مو بنرجی
7 جون 1907ء کو جیسور کے ایک چھوٹے سے گاؤں چھاتیان تلہ میں، جو دریائے بھیرب کے کنارے آباد تھا، ایک دیہی بنگالی درزی کا انتقال ہوا۔ اس شخص کا نام منشی محمد مہر اللہ تھا۔ موت کی وجہ نمونیا کی پیچیدگیاں تھیں، لیکن مہر اللہ کی کہانی محض ایک عام درزی کی زندگی اور موت کی داستان نہیں تھی۔
اس وقت جیسور مشرقی بنگال کے ان علاقوں میں شامل تھا جہاں دریا، دلدل، بند نالے، سیلاب اور وبائی بیماریاں روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں۔ شاہی گزٹیئر میں ایل ایس ایس او مالے نے جیسور کو ایک ایسے خطے کے طور پر بیان کیا ہے جہاں غیر صحت بخش ماحول اور مسلسل بیماریوں نے آبادی کی زندگی کو شدید متاثر کیا تھا۔ایسے ماحول میں ایک معمولی درزی آخر ایسا شخص کیسے بنا جس کی آواز جیسور سے ڈھاکہ اور پھر کلکتہ تک سنی گئی؟ ایک ایسا شخص جو نہ کسی بڑے علمی ادارے سے وابستہ تھا، نہ کسی طاقتور سیاسی خاندان سے، لیکن جس نے 19ویں صدی کے آخر میں بنگالی مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی شعور پر گہرا اثر چھوڑا؟یہی سوال مہر اللہ کی زندگی کو محض ایک مذہبی شخصیت کی سوانح سے کہیں زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔
ایک درزی سے عوامی ترجمان تک
مہر اللہ کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ تاریخ کی بڑی آوازیں ہمیشہ بڑے شہروں، یونیورسٹیوں یا اقتدار کے مراکز سے نہیں اٹھتیں۔ کبھی کبھی وہ کسی دور دراز گاؤں کے ایک عام انسان کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔مہر اللہ غیر معمولی خطیبانہ صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی خود حاصل کردہ علمی استعداد اور عوامی اندازِ بیان کے ذریعے بنگالی مسلمانوں کے ایک ایسے طبقے تک رسائی حاصل کی جو یا تو ناخواندہ تھا یا معمولی تعلیم رکھتا تھا۔ دیہی بنگال کے ہزاروں مسلمان ان کی وعظ کی محفلوں میں انہیں سننے کے لیے جمع ہوتے، جبکہ عیسائی مشنریوں کے ساتھ ان کے مناظرے بھی عوامی توجہ کا مرکز بنتے تھے۔ان کی مقبولیت صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہی۔
ان کی وفات کے بعد جیسور سے ڈھاکہ اور کلکتہ تک تعزیتی مضامین کا سلسلہ شروع ہوا۔ معروف بنگالی مسلم ہفت روزہ ’مہر و سدھاکر‘ نے ان کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ دوسرے اہم اخبارات و رسائل، جن میں ’سلطان‘، ’اسلام پرچارک‘ اور ’مسلم سہرِد‘ شامل تھے، نے بھی ان کی موت کو بنگالی مسلم معاشرے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔یہ ردعمل اس بات کا اشارہ تھا کہ ایک معمولی پس منظر سے آنے والا شخص کس طرح ایک وسیع سماجی طبقے کا ترجمان بن چکا تھا۔
’مہر چرت‘ اور ایک عام انسان کی غیر معمولی داستان
مہر اللہ کے مرید منشی شیخ ضمیر الدین نے ان کی وفات کے بعد ایک مختصر سوانح لکھی، جو جریدے ’اسلام پرچارک‘میں شائع ہوئی اور ’مہر چرت‘ کے نام سے معروف ہوئی۔یہ تحریر بعد میں مہر اللہ پر لکھی جانے والی سوانح عمریوں کے لیے بنیادی ماخذ بنی۔ اسی کے ذریعے ایک عام دیہی درزی کی زندگی ایک ایسی شخصیت کی صورت میں سامنے آتی ہے جس نے اپنے عہد کے بنگالی مسلم معاشرے میں مذہبی اصلاح، شناخت اور عیسائی مشنری سرگرمیوں کے خلاف فکری مزاحمت کی علامت کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔مہر اللہ کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں تاریخی اعتبار سے دلچسپ بناتا ہے۔ وہ صرف ایک مذہبی مقرر نہیں تھے؛ وہ دیہی بنگال اور اس کے عام مسلمانوں کے تجربات، خدشات اور مذہبی احساسات کو ایک ایسی زبان دیتے تھے جسے عام لوگ سمجھ سکتے تھے۔
پرنٹ میڈیا اور مہر اللہ کی آواز
کلکتہ اور ڈھاکہ کے علمی و صحافتی مراکز نے بھی مہر اللہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا۔پرنٹ میڈیا نے ان کے خیالات کو وسیع تر بنگالی مسلم عوامی حلقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تقاریر اور عیسائی مشنریوں کے ساتھ مباحث کے مضامین رسائل اور پمفلٹوں میں شائع ہونے لگے۔
