ہندی، اردو، نیپالی، سنتھالی، پنجابی اور اوڑیہ زبانوں کے مؤثر نفاذ اور تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور
کلکتہ:
ہندی اور اردو زبانوں کے درمیان باہمی قربت کو فروغ دینے اور ملک کی دیگر اقلیتی زبانوں کے تحفظ، ترویج اور حقوق کے لیے قائم ہندی اردو اکیڈمی نے مغربی بنگال میں اقلیتی زبانوں کو ان کا جائز مقام اور انصاف دلانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں ریاست کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ہندی، اردو، نیپالی، سنتھالی، پنجابی (گرمکھی) اور اوڑیہ زبانوں کے نمائندوں، ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ اور صحافیوں نے شرکت کی اور اکیڈمی کی اس پہل کو بروقت اور خوش آئند قرار دیا۔
شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران مغربی بنگال میں اقلیتی زبانوں کے فروغ، تدریس اور عملی نفاذ کے معاملے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث ان زبانوں سے وابستہ طبقوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوا۔ مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں مختلف زبانوں سے وابستہ اہلِ قلم اور سماجی کارکنوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ہندی اردو اکیڈمی کے بانی اور قائدِ اردو شمیم احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے قیام کے مقاصد اور اس کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہندی اور اردو کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی روایت برطانوی دورِ حکومت میں شروع ہوئی، جس کے اثرات آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں زبانیں ایک ہی تہذیبی اور لسانی سرچشمے سے پھوٹی ہیں۔ ان کا رسم الخط الگ ضرور ہے، مگر بول چال، مزاج اور تہذیبی ورثہ بڑی حد تک مشترک ہے۔
شمیم احمد نے کہا کہ آج دونوں زبانوں کو یکساں چیلنجز کا سامنا ہے۔ نئی نسل میں مطالعے کا رجحان کم ہو رہا ہے اور دونوں زبانوں کے قارئین کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے۔ ایسے میں باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ ورثے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی تاریخ صرف مسلمانوں کی قربانیوں تک محدود نہیں بلکہ متعدد غیر مسلم شخصیات نے بھی اس زبان کی خدمت کے لیے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اردو کے تحفظ کے لیے پہلی مرتبہ بھوک ہڑتال کرنے والے غیر مسلم رہنما پنڈت نارائن دت تھے۔ اسی مشترکہ روایت اور گنگا جمنی تہذیب کو دوبارہ زندہ کرنے کے مقصد سے ہندی اردو اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کی سرگرمیوں کا آغاز بہار سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال میں ماضی کے دوران ہندی، اردو اور دیگر اقلیتی زبانوں کے ساتھ دوستی کے نام پر ناانصافیاں کی گئیں۔ زبانوں کو آئینی اور قانونی حقوق تو دیے گئے، مگر ان کے مؤثر نفاذ اور عملی اطلاق کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جبکہ سیاسی اور سماجی حالات میں تبدیلی آ رہی ہے تو تمام اقلیتی زبانوں سے وابستہ افراد کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے مشترکہ حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

شمیم احمد نے کہا کہ ہندی اردو اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے مختلف زبانوں کے ادبی، ثقافتی اور علمی ورثے کے تبادلے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ زبانوں کے درمیان فاصلے کم ہوں، ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے اور ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ایک روشن اور ہم آہنگ مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔
مشاورتی اجلاس کے شرکا نے شمیم احمد کی اپیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں ہندی، اردو اور دیگر اقلیتی زبانوں کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ مقررین نے مختلف تجاویز پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ زبانوں کے درمیان مصنوعی فاصلے ختم کیے جائیں اور اہلِ زبان ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطہ، مکالمہ اور تعاون کو فروغ دیں۔
اجلاس میں مغربی بنگال میں بولی جانے والی اقلیتی زبانوں، یعنی ہندی، اردو، پنجابی (گرمکھی)، اول چیکی (سنتھالی)، اوڑیہ اور نیپالی کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود ان کے مؤثر نفاذ اور عملی اطلاق کی موجودہ صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اقلیتی زبانوں کے تحفظ، فروغ، ترویج اور تدریس کے حوالے سے ہندی اردو اکیڈمی اور متعلقہ اہلِ زبان کی ذمہ داریوں پر بھی سیر حاصل تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں ہندی اردو اکیڈمی کی مغربی بنگال ریاستی کمیٹی کی تشکیل، تنظیمی ڈھانچے، ذمہ داریوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہندی، اردو اور دیگر زبانوں کے ادباء، شعراء، محققین، دانشوروں اور اہلِ قلم کے درمیان باہمی تعاون، مشترکہ ادبی روابط، تخلیقات کے تبادلے، تراجم، ادبی تقریبات اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ہندی اردو اکیڈمی کے قومی جنرل سیکریٹری نے اکیڈمی کے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال یونٹ (West Bengal Unit) کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ ریاست میں زبان و ادب کی خدمت کو مزید منظم، فعال اور مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس یونٹ کے ذریعے ریاست بھر کے ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، صحافیوں، محققین اور دانشوروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا، نئی نسل میں مادری زبان کے شعور کو فروغ دیا جائے گا اور نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کے لیے سیمینار، مشاعرے، ادبی نشستوں، تربیتی ورکشاپس اور مختلف علمی و ثقافتی پروگراموں کا باقاعدہ انعقاد کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہندی اردو اکیڈمی مغربی بنگال میں تمام اقلیتی زبانوں کے آئینی، تعلیمی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ، ان کے مؤثر نفاذ اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ریاست گیر سطح پر منظم اور مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی۔
