نئی دہلی:
نئی دہلی میں گزشتہ سال حراست میں لیے جانے کے بعد غیر آئینی طریقے سے بنگلہ دیش ڈی پورٹ (ملک بدر) کیے گئے چار بنگالی مسلمان، جن میں ایک ماں اور دو بچے شامل ہیں، سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد بھارت واپس آگئے ہیں ۔
مئی میں سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ میں یہ بیان دیا تھا کہ حکومتِ ہند بنگلہ دیش ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو واپس لائے گی اور ان کی ہندوستانی شہریت کے دعوئوں کی تصدیق کرے گی۔
یہ معاملہ مغربی بنگال کے ضلع بیربھوم کے دو خاندانوں سے متعلق ہے جو دہلی کے روہنی میں مقیم تھے۔ انہیں گزشتہ سال جون میں دہلی پولیس نے بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا تھا اور مبینہ طور پر زبردستی بنگلہ دیش بھیج دیا تھا۔
ان میں سنالی خاتون، ان کے شوہر دانشمند شیخ، ان کا بیٹا اور ایک دوسری خاتون سویٹی بی بی (32) اپنے دو بچوں (جن کی عمریں 16 اور 6 سال ہیں) کے ساتھ شامل تھیں۔
سنالی خاتون، جو اس وقت حمل کے آخری تین مہینوں میں تھیں، اور ان کے بچے کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد گزشتہ سال دسمبر میں واپس لایا گیا تھا۔ جبکہ سویٹی بی بی (32)، ان کے دو بچے اور سنالی کے شوہر دانشمند شیخ کو بدھ کے روز واپس لایا گیا۔
راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سمیر الاسلام نے سوشل میڈیا پر ان افراد کی واپسی کی خبر شیئر کرتے ہوئے لکھا ک’’”بیربھوم کے غریب اور غیر قانونی طور پر ڈی پورٹ کیے گئے لوگوں کا طویل عرصے سے دیکھا جانے والا خواب بالآخر سچ ہو گیا ہے‘‘۔
مغربی بنگال مائگرینٹ لیبررس ویلفیئر بورڈ کے سابق چیئرمین، بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سے بنگالی مسلم تارکین وطن کی من مانی ملک بدری کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں اور انہوں نے ان خاندانوں کی قانونی لڑائی میں مدد کی ہے۔
اسلام نے ایکس (ٹویٹر) پر لکھاکہ ’’سپریم کورٹ نے بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے تمام لوگوں کی واپسی کا حکم دیا تھا۔ اگرچہ یہ حکم رواں سال 22 مئی کو جاری ہوا تھا اور اس پر عمل درآمد میں تاخیر ہوئی، لیکن آج بالآخر انصاف کی جیت ہوئی ہے۔ سچائی غالب آئی ہے اور ان خاندانوں کو بالآخر وہ انصاف مل گیا ہے جس کے وہ حقدار تھے‘‘۔
26 ستمبر 2025 کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اس ملک بدری کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا تھا اور مرکز کو ہدایت دی تھی کہ وہ تمام چھ ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو چار ہفتوں کے اندر واپس لائے۔ عدالت نے یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ انتظامیہ نے ’’جلد بازی‘‘ میں کارروائی کی تھی۔
مرکز نے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور یہ دلیل دی تھی کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے پاس اس معاملے کی علاقائی دائرہ اختیار نہیں ہے کیونکہ حراست اور ملک بدری کی کارروائی دہلی میں ہوئی تھی۔