یہاں ایک اہم تبدیلی نظر آتی ہے۔
ایک دیہی مقرر کی آواز اب صرف کسی گاؤں کی مجلس تک محدود نہیں رہی تھی؛ وہ اخبارات اور رسائل کے ذریعے ایک وسیع مذہبی اور سماجی مباحثے کا حصہ بن رہی تھی۔
مہر اللہ نے 1898ء میں ’جواب النسا‘ نامی کتاب بھی لکھی، جو عیسائی مشنریوں کی جانب سے اسلام پر کیے جانے والے بعض اعتراضات کے جوابات پر مبنی تھی۔ کتاب مکالمے کی شکل میں تھی اور اس میں ان کے دفاعی استدلال کے ساتھ ساتھ ان کا مخصوص مزاحیہ اور عام فہم انداز بھی نظر آتا ہے۔
عام فہم زبان، مزاح اور حاضر جوابی
مہر اللہ کی سب سے بڑی طاقت شاید ان کی خطابت تھی۔
وہ پیچیدہ مذہبی سوالات کو عام لوگوں کی سمجھ میں آنے والی مثالوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کا مقصد صرف مذہبی متون کی بحث میں اپنی علمی برتری ثابت کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنے سامعین تک بات پہنچانا بھی تھا۔
مثلاً جب قرآن کے بنگالی ترجمے کی عدم دستیابی پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر لوگ عربی نہیں سمجھتے تو قرآن پڑھنے کا کیا فائدہ، مہر اللہ نے مشرقی بنگال کی روزمرہ زندگی سے مثال پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں لوگ انگریزی میں چھپے کشتی یا اسٹیمَر کے ٹکٹ خریدتے ہیں، اگرچہ وہ انگریزی نہیں سمجھتے۔ اس کے باوجود انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔ اسی طرح ان کے نزدیک عربی نہ سمجھنے کے باوجود قرآن پڑھنے کی مذہبی اہمیت کو محض زبان نہ سمجھنے کی بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
یہ انداز ان کی خطابت کا خاص وصف تھا: پیچیدہ سوال، سادہ مثال، اور عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا جوا*
غربت، ناخواندگی اور مذہب کی تبدیلی کا سوال
لیکن مہر اللہ کی جدوجہد کو صرف مذہبی مناظروں تک محدود کرکے دیکھنا ان کی اصل فکر کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔
19ویں صدی کے آخری عشروں میں مشرقی بنگال کا دیہی معاشرہ شدید سماجی اور اقتصادی مشکلات سے گزر رہا تھا۔ نیل کے ہنگاموں کے بعد وبائیں، سیلاب، قحط، زراعت کا بحران اور کمزور دیہی معیشت نے ندیہ اور جیسور جیسے علاقوں کو متاثر کیا۔تعلیم کی کمی اور غربت نے عام مسلم کسانوں کو خاص طور پر کمزور بنا دیا تھا۔ دوسری طرف عیسائی مشنز تعلیم، طبی امداد اور روزگار جیسے مواقع فراہم کر رہے تھے۔
اس پس منظر میں مذہب کی تبدیلی کو صرف عقیدے کا معاملہ سمجھنا مشکل تھا۔مہر اللہ خود اس حقیقت سے واقف تھے کہ بعض افراد کے لیے مذہبی تبدیلی کے فیصلے کے پیچھے مذہبی یقین سے زیادہ زندہ رہنے کی مجبوری بھی ہو سکتی تھی۔ ان کے ایک اقتباس میں اسی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے، جہاں وہ ان مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں جو عیسائی مشنز کے رجسٹروں میں اپنے نام درج کرا لیتے تھے اور اس کے بدلے انہیں خوراک اور مدد ملتی تھی۔
ندیہ کے ایک لوک گیت میں بھی اسی سماجی حقیقت کی بازگشت سنائی دیتی ہے، جہاں قحط اور بھوک کو بعض لوگوں کے عیسائیت اختیار کرنے کے پس منظر سے جوڑا گیا ہے۔یعنی مذہبی شناخت کا سوال محض عقیدے کا سوال نہیں تھا؛ اس کے پیچھے غربت، بھوک، تعلیم، روزگار اور سماجی حالات بھی موجود تھے۔
مہر اللہ کے نزدیک مذہبی شناخت
یہی وہ مقام ہے جہاں مہر اللہ کی شخصیت زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ان کے لیے مذہبی شناخت ایک مجرد نظریاتی تصور نہیں تھی۔ وہ اس کے سماجی اور مادی پہلوؤں سے بھی واقف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلم معاشرہ اپنی مذہبی شناخت کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنے اندر کی کمزوریوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔اس لیے ان کی جدوجہد صرف عیسائیت کے خلاف نہیں تھی۔ اس میں مسلم معاشرے کی اصلاح کا تصور بھی شامل تھا۔ایک ایسا معاشرہ جو غربت، ناخواندگی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہو، بیرونی مذہبی اثرات کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو سکتا ہے۔ چنانچہ مہر اللہ کی فکر میں مذہبی دفاع اور داخلی اصلاح ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے۔
