کلکتہ : انصاف نیوز نیٹ ورک
مغربی بنگال میں بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں لوگوں کی شناخت، حراست اور ملک بدری سے متعلق جاری تنازع کے درمیان کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت سے بنیادی سوال پوچھا ہے کہ کسی شخص کو بنگلہ دیشی شہری قرار دینے کی قانونی اور قابلِ قبول بنیاد کیا ہے؟۔
جسٹس سوگتا بھٹاچاریہ نے تقریباً دو ماہ سے حراست میں رکھے گئے ایک شخص کے معاملے میں نہ صرف حراست کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا بلکہ یہ بھی دریافت کیا کہ اگر 1970ء کی دہائی میں بڑی تعداد میں لوگ ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرکے آئے تھے تو کیا اب ان سب کو واپس بھیجنا عملی طور پر ممکن ہے؟
عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ قانونی طریقۂ کار کی پیروی کیے بغیر کسی شخص کو محض شبہے کی بنیاد پر حراست میں نہیں رکھا جا سکتاہے۔
معاملہ کیا ہے؟
یہ معاملہ مرشدآباد کے رہائشی شہید ول شیخ سے متعلق ہے، جنہیں رانی نگر پولیس نے 8 اگست 2026 کو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفیسر کی جانب سے بھی حراست اور ملک بدری سے متعلق کارروائی کی گئی۔
سہیدول کی اہلیہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق سہیدول کے پاس ووٹر شناختی کارڈ، آدھار، پین کارڈ اور دیگر ہندوستانی دستاویزات موجود ہیں۔
ریاستی حکومت نے اس کے برعکس موقف اختیار کیا کہ مذکورہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی یا غلط معلومات کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہوسکتی ہیں اور حکومت کے مطابق سہیدول کے بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر ہندوستان آنے کے شواہد موجود ہیں۔ حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک خصوصی مہم کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور پولیس رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔
لیکن عدالت کا بنیادی سوال یہی تھا کہ کسی شخص کے بارے میں شبہ، اس کی قومیت کا قطعی ثبوت کیسے بن سکتا ہے؟
’’خاندان کا بیان شہریت کیسے ثابت کرتا ہے؟‘
سماعت کے دوران عدالت نے ملک بدری کے حکم کی بنیاد پر بھی سوال اٹھایا۔ عدالت کے سامنے یہ بات آئی کہ حکم میں بعض ایسے بیانات کو اہمیت دی گئی ہے جو مبینہ طور پر خاندان کے افراد کی جانب سے دیے گئے تھے۔جسٹس بھٹاچاریہ نے سوال کیاکہ
’’کیا خاندان کے کسی رکن کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بنگلہ دیشی ہے؟‘‘
یہ سوال اس پورے معاملے کا اہم قانونی پہلو سامنے لاتا ہے۔ کسی شخص کی شہریت محض اس بنیاد پر طے نہیں کی جا سکتی کہ کوئی دوسرا شخص اسے اپنا رشتہ دار تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ شہریت کے تعین کے لیے متعلقہ شواہد، دستاویزات، سابقہ ریکارڈ اور قانونی طریقۂ کار کی جانچ ضروری ہے۔
عدالت نے اسی تناظر میں کہا کہ کسی شخص کو ملک بدر کرنے سے پہلے حکام کو اس کی قومیت ثابت کرنے والے متعلقہ مواد اور شواہد پر غور کرنا ہوگا۔
آدھار، ووٹر کارڈ اور پین کارڈ: ثبوت یا جعلی دستاویز؟
ریاستی حکومت نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ کسی شخص کے پاس آدھار، ووٹر شناختی کارڈ یا پین کارڈ کا موجود ہونا بذاتِ خود اس کی ہندوستانی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے، کیونکہ یہ دستاویزات مبینہ طور پر جعلی کاغذات کی بنیاد پر بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ریاست نے دعویٰ کیا کہ سہیدول نے بھی مبینہ طور پر ایسی دستاویزات غلط معلومات یا جعلی دستاویزات کی بنیاد پر حاصل کی ہوں گی۔لیکن اس دعوے کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے:
