کلکتہ :انصاف نیوز نیٹ ورک
راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ اور ترنمول کانگریس کے رہنما سمیر الاسلام نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کو خط لکھ کر کولکاتا کی جیوتی نگر کالونی میں پینے کے پانی کی طویل مدت سے پانی بند کئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہاں تقریباً5000رہائشی پانی کی باقاعدہ فراہمی کے بغیر جدوجہد کر رہے ہیں۔
سمیر الاسلام نے اپنے خط میں اس صورتِ حال کو ’’فوری انسانی اور انسانی حقوق کا تشویشناک معاملہ‘‘ قرار دیا اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ سے پانی کی سپلائی بند ہونے سے، فوری امدادی اقدامات اور پانی کی مستقل فراہمی کی بحالی کے منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
ممبر پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ 2026ء کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی کے بعد سے پانی کی سپلائی تقریباً دو ماہ تک منقطع رہی۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی رہنماؤں نے مسلم اکثریت والے رہائشیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے وہ پانی کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے پارٹی کو ووٹ نہیں دیا تھا۔
خط میں اقوامِ متحدہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت طلب کرے کہ پانی کی سپلائی ابھی تک بحال کیوں نہیں کی گئی، پینے کے صاف پانی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور بچوں و بزرگ رہائشیوں کو صحت کے مسلسل خطرات سے بچانے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جائیں گی۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے، سمیر الاسلام نے موقف اختیار کیا کہ اس بحران کو صرف ایک بلدیاتی یا بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کا مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس کے براہِ راست اثرات رہائشیوں کی صحت، وقار اور مناسب معیارِ زندگی کے حقوق پر پڑتے ہیں۔
انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ پینے کا پانی کوئی عنایت نہیں ہے۔ یہ کوئی خیرات نہیں ہے۔ یہ بقا کے لیے ایک بنیادی ضرورت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حق ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ نے اقوامِ متحدہ سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے کو مناسب انسانی حقوق کے میکانزم کے علم میں لائیں اور اپنے دائرہ اختیار کے تحت کسی بھی مداخلت یا رہنمائی پر غور کریں۔
شمالی کولکاتا کے کاشی پور علاقے میں واقع ‘جیوتی نگر کالونی 29 جولائی سے نل کے باقاعدہ پانی سے محروم ہے، اس کی وجہ سے تقریباً5000رہائشی، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
رہائشی غیر مستقل واٹر ٹینکروں اور گنگا کے پانی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کی صحت اور سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
رہائشیوں نے الزام لگایا ہے کہ امتیازی بنیاد پر پانی کی سپلائی بند کی گئی ہے۔اور انہوں نے نشاندہی کی کہ پڑوس کے ہندو اکثریت والے علاقوں میں پانی کے نل معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ تاہم، پڑوسی برادری اپنے حصے کا پانی دے کر مسلم برادری کی مدد کر رہی ہے، لیکن یہ طریقہ کار طویل عرصے تک ممکن نہیں ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ اپنے مسلم پڑوسیوں کی مدد کرنے کے نتیجے میں ان کی اپنی پانی کی سپلائی بھی بند کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے اس بحران کو مقامی بی جے پی ممبرا سمبلی رتیش تیواری سے منسوب ان بیانات سے بھی جوڑا ہے، جن میں انہوں نے ان مسلمانوں کے لیے کام کرنے سے انکار کرنے کی بات کی تھی جن کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔
واضح رہے کہ وقت کے ساتھ سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے بارہا یاد دہانی کرائی ہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 32 کے تحت زندگی کے بنیادی حق میں پانی بھی ایک بنیادی حق شامل ہے۔
