’کلکتہ: مغربی بنگال میں خصوصی گہری نظرثانی کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے لاکھوں ناموں کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم اپیلٹ ٹربیونلز کو خود الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈیجیٹل پورٹل کی متعدد تکنیکی اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں ایس آئی آر میں ووٹر لسٹ خارج کیے گئے ووٹروں کی اپیلوں کی سماعت کے لیے مقرر کیے گئے 19 ٹربیونلز میں سے ایک درجن سے زائد ٹربیونل ججوں نے 11 اگست کو ہونے والے ایک اجلاس میں پورٹل کی خامیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کو باضابطہ طور پرالیکشن کمیشن کے ریکارڈ پر لایا۔ ان اعتراضات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا اور کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تک بھی پہنچایا گیا ہے۔
ججوں کے مطابق، ٹربیونلز کے لیے تیار کیے گئے پورٹل میں اب تک ایسا مناسب نظام موجود نہیں ہے جس کے ذریعے اپیل میں شامل فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ اپیل کنندگان کی اضافی دستاویزات اپ لوڈ یا محفوظ کرنے، ضرورت پڑنے پر ورچوئل سماعت منعقد کرنے، پہلے حذف کیے گئے ووٹر کا نام عدالتی حکم کے بعد دوبارہ بحال کرنے اور ٹربیونل کے فیصلے کی نقل اپیل کنندہ کو فراہم کرنے کا بھی مناسب انتظام موجود نہیں ہے۔
’فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا کوئی طریقہ نہیں‘
11 اگست کے اجلاس میں ٹربیونل ججوں نے خاص طور پر اس مسئلے کی نشاندہی کی کہ فریقین کو نوٹس بھیجنے کے لیے پورٹل پر کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے۔ججوں کے مطابق، مئی 2026 میں بعض ٹربیونلز نے نوٹس جاری کرنے کے لیے ایک فارمیٹ بھی منظور کیا تھا، لیکن اس کے باوجود ایسا کوئی مشترکہ اور مناسب نظام تیار نہیں کیا گیا جس کے ذریعے فریقین کو براہِ راست یا کسی مجاز ذریعے سے نوٹس بھیجا جا سکے۔اس صورت حال کے باعث مختلف ٹربیونلز کو ای میل کے ذریعے متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ڈسٹرکٹ الیکشن افسر یا دیگر حکام کے توسط سے نوٹس پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ججوں کے مطابق اس طریقہ کار کا ردعمل بھی انتہائی کمزور ہے، جس سے اپیلوں کی سماعت اور فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اضافی دستاویزات لینے میں بھی دشواری
ٹربیونل ججوں نے پورٹل پر اضافی دستاویزات سے متعلق بھی سنگین خامی کی نشاندہی کی ہے۔ان کے مطابق اگر کسی اپیل کنندہ کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی دستاویزات مقررہ فہرست یا فارم کے مطابق نہ ہوں، یا ٹربیونل کو کسی معاملے میں مزید دستاویزات درکار ہوں، تو انہیں حاصل کرنے کے لیے پورٹل پر کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ہے۔اس کے نتیجے میں ٹربیونلز کو متعلقہ حکام یا اپیل کنندگان سے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے غیر رسمی ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے اپیل کے عمل میں مزید تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔
’ورچوئل سماعت کا کوئی نظام نہیں‘
ججوں نے یہ بھی شکایت کی کہ اگر کسی معاملے میں فریقین کو ورچوئل طریقے سے سننے کی ضرورت ہو تو پورٹل پر اس کے لیے کوئی مناسب نظام موجود نہیں ہے۔یہ مسئلہ خاص طور پر ان معاملات میں اہم ہو سکتا ہے جہاں اپیل کنندہ یا متعلقہ فریق ٹربیونل کے سامنے ذاتی طور پر حاضر ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ججوں نے مزید نشاندہی کی کہ اگر ٹربیونل کسی ووٹر کا نام حذف یا بحال کرنے کا فیصلہ پورٹل پر درج کر دے تو بعد میں عدالتی حکم یا کسی دوسری وجہ سے نام بحال کرنے کی ضرورت پڑنے پر اسے پورٹل پر دوبارہ بحال کرنے کا بھی کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔
’اپیل کنندہ فیصلے کی نقل بھی ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکتا‘
ٹربیونل ججوں نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریقین کے لیے ٹربیونل کے فیصلے کی مصدقہ نقل یا ڈاؤن لوڈ شدہ کاپی حاصل کرنے کا بھی کوئی مناسب طریقہ موجود نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ووٹر کا نام خارج یا شامل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو متاثرہ شخص کے لیے یہ جاننا مشکل ہو سکتا ہے کہ اس فیصلے کی بنیاد اور وجوہات کیا تھیں۔یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ نے یکم اپریل کے اپنے حکم میں ٹربیونلز کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپیلوں پر فیصلہ کرتے وقت وجوہات سے آگاہ کریں اور متعلقہ ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیں۔
جسمانی طور پر دائر اپیلوں کا ریکارڈ بھی سوالوں کے گھیرے میں
ٹربیونل ججوں نے ان اپیلوں کے ریکارڈ کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی ہے جو آن لائن کے بجائے جسمانی طور پر ضلع مجسٹریٹ یا ڈسٹرکٹ الیکشن افسر کے دفاتر میں جمع کرائی گئی ہیں۔
ان کے مطابق ایسی اپیلوں کو ڈیجیٹل نظام میں شامل کرنے اور ان کا مناسب ریکارڈ برقرار رکھنے کا کوئی واضح اور قابلِ اعتماد طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ججوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسی اپیلیں صحیح چینل کے ذریعے ٹربیونل تک نہ پہنچیں اور انہیں ڈیجیٹل نظام میں شامل نہ کیا جائے تو متعلقہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہو سکتی ہے۔
یہ مسئلہ نیا بھی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے 6 اپریل کے اپنے ایک حکم میں اسی خدشے کا حوالہ دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے 20 مارچ کو آن لائن اور جسمانی دونوں طریقوں سے اپیل دائر کرنے کی اجازت دی ہے اور ضلع مجسٹریٹ، ایس ڈی ایم یا ایس ڈی او کا دفتر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جسمانی طور پر دائر کی گئی اپیلوں کو جلد از جلد ڈیجیٹل کرکے ای سی آئی نیٹ پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے۔
مئی میں ہی ایک ٹربیونل جج نے چیف جسٹس کو خبردار کیا تھا11 اگست کے اجلاس سے پہلے بھی ٹربیونل کے ایک جج نے 22 مئی کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر نوٹس جاری کرنے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔جج نے اپنے خط میں کہا تھا کہ اپیل کے فریقین کو نوٹس دینے کے مناسب نظام کی عدم موجودگی اپیلوں کے فیصلے کی رفتار کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔اسی خط میں جج نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپیلوں کے نمٹارے سے متعلق فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ جج کے مطابق ذرائع ابلاغ کو کمیشن کے ذرائع کے حوالے سے اپیلوں کے نمٹارے کے بارے میں درست اعداد و شمار نہیں دیے جا رہے تھے، جبکہ بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ فریقین کو سماعت کے لیے نوٹس جاری کرنے کا مناسب نظام ہی موجود نہیں تھا۔
الیکشن کمیشن اور کلکتہ ہائی کورٹ سے جواب طلب، مگر کوئی جواب نہیں آیا
ان اعتراضات کی روشنی میں یکم اکتوبر کو متعلقہ صحافیوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور کلکتہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ٹربیونل ججوں کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کا ازالہ کیا گیا یا نہیں۔رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں کی جانب سے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
27 لاکھ خارج ووٹروں کے لیے بنایا گیا تھا اپیل کا خصوصی نظام
یہ پورا معاملہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے تقریباً27.16لاکھ ووٹروں کی اپیل کے حق سے متعلق ہے۔الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے دوران دستاویزات میں ’منطقی تضادات اور ’ان میپڈکی بنیاد پر60.06لاکھ ووٹروں کی شناخت کی تھی۔سپریم کورٹ نے 20 فروری کو آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مغربی بنگال میں ایسے ووٹروں کی اہلیت کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالتی افسران کی تقرری کا حکم دیا تھا۔
اس کے بعد مغربی بنگال، اڈیشہ اور جھارکھنڈ سے سینکڑوں عدالتی افسران کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ان افسران کی کارروائی کے بعد اسمبلی انتخابات سے چند ہفتے قبل27.16لاکھ ووٹروں کے نام حتمی طور پر خارج کر دیے گئے۔