اگر سرکاری دستاویزات جعلی ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو کیا ان کے جعلی ہونے کا ثبوت بھی پیش کیا گیا ہے؟
اور اگر کوئی شخص برسوں سے ہندوستانی انتخابی فہرست، سرکاری شناختی نظام اور دیگر انتظامی ریکارڈ کا حصہ رہا ہے تو اسے اچانک غیر ملکی قرار دینے سے پہلے کس اتھارٹی، کس ثبوت اور کس مقررہ قانونی طریقۂ کار کے ذریعے اس کی شہریت کا فیصلہ کیا جائے گا؟
عدالت کی موجودہ کارروائی میں یہی سوالات مرکزی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
’’1970ء کی دہائی میں کتنے لوگ سرحد پار آئے تھے؟‘
سماعت کا سب سے اہم پہلو شاید عدالت کا وہ سوال تھا جو محض ایک شخص کے معاملے سے آگے بڑھ کر مغربی بنگال کی سرحدی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
عدالت نے ریاست سے پوچھا کہ 1970ء کی دہائی میں کتنے لوگ سرحد پار کرکے آئے تھے؟ کیا ان سب کو اب واپس بھیجا جا سکتا ہے؟۔
عدالت نے سرحدی اضلاع کی زمینی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد، خصوصاً مغربی بنگال میں، محض ایک انتظامی لکیر نہیں رہی۔ 1971ء کی جنگ، اس کے بعد ہونے والی نقل مکانی، سرحدی اضلاع میں دہائیوں سے جاری آمدورفت اور خاندانوں کے سرحد کے دونوں جانب موجود ہونے کی تاریخ نے شناخت اور شہریت کے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایسے ماحول میں ’’بنگلہ دیشی‘‘ کا لیبل لگانا اور کسی شخص کو قانونی طور پر بنگلہ دیشی شہری ثابت کرنا دو مختلف چیزیں ہی
ہائی کورٹ کے سوالات اسی فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔
حراست پہلے، قانونی فیصلہ بعد میں؟
اس مقدمے کا دوسرا اہم پہلو حراست کی مدت ہے۔
عدالت نے خاص طور پر دریافت کیا کہ مذکورہ شخص کو 8 اگست سے حراست میں رکھا گیا ہے؟ یعنی سماعت کے وقت تقریباً دو ماہ گزر چکے تھے۔
ستمبر میں بھی اسی عدالت نے ایک دوسرے معاملے میں رانی گنج پولیس سے ایک ایسے شخص کو ایک ماہ سے زائد عرصے تک حراست میں رکھنے کی بنیاد بتانے کے لیے رپورٹ طلب کی تھی، جس پر بنگلہ دیشی شہری ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی عدالت نے پولیس سے حراست کی وجہ اور قانونی بنیاد واضح کرنے کو کہا تھا۔
یوں موجودہ مقدمہ کسی ایک واقعے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ سوال سامنے آتا ہے کہ **کیا مشتبہ غیر ملکی کی شناخت کے نام پر طویل حراست ایک معمول کا انتظامی طریقہ بنتی جا رہی ہے، یا ہر معاملے میں باقاعدہ قانونی عمل کی پابندی کی جا رہی ہے؟**
ایک اور اہم سوال: مقدمہ زیرِ التوا تھا، پھر ملک بدری کا حکم کیسے؟
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفیسر نے ملک بدری کا حکم اس وقت جاری کیا جب ہائی کورٹ میں معاملہ پہلے ہی زیرِ سماعت تھا۔
عدالت نے اس حقیقت کا نوٹس لیا کہ مقدمہ زیرِ التوا رہنے کے دوران ملک بدری کا حکم جاری کیا گیا۔
یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ اگر کسی شخص کی حراست اور ملک بدری کا قانونی جواز ہی عدالت کے سامنے زیرِ بحث ہو تو کارروائی کے دوران انتظامی حکام کی جانب سے ملک بدری کا حکم جاری کرنا عدالتی نگرانی اور انتظامی اختیار کے باہمی تعلق سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔
ریاست نے درخواست کی کہ درخواست گزار کو سے رجوع کرنے کی ہدایت کی جائے، تاہم عدالت نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور اس بات کو نوٹ کیا کہ شخص کو پولیس نے حراست میں لیا تھا اور حراستی میمو بھی پولیس حکام نے جاری کیا تھا۔
