسالٹ کے پتھر، دروازوں کے چوکھٹ اور دیگر پہلے سے موجود غیر اسلامی عمارتوں کے مواد کا استعمال بھی ملتا ہے، جن پر کنول کی پنکھڑیوں، پتوں اور کچھ تراشے ہوئے مجسموں کے نقش و نگار ہیں جنہیں بعض ماہرین گنیش اور شیو سے منسوب کرتے ہیں۔ دائیں بازو کے گروہوں نے ان عناصر کو اس ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے کہ اس جگہ پر ایک مندر کو مسمار کیا گیا تھا۔تاہم، ‘مسجد آرکیٹیکچر آف پری مغل بنگال کے مصنف اور مورخ سید محمود الحسن جیسے ماہرین انتباہ کرتے ہیں کہ پرانے تعمیراتی مواد کا دوبارہ استعمال قرون وسطیٰ کی تعمیرات میں عام تھا اور یہ تنہا اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا کہ مسجد بنانے کے لیے کسی فعال مندر کو تباہ کیا گیا تھا۔ ان کا استدلال ہے کہ بنگال کی علاقائی فنکارانہ طرز نے مسلم حکمرانوں کے دور میں بھی تعمیرات کو متاثر کیا، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جب کاریگر، سرپرست اور برادریاں ایک گہرے مشترکہ اور مخلوط ثقافتی ماحول میں کام کرتی تھیں۔لہٰذا، مختلف مذہبی روایتوں سے منسلک نقش و نگار کی موجودگی مقامی تعمیراتی طریقوں کی بقائے باہمی اور موافقت کی عکاسی کر سکتی ہے، نہ کہ ایک عبادت گاہ کی جگہ دوسری کی زبردستی تعمیر۔ پانڈوا کے اس مقام پر ادینہ مسجد کی تعمیر سے پہلے کسی مندر کی موجودگی کا کوئی تاریخی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
دستیاب تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آدینہ مسجد میں قبل از اسلام عمارتوں کے تعمیراتی اجزاء کے استعمال کے شواہد ضرور موجود ہیں، لیکن اب تک کوئی ایسا قطعی ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ مسجد کسی مخصوص مندر کو منہدم کرکے اسی مقام پر تعمیر کی گئی ہے اور یہ جگہ کبھی بھی ہندئوں کیلئے مقدس رہی ہے۔چنانچہ آدینہ مسجد کے اندر موجود ہندو اور بدھ نقوش کو تاریخ نویسی کی روشنی میں زیادہ تر’’تعمیراتی مواد کے دوبارہ استعمال‘‘ مقامی فنی روایت کے تسلسل اور اسلامی و بنگالی ثقافتوں کے باہمی تعامل کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے، نہ کہ لازماً کسی مندر انہدام کے ناقابلِ تردید ثبوت کے طور پر۔اسی لیے آدینہ مسجد پر موجودہ تنازع دراصل صرف آثارِ قدیمہ کا سوال نہیں، بلکہ تاریخ کی تعبیر، ثقافتی وراثت کی تفہیم اور معاصر سیاسی بیانیوں کے درمیان جاری ایک وسیع تر بحث کا حصہ بھی ہے۔
آخری سوال یہ ہے کہ اگر آدینہ مسجد واقعی ایک متنازع مذہبی مقام تھی تو پھر اس کی تعمیر کے تقریباً ساڑھے چھ سو برس بعد اور ہندوستان کی آزادی کے سات عشروں بعد اچانک اس کی مذہبی حیثیت پر سوالات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں؟ آخر کیوں اس تاریخی یادگار کو مندر اور شیولنگ کے دعووں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟اس سوال کا تعلق صرف آثارِ قدیمہ یا تاریخ سے نہیں بلکہ معاصر سیاست، شناخت اور تاریخ کی تعبیر سے بھی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے تنازعات اکثر انتخابی سیاست، سماجی پولرائزیشن اور اکثریتی ووٹ بینک کی تشکیل کے وسیع تر عمل سے جڑے ہوتے ہیں۔ مغربی بنگال جیسے صوبے میں، جہاں تاریخی طور پر مذہبی اور ثقافتی تنوع موجود رہا ہے، ماضی کی یادگاروں کے گرد نئے بیانیے تشکیل دینا سیاسی مباحث کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔تاہم آدینہ مسجد کے تنازع کو محض انتخابی سیاست یا فوری سیاسی فائدے کے تناظر میں دیکھنا بھی کافی نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے تاریخ، تہذیب اور قومی شناخت سے متعلق ایک وسیع تر نظریاتی کشمکش بھی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔
ہندوتوا فکر کے نظریہ ساز ایک ایسی تاریخی تعبیر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ جس میں ہندوستانی قومیت کی تشکیل بنیادی طور پر ہندو تہذیبی ورثے کے دائرے میں ہی محدود ر ہے۔ اس تناظر میں مسلم دورِ حکومت، اسلامی فنِ تعمیر اور برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت سے متعلق سوالات بار بار سیاسی مباحث کا حصہ بنائے جاتے ہیں اور اس کو رد کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی تاریخ کو مسلم عہد، اسلامی فنِ تعمیر، صوفی روایت، فارسی و اردو ادبیات اور مختلف مسلم سلطنتوں کے سیاسی و ثقافتی کردار کے بغیر نہ مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی دیانت داری کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ آدینہ مسجد، قطب مینار، تاج محل، فتح پور سیکری، گول گنبد اور ایسی بے شمار یادگاریں اس مشترکہ تاریخی ورثے کا حصہ ہیں جس نے ہندوستانی تہذیب کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے۔اس لیے آدینہ مسجد کا مسئلہ صرف ایک تاریخی عمارت کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اس بات سے بھی متعلق ہے کہ ہم تاریخ کو کس زاویے سے پڑھتے ہیں، اپنے ماضی کو کس طرح یاد کرتے ہیں اور اپنی مشترکہ تہذیبی میراث کو کس حد تک محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں محققین، مورخین، صحافیوں اور سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذباتی نعروں یا سیاسی دعووں کے بجائے مستند تاریخی شواہد، آثارِ قدیمہ کی تحقیقات اور علمی مطالعات کی روشنی میں حقائق کو عوام کے سامنے پیش کریں۔ تاریخ کا تحفظ صرف عمارتوں کے تحفظ کا نام نہیں، بلکہ سچائی، علمی دیانت اور اجتماعی یادداشت کے تحفظ کا نام بھی ہے۔
