نئی دہلی : انصاف نیوز نیٹ ورک
وزارتِ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ یونائیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس کے 2025-26 رپورٹ کے مطابق، تعلیمی سال023-24 سے 2025-26کے درمیان سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں تقریباً 86 لاکھ کی کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ اسی مدت میں پرایوٹ غیر امدادی (پرائیویٹ ان ایڈیڈ) تسلیم شدہ اسکولوںمیں 88 لاکھ سے زائد نئے طلبہ کا اضافہ ہوا۔
یونائیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس حکومتِ ہند کا تعلیم کے شعبے سے متعلق سرکاری ڈیجیٹل ڈیٹا بیس ہے۔ وزارتِ تعلیم کے زیرِ انتظام یہ نظام اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، طلبہ کے داخلوں، اساتذہ کی تعداد اور دیگر تعلیمی اعداد و شمار کو حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں جمع کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنیادی (فاؤنڈیشنل) سے ثانوی سطح تک مجموعی طلبہ کی تعداد 2025-26* میں 24.72کروڑرہی، جبکہ 2023-24 میں یہ تعداد24.80کروڑ تھی، یعنی مجموعی طور پر تقریباً8.26طلباکی کمی درج کی گئی۔
تاہم، اس عرصے میں سرکاری اسکولوں میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد 12.75کروڑسے گھٹ کر 11.89کروڑ رہ گئی، جب کہ نجی غیر امدادی تسلیم شدہ اسکولوںمیں داخلے 9 کروڑ سے بڑھ کر 9.89کروڑتک پہنچ گئےہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ملک میں اسکولوں کی مجموعی تعداد معمولی کمی کے ساتھ 14.72لاکھ سے 14.67لاکھ ہوگئی، لیکن اساتذہ کی تعداد98.80لاکھ سے بڑھ کر1. 30کروڑ ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں طالب علم اور استاد کا تناسب 25.1سے بہتر ہو کر24.1ہوگیا۔
اسی طرح صفر داخلہ والے اسکولوںکی تعداد12,954سے کم ہو کر5 ,663رہ گئی، جب کہ صرف ایک استاد پر مشتمل اسکولوں کی تعداد1.11لاکھ سے کم ہو کر1.10لاکھ ہوگئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025-26 کے دوران درمیانی اور ثانوی سطح پر طلبہ کے اسکول میں برقرار رہنےکی شرح میں بہتری آئی ہے۔ درمیانی سطح پر یہ شرح 2024-25کے 82.8فیصد سے بڑھ کر83.7ہوگئی، جبکہ ثانوی سطح پر47.2فیصد سے بڑھ کر 51.9فیصدتک پہنچ گئی۔
البتہ فاؤنڈیشن اور پریپریٹری سطح پر 2025-26 میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، حالانکہ اس سے قبل 2022-23 سے 2024-25تک مسلسل تین برسوں کے دوران ان سطحوں پر بہتری کا رجحان دیکھا گیا تھا۔