سپریم کورٹ نے اپیل کے لیے 19 ٹربیونلز کا راستہ کھولا
خارج کیے گئے ووٹروں کو اپنے ناموں کے اخراج کے خلاف اپیل کا موقع دینے کے لیے سپریم کورٹ نے 10 مارچ کو ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں پر مشتمل اپیلٹ ٹربیونلز قائم کرنے کا حکم دیا۔
الیکشن کمیشن نے 20 مارچ کو اس سلسلے میں 19 یک رکنی اپیلٹ ٹربیونلز تشکیل دیے۔ بعد میں ان میں سے دو ججوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا، جن کی جگہ دیگر سابق ججوں کو مقرر کیا گیا۔
تاہم، اب انہی ٹربیونلز کے ججوں کی جانب سے یہ شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ انہیں اپیلوں کی منصفانہ اور مؤثر سماعت کے لیے درکار ڈیجیٹل سہولتیں ہی مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں۔
ستمبر تک38.31لاکھ اپیلیں، مگر صرف 1.26 لاکھ نمٹائی گئیں
الیکشن کمیشن نے طویل عرصے تک اپیل کے عمل سے متعلق مکمل اعداد و شمار جاری نہیں کیے تھے۔ تاہم 18 ستمبر کو سپریم کورٹ میں ایک متعلقہ معاملے کے دوران کمیشن نے بتایا کہ38.31لاکھ اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔کمیشن کے مطابق 10 ستمبر تک ان میں سے صرف 1.26لاکھ اپیلوںکا فیصلہ کیا گیا تھا۔
38.21لاکھ اپیلوں میں22.21لاکھ اپیلیں ان ووٹروں کی تھیں جن کے نام خارج کیے گئے تھے، جبکہ16.10لاکھ اپیلیں ایسے ناموں کے خلاف تھیں جنہیں ووٹر فہرست میں شامل کیا گیا تھااور جنہیں حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس طرح ٹربیونل ججوں کی جانب سے پورٹل کی خامیوں کی نشاندہی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لاکھوں اپیلیں ابھی بھی فیصلے کی منتظر ہیں۔
پہلے بھی عدالتی افسران نے الیکشن کمیشن کے نظام پر سوال اٹھائے تھے
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق عدالتی کارروائی میں الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل نظام کو لے کر سوالات اٹھے ہوں۔اس سے پہلے ان 60 لاکھ ناموں کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والے ایک دوسرے پورٹل کے بارے میں بھی عدالتی افسران نے سپریم کورٹ کے سامنے تشویش ظاہر کی تھی۔
10 مارچ کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے اس تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتی افسران نے چیف جسٹس کے توسط سے فوری نوعیت کی تشویش ظاہر کی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ الیکشن کمیشن کی سطح پر کسی غلطی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
عدالت نے اس وقت الیکشن کمیشن سے اس مسئلے کو فوری طور پر درست کرنے اور کلکتہ ہائی کورٹ اور تمام عدالتی افسران کو مکمل لاجسٹک تعاون فراہم کرنے کی توقع ظاہر کی تھی۔
اپیل کے پورے عمل پر ’مناسب قانونی کارروائی‘ کا سوال
ٹربیونل ججوں کی شکایات کا بنیادی سوال محض ایک تکنیکی خرابی تک محدود نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شہری کو اس کے ووٹر ہونے کے حق سے محروم کیا گیا ہے اور اسے اپیل کا قانونی حق دیا گیا ہے، لیکن اپیل سننے والے ادارے کے پاس فریقین کو نوٹس دینے، دستاویزات حاصل کرنے، سماعت کرنے، فیصلے کی نقل فراہم کرنے اور ضرورت پڑنے پر نام بحال کرنے کا مکمل نظام ہی موجود نہیں، تو اس اپیل کے عملی اور مؤثر ہونے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ٹربیونل ججوں نے ان خامیوں کو باضابطہ طور پر ریکارڈ پر لاتے ہوئے الیکشن کمیشن اور کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم یہ خصوصی اپیلٹ نظام بنیادی طور پر ان لاکھوں شہریوں کو ایک موقع فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جن کے نام ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ لیکن اگر اس نظام کو چلانے والا ڈیجیٹل ڈھانچہ ہی مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتا تو خارج کیے گئے ووٹروں کے لیے اپنے حق کا دفاع کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں ایک درجن سے زائد ٹربیونل ججوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے پورٹل کی خامیوں کو باضابطہ طور پر ریکارڈ پر لایا جانا مغربی بنگال کے ایس آئی آر اور اس کے بعد شروع ہونے والے اپیل کے عمل کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
