مغربی بنگال: 75 سالہ وکیل کا ووٹر فہرست سے نام حذف ۔سپریم کورٹ سے بزرگ وکیل کو ریلیف، ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کی اپیل پر فوری سماعت کا حکم

asddddd

نئی دہلی:
سپریم کورٹ نے آج مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف ایک 75 سالہ وکیل کی اپیل پر فوری سماعت کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ اپیلیٹ ٹریبونل کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے کی ’’آؤٹ آف ٹرن‘‘ بنیاد پر سماعت کرے۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران ابتدائی طور پر تبشرہ کیا کہ درخواست گزار بادی النظر میں مغربی بنگال کے ایک حقیقی شہری اور مستقل رہائشی معلوم ہوتے ہیں۔

درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈووکیٹ شکیل شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی اپیل 27 مارچ 2026 سے زیر التوا ہے لیکن اب تک اس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے ضلعی عدالت میں وکالت کر رہے ہیں اور نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کرتے آ رہے ہیں۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار 2002 سے قبل بھی باقاعدہ ووٹر تھے اور کبھی کسی سرکاری ادارے نے ان کی ووٹر حیثیت پر سوال نہیں اٹھایا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں عدالت درخواست گزار کی اس بات سے متفق ہے کہ وہ ایک حقیقی اور جائز شہری ہیں۔ تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ ایسے معاملات کے تصفیے کے لیے پہلے ہی سابق ہائی کورٹ چیف جسٹس صاحبان اور ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل اپیلیٹ ٹریبونلز قائم کیے جا چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ابتدائی طور پر ہم آپ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ آپ مغربی بنگال کے ایک حقیقی اور نیک نیت شہری اور رہائشی معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم آپ جانتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے ہم نے ایک نظام قائم کیا ہے اور سابق چیف جسٹس صاحبان و ریٹائرڈ جج صاحبان ٹریبونل میں موجود ہیں۔”

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بتایا کہ انہیں گزشتہ شب کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے ایک مکتوب موصول ہوا ہے جس میں آگاہ کیا گیا کہ ٹریبونلز کے سامنے اپیلوں کی بڑی تعداد زیر التوا ہے اور ان کے فیصلوں کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

درخواست گزار کی عمر اور معاملے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کیس نمٹا دیا اور ٹریبونل کو ہدایت دی کہ وہ اس اپیل کی ترجیحی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے جلد فیصلہ کرے۔

درخواست گزار مرشد آباد ضلع کے ایک بزرگ وکیل ہیں جنہیں 1977 میں بار کونسل آف ویسٹ بنگال میں بطور وکیل اندراج حاصل ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نظرثانی کے عمل کے دوران مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کے تحت اپیل بھی دائر کی، لیکن سماعت نہ ہونے کے باعث قانونی چارہ جوئی کا حق مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔

یہ مقدمہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) سے متعلق وسیع قانونی تنازعات کا حصہ ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ووٹر فہرستوں سے لاکھوں نام حذف کیے گئے تھے، جس کے بعد سپریم کورٹ میں بڑی تعداد میں مقدمات دائر ہوئے۔

ووٹر فہرستوں سے اخراج کے خلاف اعتراضات اور اپیلوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے سابق ہائی کورٹ چیف جسٹس صاحبان اور ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل خصوصی اپیلیٹ ٹریبونلز تشکیل دیے تھے۔ اپریل 2026 تک ان ٹریبونلز کے سامنے 34 لاکھ سے زائد اپیلیں دائر ہو چکی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *