سول سروسز امتحانات میں معاشی پسماندگی طبقے کے کوٹے کا غلط استعمال–مہنگے پرایویٹ اسکولوں، آئی آئی ٹی گریجویٹس اور کاروباری خاندانوں کے امیدوار بھی معاشی پسماندگی کوٹے کا استعمال کرنے والوں میں شامل

upsc

نئی دہلی: سول سروسز امتحان 2025 میں اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے لیے مختص 10 فیصد ریزرویشن کے تحت منتخب امیدواروں کی سماجی و معاشی پس منظر سے متعلق ایک تحقیق نے اس کوٹے کے نفاذ اور اہلیت کے معیار پر نئی بحث شروع کردی ہے۔

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق کے مطابق ای ڈبلیو ایس کوٹے کے تحت منتخب ہونے والے 104 امیدواروں میں ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جو مہنگے نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں، معروف کوچنگ اداروں سے تربیت لے چکے ہیں، کاروباری خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کر چکے ہیں۔

ای ڈبلیو ایس ریزرویشن 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا، اس کے تحت جنرل زمرے کے ایسے خاندانوں کو 10 فیصد ریزرویشن دیا جاتا ہے جن کی سالانہ آمدنی آٹھ لاکھ روپے سے کم ہو اور وہ مقررہ اثاثہ جاتی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔

تحقیق کے مطابق 2025 میں ای ڈبلیو ایس کوٹے کے تحت کامیاب ہونے والے 104 امیدواروں میں سےکم از کم 67 امیدواروں نے معروف سول سروسز کوچنگ اداروں سے تربیت حاصل کی، جہاں سالانہ فیس ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ تک پہنچتی ہے۔ مجموعی طور پر 84 امیدواروں نے کسی نہ کسی نجی یا معروف کوچنگ ادارے سے رہنمائی حاصل کی۔ کم از کم 46 امیدوار مہنگے نجی اسکولوں کے فارغ التحصیل ہیں، جہاں سالانہ فیس 45 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہے۔ 28 امیدوار ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے والدین کاروبار کرتے ہیں، جن میں تجارت، کپڑے، اسٹیل فیبریکیشن اور دیگر کاروبار شامل ہیں۔ 10 امیدوار نجی شعبے یا ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کر چکے تھے۔ 14 امیدوار آئی آئی ٹی سے گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ ہیں، جبکہ کم از کم 3 امیدوار این آئی ٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ 27 امیدوار دہلی یونیورسٹی اور 3 جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

kuta

تاہم تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ای ڈبلیو ایس فہرست میں ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جو واقعی معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کامیاب ہوئے۔ان میں ایک سیکورٹی گارڈ کا بیٹا، ایک اسکول بس کنڈکٹر کا بیٹا، ایک سابق ریلوے قلی کی بیٹی، یومیہ مزدوروں کے بچے اور بے روزگار والدین کے امیدوار شامل ہیں۔

مزید برآں کم از کم سات امیدوار جواہر نوودیہ ودیالیہ جیسے سرکاری رہائشی اسکولوں کے فارغ التحصیل ہیں، جبکہ متعدد امیدوار دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین کسان ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 104 امیدواروں میں سب سے زیادہ امیدوار اتر پردیش (25)، بہار (17)، مدھیہ پردیش (14)، ہریانہ (9)، راجستھان (8) اور گجرات (5) سے تعلق رکھتے ہیں۔
سابق چیف انفارمیشن کمشنر اور محکمہ عملہ و تربیت (DoPT) کے سابق سیکریٹری ستیہ نند مشرا نے کہا کہ ای ڈبلیو ایس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے حکام کو صرف آمدنی کے گوشواروں یا خود اعلانیہ معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ سخت جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاشی طور پر مستحکم اور نسبتاً خوشحال طبقے کے افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے تو ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کا اصل مقصد متاثر ہوگا اور حقیقی ضرورت مند امیدواروں کے حقوق سلب ہو سکتے ہیں۔

یہ تحقیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کے معیار، اس کی شفافیت اور مستحق افراد تک اس کے فوائد پہنچانے کے طریقۂ کار پر بحث جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *