پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ فٹ پاتھ بنیادی حق قرار، سپریم کورٹ نے جامع قانون سازی پر زور دیا

Supremec Court copy copy

نئی دہلی:
سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں محفوظ، کشادہ اور واضح طور پر نشان زد فٹ پاتھوں پر چلنے کے حق کو آئینِ ہند کے تحت بنیادی حق قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حق کے تحفظ اور مؤثر نفاذ کے لیے جامع قانون سازی کی جائے۔

جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اتُل ایس چندورکر پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پیدل چلنے کا حق آئین کے حصہ سوم میں دیے گئے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور اس کا براہِ راست تعلق آئین کے آرٹیکل 19(1)(d) میں ضمانت دی گئی نقل و حرکت کی آزادی اور آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقِ زندگی سے ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ محفوظ اور معیاری فٹ پاتھوں پر چلنے کا حق موٹر گاڑیوں کی نقل و حرکت پر فوقیت رکھتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جہاں بھی سڑک موجود ہو، وہاں متعلقہ انتظامیہ پر یہ آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ، مناسب اور اچھی طرح برقرار رکھے گئے فٹ پاتھ فراہم کرے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ شہری ترقیاتی اداروں، میونسپل کارپوریشنز، بلدیاتی اداروں اور پنچایتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فٹ پاتھوں کی تعمیر، نشاندہی، دیکھ بھال اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ اگر کسی شہری کے اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو وہ آئینی اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے معاوضہ اور دیگر مناسب قانونی ریلیف حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عدالت کے مطابق، یہ حق موٹر وہیکلز ایکٹ، 1988 کے تحت دستیاب دیگر قانونی حقوق سے الگ اور خود مختار ہوگا۔

پانچ سالہ بچے کی ہلاکت کے مقدمے میں اہم فیصلہ

یہ فیصلہ ایک موٹر حادثے کے مقدمے میں سنایا گیا، جس میں اسکول جاتے ہوئے ایک پانچ سالہ بچے کو ٹینکر نے کچل دیا تھا۔ حادثے میں بچے کی کمر اور جسم کا نچلا حصہ بری طرح متاثر ہوا اور وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل (MACT) نے 2016 میں متاثرہ خاندان کو 7 لاکھ 28 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انشورنس کمپنی کی اپیل پر ہائی کورٹ نے یہ رقم کم کرکے 4 لاکھ 70 ہزار روپے کر دی تھی۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معاوضے کی رقم بڑھا کر 11 لاکھ 44 ہزار 628 روپے کر دی اور ہدایت دی کہ یہ رقم دو ماہ کے اندر متاثرہ خاندان کو ادا کی جائے۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ جہاں حادثہ پیش آیا وہاں نہ تو فٹ پاتھ موجود تھا اور نہ ہی پیدل چلنے والوں کے لیے سڑک عبور کرنے کا کوئی محفوظ انتظام کیا گیا تھا۔

پیدل چلنے کا حق، گاڑیوں کے حق سے مقدم

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انسان نے پہیے کی ایجاد سے بہت پہلے چلنا سیکھا تھا، اس لیے نقل و حرکت کا بنیادی حق درحقیقت پیدل چلنے کے حق سے شروع ہوتا ہے۔

عدالت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید شہری منصوبہ بندی میں فٹ پاتھوں اور پیدل چلنے والوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، جبکہ سڑکوں کا بیشتر ڈیزائن صرف موٹر گاڑیوں کی سہولت کو مدنظر رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ موٹر گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے غلبے نے پیدل چلنے والوں کو شہری منصوبہ بندی میں حاشیے پر دھکیل دیا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات انہیں ڈرائیوروں کے لیے رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اب اس سوچ کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔

موٹر وہیکلز ایکٹ پر عدالت کا تبصرہ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موٹر وہیکلز ایکٹ میں پیدل چلنے والوں کے بنیادی حق کو واضح طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، بلکہ بعض حوالوں سے یہ قانون ان کے حقوق کے مکمل تحفظ میں ناکافی دکھائی دیتا ہے۔

عدالت کے مطابق، محفوظ، کشادہ اور بلا رکاوٹ فٹ پاتھ نہ صرف شہروں اور قصبوں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ سماجی مساوات کو فروغ دینے اور شہری و دیہی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

جامع قانون سازی کی سفارش

عدالت نے کہا کہ اگرچہ پیدل چلنے کا حق آئینی حقوق کا حصہ ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی مخصوص اور جامع قانون موجود نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ ایسا قانون وضع کرے جو اس حق کو واضح طور پر تسلیم کرے، متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں متعین کرے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری اور مؤثر قانونی چارہ جوئی کا نظام فراہم کرے۔

سپریم کورٹ نے اپنے رجسٹرار کو ہدایت دی ہے کہ فیصلے کی نقل وزارتِ شہری امور، وزارتِ دیہی ترقی، وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں اور لاء کمیشن آف انڈیا کو ارسال کی جائے تاکہ اس سلسلے میں مناسب قانونی فریم ورک تیار کرنے پر غور کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *