جنتر منتر اور ملک کے دیگر مقامات پر احتجاج کے دوران پولیس لاٹھی چارج سے متعلق عرضیوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت کا اہم تبصرہ
نئی دہلی: انصاف نیوز نیٹ ورک
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے پیر کے روز زبانی طور پر یہ اہم مشاہدہ کیا کہ پرامن اور قانونی احتجاج کا حق آئینِ ہند کے تحت محفوظ ہے اور محض احتجاج یا مظاہرہ پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج یا حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کا جواز نہیں بن سکتا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے سپریم کورٹ کے روبرو دائر متعدد درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ تبصرے کیے۔ ان درخواستوں میں ملک کے مختلف حصوں میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ حد سے زیادہ طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات اٹھائے گئے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگر پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی زیادتی ہوئی ہے تو اس کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ عدالت نے یہ بھی رائے ظاہر کی کہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پولیس کے لیے ایک یکساں قومی پروٹوکول مرتب کیا جانا ضروری ہے تاکہ مختلف ریاستوں میں مختلف طرزِ عمل اختیار کرنے کے بجائے ایک معیاری طریقۂ کار پر عمل ہو۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا:
“پرامن اور قانونی احتجاج کا حق آئین کے تحت مکمل طور پر حاصل ہے۔ جب تک کوئی تحریک پرامن ہے، صرف احتجاج کی بنیاد پر حد سے زیادہ طاقت استعمال نہیں کی جا سکتی۔ اگر کہیں زیادتی ہوئی ہے تو اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ صرف دہلی کا معاملہ نہیں ہے۔ ملک بھر میں ایسے معاملات کے لیے یکساں پروٹوکول کی ضرورت ہے۔ محض احتجاج ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ لاٹھی چارج کر دیا جائے۔ نظم و ضبط جمہوری عمل کا لازمی حصہ ہے۔”
عدالت نے سماعت کے دوران واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا کی درخواست کو بھی قبول کر لیا۔
اس موقع پر جسٹس جوئے مالیہ باگچی نے زبانی طور پر کہا:
“کسی بھی شخص کو پہنچنے والی چوٹ، خواہ وہ پولیس اہلکار ہو یا طالب علم، برابر کی تشویش کا باعث ہے۔ ہم ریاست سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے پولیس کو مناسب حفاظتی سامان کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔ اہلکاروں کے پاس ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی وسائل ہونے چاہئیں۔”
عدالت نے تمام عرضیوں کو یکجا کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت اگلے دن مقرر کر دی۔
فوری سماعت کی درخواست
واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو سینئر ایڈووکیٹ گوپال شنکر نارائنن نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والے بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے جاری احتجاجی تحریکوں اور پولیس کی جانب سے مبینہ حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ عدالت اس معاملے پر سماعت کرے گی۔
اس سے قبل 22 جولائی کو چیف جسٹس آف انڈیا نے 20 جولائی کو جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے حوالے سے دائر ایک خطی عرضی (Letter Petition) پر سماعت سے انکار کر دیا تھا، جس کا ذکر ایڈووکیٹ نریندر مشرا نے کیا تھا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے وضاحت کی تھی کہ اس وقت عدالت کے سامنے کوئی باقاعدہ عرضی موجود نہیں تھی، اس لیے سماعت ممکن نہیں تھی۔
درخواست میں کیا مطالبات کیے گئے ہیں؟
ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی کے ذریعے دائر کی گئی درخواستوں میں سے ایک میں عوامی احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو منظم کرنے کے لیے جامع رہنما اصول وضع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
- ہجوم پر قابو پانے کے لیے سادہ لباس میں اہلکاروں کی تعیناتی پر پابندی عائد کی جائے۔
- بی این ایس ایس (BNSS) کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کرنے کے لیے واضح رہنما اصول وضع کیے جائیں۔
- 20 جولائی کو دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ اس وقت بے روزگاری، مہنگی تعلیم، معاشی غیر یقینی، سماجی تنہائی اور حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں نوجوان اپنے آئینی حقوق کے تحت پرامن انداز میں اپنے مطالبات حکومت تک پہنچا رہے ہیں، لیکن ان کے جواب میں لاٹھی چارج، آنسو گیس، پیلٹ گنز اور دیگر سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ:
“نوجوانوں کی موجودہ نسل محرومی، بے روزگاری، مہنگی تعلیم، تنہائی اور اپنے ہی ملک میں اپنی حکومت کے ہاتھوں دھوکے اور بیگانگی کا احساس کر رہی ہے۔ وہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئے پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں، لیکن انہیں لاٹھی چارج، آنسو گیس، پیلٹ گنز اور طالبات کی عزت و وقار کو مجروح کرنے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔”
درخواست میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا ہے کہ 20 جولائی کو پرامن طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی جلیانوالہ باغ سانحہ کی یاد تازہ کرتی ہے۔
20 جولائی کے احتجاج کا پس منظر
یہ عرضی ایڈووکیٹ شیلندر منی ترپاٹھی کی جانب سے یونین آف انڈیا، دہلی حکومت، دہلی پولیس کمشنر اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں آئین کے آرٹیکل 14، 19(1)(a)، 19(1)(b)، 19(1)(d) اور 21 کے تحت حاصل بنیادی حقوق کے تحفظ اور نفاذ کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق 20 جولائی 2026 کو طلبہ اور دیگر شہری تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مبینہ پیپر لیک اسکینڈل کے خلاف پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس احتجاج کے جواب میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، بیریکیڈنگ کی گئی، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، لاٹھی چارج کیا گیا اور بڑی تعداد میں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
درخواست کے مطابق اس کارروائی کے دوران کم از کم 60 مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ متعدد طلبہ اور طالبات کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بھی پیش آئے۔ درخواست میں نامعلوم یا سادہ لباس میں موجود اہلکاروں کی جانب سے طاقت کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
انٹرنیٹ اور میٹرو خدمات کی بندش پر اعتراض
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران میٹرو خدمات معطل کیے جانے اور بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز بند کیے جانے سے عام شہریوں، دفتر جانے والے ملازمین، طلبہ، مریضوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
درخواست گزار کے مطابق اس کے نتیجے میں بینکنگ خدمات، ٹیلی میڈیسن، آن لائن تعلیم، ریموٹ ورک اور دیگر ہنگامی خدمات بھی متاثر ہوئیں۔
وسیع تر آئینی سوالات
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ صرف 20 جولائی کے ایک احتجاج تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے ملک میں پولیس کے احتساب، شہری آزادیوں، حقِ اجتماع، آزادیِ اظہار اور ریاستی اختیارات کے استعمال سے متعلق بنیادی آئینی سوالات اٹھاتا ہے۔
درخواست میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے بار بار استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انتظامیہ نے عوامی اجتماع کے آئینی حق کو عملاً پولیس کی پیشگی اجازت سے مشروط کر دیا ہے اور طویل مدت تک امتناعی احکامات نافذ رکھنا معمول بن گیا ہے۔
اسی طرح بی این ایس (BNS) کی دفعہ 152 کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ یہ شق اتنی وسیع اور مبہم ہے کہ اسے پرامن سیاسی اختلاف، حکومتی تنقید اور علمی مباحث کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے آزادیِ اظہار متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کا الزام
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ 20 جولائی کے احتجاج کے دوران سادہ لباس یا غیر شناخت شدہ اہلکاروں کی تعیناتی سپریم کورٹ کے مشہور فیصلوں ڈی کے باسو بنام ریاستِ مغربی بنگال اور سومناتھ بنام ریاستِ مہاراشٹر میں طے شدہ اصولوں کے منافی تھی۔
ان فیصلوں میں واضح کیا گیا تھا کہ گرفتاری یا پوچھ گچھ کرنے والے اہلکاروں کے لیے شناختی کارڈ یا نمایاں شناختی بیج پہننا لازمی ہے تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
درخواست گزار کی اہم استدعائیں
درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ:
- سادہ لباس یا بغیر شناختی بیج کے اہلکاروں کو کراؤڈ کنٹرول یا گرفتاریوں میں حصہ لینے سے روکا جائے۔
- بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے استعمال کے لیے واضح اور محدود طریقۂ کار وضع کیا جائے۔
- بی این ایس کی دفعہ 152 کو سیاسی اختلافِ رائے کے خلاف استعمال کرنے سے روکا جائے۔
- پرکاش سنگھ بنام یونین آف انڈیا (2006) میں دی گئی پولیس اصلاحات پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے۔
- آزاد پولیس شکایتی اتھارٹیز کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔
- 20 جولائی کے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس زیادتیوں، جنس پر مبنی تشدد اور غیر قانونی حراستوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی جائے۔
-
تشدد اور طالبات کے ساتھ مبینہ بدسلوکی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