مناظرے سے آگے: مہر اللہ کا منفرد انداز
مہر اللہ مشنریوں کے ساتھ بحث کرتے ہوئے ہمیشہ خشک اور پیچیدہ مذہبی استدلال کا سہارا نہیں لیتے تھے۔کبھی وہ کسی سوال کا جواب لطیفے سے دیتے، کبھی لوک کہانی کا سہارا لیتے اور کبھی فارسی شعر کے ذریعے بات آگے بڑھاتے۔اس انداز کے پیچھے ایک حکمت عملی بھی تھی۔مذہبی مناظرے اکثر ایسے علمی دائرے میں داخل ہو جاتے تھے جہاں دونوں فریق اپنے اپنے مذہبی متون اور علمی روایت کو بنیاد بنا کر بحث کرتے تھے۔ مہر اللہ نے اس بحث کو عام سامعین کی دنیا میں منتقل کردیا۔وہ مشکل مذہبی سوال کو ایسے انداز میں پیش کرتے کہ سامعین اسے سمجھ سکیں، اس سے لطف اٹھا سکیں اور اسے اپنی روزمرہ زندگی سے جوڑ سکیں۔یہی ان کی مقبولیت کا ایک اہم سبب تھا۔
عیسائیت کے خوف کے پیچھے نوآبادیاتی ماحول
مہر اللہ کے زمانے میں عیسائی مشنری سرگرمیوں کو صرف مذہبی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا۔ مشنری ادارے نوآبادیاتی نظام کے وسیع تر ماحول میں کام کر رہے تھے، جبکہ بعض علاقوں میں قحط اور غربت کے دوران ان کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری تھیں۔اسی وجہ سے بنگالی مسلم اخبارات اور تنظیموں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مسلم معاشرہ مذہبی اور سماجی دونوں حوالوں سے دباؤ میں ہے۔1891ء میں ’اسلام پرچارک‘ نے عیسائی مشنری سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جبکہ انجمن اتفاقِ اسلام نے بھی یہ مؤقف پیش کیا کہ غربت اور تعلیم کی کمی نے کسانوں کو مشنری اثرات کے سامنے زیادہ کمزور بنایا۔ یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: مذہبی شناخت کے تحفظ کی بحث دراصل معاشرتی حالات کی بحث سے الگ نہیں تھی۔
مہر اللہ اور ’تاریخ کی چھوٹی آوازیں‘
اگر مہر اللہ کی زندگی کو صرف اصلاح پسند، مذہبی مقرر یا مشنری مخالف شخصیت کے طور پر دیکھا جائے تو ان کی تاریخی اہمیت کا ایک بڑا حصہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔وہ اس سوال کو بھی چیلنج کرتے ہیں کہ کسی قوم یا برادری کی نمائندگی کرنے کا حق کس کے پاس ہے۔ایک طرف کلکتہ اور ڈھاکہ کے تعلیم یافتہ اشرافیہ حلقے تھے، دوسری طرف مشرقی بنگال کے دیہی مسلمان۔ مہر اللہ ان دونوں دنیاؤں کے درمیان ایک پل کی طرح نظر آتے ہیں۔
ان کی آواز پرنٹ میڈیا کے ذریعے شہری مراکز تک پہنچی، جبکہ ان کا اثر وعظ، مناظروں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے دیہی علاقوں تک پھیلا۔
یوں مہر اللہ کی ’تصوراتی برادری‘ صرف مذہبی شناخت کا تصور نہیں تھی؛ وہ

نوآبادیاتی ماحول، سماجی محرومی اور شناخت کے سوالات سے بھی تشکیل پاتی تھی۔شاید اسی لیے مہر اللہ کی کہانی ہمیں تاریخ کے ان کرداروں کی طرف دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتی ہے جن کی آوازیں بڑے تاریخی بیانیوں میں دب گئی ہیں۔
رنجیت گوہا نے جنہیں ’’تاریخ کی چھوٹی آوازیں‘‘ کہا، مہر اللہ ان ہی آوازوں میں سے ایک تھے۔
ایک دیہی درزی، جس نے اپنے عہد کے عام مسلمانوں کے درمیان ایسی زبان میں بات کی جسے وہ سمجھتے تھے؛ ایک مقرر جس کی آواز کلکتہ اور ڈھاکہ تک پہنچی؛ اور ایک ایسی شخصیت جس کی زندگی ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مذہبی شناخت صرف عقیدے سے نہیں، بلکہ غربت، تعلیم، سماجی حالات، سیاست، نوآبادیاتی طاقت اور روزمرہ زندگی سے بھی تشکیل پاتی ہے۔
مہر اللہ 1907ء میں دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی زندگی کا سوال آج بھی باقی ہے۔تاریخ میں ان لوگوں کی آواز کہاں ہے جو اقتدار کے مراکز میں نہیں تھے، لیکن اپنے معاشرے کے احساسات، خوف، امیدوں اور شناخت کی نمائندگی کرتے تھے؟
مہر اللہ کی کہانی شاید اسی سوال کا ایک اہم جواب ہے۔
مو بینرجی یونیورسٹی آف وسکونسن-میڈیسن میں تاریخ کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