معاملہ اب بینچ کے سامنے
جسٹس سوگتا بھٹاچاریہ نے اس مرحلے پر رٹ پٹیشن کو اپنے سامنے سے ریلیز کرتے ہوئے اسے اسپیشل انٹینسیو ریویژن سے متعلق معاملات کی سماعت کرنے والی مناسب بینچ کے سامنے رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
معاملہ 14 اکتوبر کو جسٹس کرشنا راؤ کی بینچ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ عدالت کی جانب سے ملک بدری کے حکم پر بھی فی الحال عدالتی جانچ کا راستہ کھلا ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ مغربی بنگال میں کے دوران ووٹر فہرست، شہریت کے دعووں اور مبینہ غیر ملکی شناخت کے معاملات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
، شہریت اور ’’بنگلہ دیشی‘‘ کا لیبل
یہاں ایک وسیع تر سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی شخص کا نام ووٹر فہرست میں شامل ہو، اس کے پاس سرکاری شناختی دستاویزات ہوں، وہ برسوں سے ہندوستان میں مقیم ہو اور اس کے باوجود اچانک اسے بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہے میں حراست میں لے لیا جائے تو **اس شبہے کو قانونی طور پر ثابت کرنے کی ذمہ داری کس پر ہوگ
کیا محض دستاویزات میں تضاد کافی ہوگا؟
کیا خاندان کے کسی فرد کا بیان کافی ہوگا؟
کیا پولیس کی رپورٹ کافی ہوگی؟
کیا ’’اعتراف‘‘ کا دعویٰ کافی ہوگا؟
یا پھر کسی شخص کو ملک بدر کرنے سے پہلے ایک ایسا باقاعدہ، شفاف اور قابلِ سماعت عمل ضروری ہے جس میں متعلقہ شخص کو اپنا موقف، دستاویزات اور شہریت کے شواہد پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے؟
کلکتہ ہائی کورٹ کے موجودہ سوالات کم از کم یہ ضرور واضح کرتے ہیں کہ **شہریت کے تعین اور ملک بدری کا عمل محض انتظامی شبہے کی بنیاد پر نہیں چلایا جا سکتا؛ اس کے لیے قانونی جواز، قابلِ جانچ شواہد اور مقررہ طریقۂ کار ضروری ہیں۔**
معاملہ صرف سہیدول شیخ کا نہیں
مغربی بنگال میں حالیہ مہینوں کے دوران ایسے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں بنگالی بولنے والے افراد، خصوصاً سرحدی اضلاع کے مسلمانوں، کو بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہے میں حراست یا ملک بدری کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اسی وسیع تر تناظر میں کلکتہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں مرشدآباد کے چار افراد کی شہریت کے تعین کے لیے بلاسپور کے فارنرز رجسٹریشن آفیسر سے بھی جواب طلب کیا تھا، جبکہ ان افراد کے ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کے خلاف اپیلیں اپیلٹ ٹربیونل میں زیرِ التوا تھیں۔
یہ واقعات ایک بنیادی سوال کو مزید اہم بناتے ہیں:
کیا ہندوستانی شہری ہونے کا فیصلہ انتظامی شبہے سے ہوگا یا قانونی شواہد اور مقررہ عدالتی طریقۂ کار سے؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صرف ایک شخص کی قسمت نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں ہزاروں شہریوں کے حقوق پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
کلکتہ ہائی کورٹ میں 14 اکتوبر کو ہونے والی اگلی سماعت اس لیے اہم ہوگی کہ عدالت کے سامنے یہ سوال مزید واضح طور پر آئے گا کہ **کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینے، اسے حراست میں رکھنے اور اسے ملک بدر کرنے کے لیے ریاست کے پاس آخر کون سے قابلِ قبول شواہد اور قانونی اختیارات موجود
اور شاید اس سے بھی بڑا سوال یہ ہوگا کہ:
اگر کسی شہری سے اس کی ہندوستانی شناخت کا ثبوت مانگا جا رہا ہے، تو کیا ریاست کو بھی اسے غیر ملکی ثابت کرنے کا ثبوت پیش نہیں کرنا
