کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
اس وقت الیکشن کمیشن ایس آئی آر کے معاملے پر چاروں طرف سے سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔ کمیشن پر خود مختاری ختم ہونے، حکومت کی دخلاندازی اور حکمران جماعت کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ خود سپریم کورٹ نے بھی کمیشن کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔
ایسے میں انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار (جنہیں مودی اور شاہ کے قریبی سمجھا جاتا ہے) کی منمانی اور انتظامی خامیوں کو سامنے لا کر ان الزامات کی تصدیق کر دی ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ الیکشن کمیشن بطور ادارہ کام نہیں کر رہا بلکہ صرف ایک شخص اپنی مرضی سے اسے چلا رہا ہے۔ اس رپورٹ نے الیکشن کمیشن کی ساکھ پر بڑے سوال کھڑے کر دیے ہیں اور یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ خود مختار ادارہ کہیں اور سے چلایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے اہم انکشافات
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ میں کم از کم 14 بار مختلف فیصلوں پر باضابطہ اعتراض درج کرائے۔ یہ فیصلے ان کی معلومات کے بغیر الیکشن کمیشن کے نام پر کیے گئے تھے۔ اعتراضات کا تعلق ووٹروں کے نام شامل کرنے اور حذف کرنے، نئے ووٹرز کے فارم 6 میں تبدیلیوں اور انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا و سافٹ ویئر کو مرکزی بنانے سے تھا۔
ایس آئی آر (ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی) جون 2025 میں بہار سے شروع ہوئی تھی۔ اسے عام طور پر ووٹر فہرستوں کی صفائی کا معمولی عمل بتایا گیا تھا، لیکن اسے 30 ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز تک بڑھا دیا گیا۔ اس عمل میں 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج کر دیے گئے۔ اسی وجہ سے پچھلے ایک سال سے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
تین رکنی الیکشن کمیشن کے اندر بھی انہی مسائل پر بار بار سوال اٹھائے گئے۔ سندھو اور جوشی ان فیصلوں سے مطمئن نہیں تھے۔ انہوں نے 10 مہینوں میں کم از کم 14 بار ریکارڈ پر اعتراض کیا — ایک ہی دن میں چار بار — ان فیصلوں اور احکامات پر جو ان کے بقول ان کی معلومات کے بغیر لیے اور جاری کیے گئے۔ دونوں کمشنروں نے الیکشن کمیشن کے آئی ٹی سسٹم سے متعلق کام کی تقسیم میں تبدیلیوں پر کابینہ سیکرٹری ٹی وی سوماناتھن سے بھی رابطہ کیا۔
اہم اعتراضات
- تین میں سے دو الیکشن کمشنرز نے شکایت کی کہ انہیں نئے ووٹرز شامل کرنے اور نام حذف کرنے جیسے اہم اقدامات سے اندھیرے میں رکھا گیا۔
- انہوں نے فارم 6 میں کی گئی تبدیلی کو “غیر مجاز اور غیر قانونی” قرار دیا۔
- انہوں نے خبردار کیا کہ ووٹر ڈیٹا بیس تک رسائی دہلی میں مرکزی بنائی جا رہی ہے اور ریاستی حکام کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
- ووٹر سافٹ ویئر کی حفاظت پر تشویش کی وجہ سے انہوں نے کابینہ سیکرٹری سے بھی شکایت کی۔
الیکشن کمشنر سندھو نے کہا کہ کمیشن نے دو کمشنرز کی تحریری مشورے کے خلاف عمل کیا اور اسے “غیر مجاز اور غیر قانونی” قرار دیا۔ حال ہی میں جوشی اور سندھو نے الگ الگ کابینہ سیکرٹری کو خط لکھ کر کام کی تقسیم میں تبدیلیوں کی شکایت کی۔ ان تبدیلیوں نے الیکٹورل رولز کے آئی ٹی سسٹم پر نگرانی کی ایک پرت ہٹا دی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبدیلیاں ان کی معلومات کے بغیر کی گئیں اور انہوں نے انہیں منسوخ کر دیا۔
فارم 6 میں غیر قانونی تبدیلی
اس سال جولائی میں نئے ووٹر بننے کے فارم 6 میں ایک نیا سوال شامل کر دیا گیا جو پہلے کبھی نہیں پوچھا جاتا تھا۔ اس میں پوچھا گیا کہ کیا نیا ووٹر یا اس کے والدین/دادا دادی آخری ایس آئی آر کی فہرست میں موجود ہیں۔ جواب دیے بغیر فارم آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔
حالانکہ مئی میں جوشی نے فائل پر لکھا تھا کہ حکومت قواعد میں ترمیم کیے بغیر فارم 6 تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اور سندھو نے بھی اتفاق کیا۔ پھر بھی تبدیلی کر دی گئی۔ 13 اگست کو سندھو نے ریکارڈ پر لکھا کہ یہ “غیر مجاز اور غیر قانونی” ہے اور فوری طور پر ہٹانا چاہیے۔
ڈیٹا بیس کی مرکزی کاری
الیکٹورل رول میں دھاندلی کے الزامات کے خلاف کمیشن کا سب سے بڑا دفاع یہ رہا ہے کہ فہرست کی تیاری غیر مرکزی ہوتی ہے۔ ہر حلقے کی فہرست اس کا الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) تیار اور کنٹرول کرتا ہے، جو عام طور پر سب ڈویژنل مجسٹریٹ ہوتا ہے۔ یہ فہرست سافٹ ویئر ای آر او نیٹ اور بعد میں ای سی آئی نیٹ پر موجود ہوتی ہے۔
پچھلے ایک سال میں دونوں کمشنرز نے بار بار پوچھا کہ کیا ای آر اوز کی اس فہرست تک اب بھی رسائی ہے، کیونکہ کئی جگہوں سے شکایات آئی تھیں کہ ای آر اوز کی رسائی نہیں ہو پا رہی۔
مئی میں جب ریاستوں میں ایس آئی آر تیزی سے چل رہا تھا، جوشی نے “الیکٹورل رول ڈیٹا بیس کی بتدریج مرکزی کاری” پر اعتراض کیا اور آڈٹ کی تجویز دی تاکہ یقینی بنایا جائے کہ صرف قانونی حکام ہی ڈیٹا بیس میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ اگست میں سندھو نے بھی یہی کہا کہ ریاستی الیکشن حکام بتا رہے ہیں کہ انہیں ای آر او نیٹ پورٹل تک مناسب اور مکمل رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ڈائریکٹر جنرل سیما کھنہ کو قانونی اختیار نہیں ہے کہ وہ قانونی افسران کی رسائی محدود کریں۔ دونوں کمشنرز کا کہنا تھا کہ کمیشن کا پرانا دفاع اس کی اپنی آئی ٹی ڈویژن کے اندر سے توڑا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال کا معاملہ
مغربی بنگال میں ایس آئی آر سب سے زیادہ متنازعہ رہا۔ 294 سیٹوں میں سے 49 میں حذف شدہ نام جیت کے مارجن سے زیادہ تھے۔ ان میں 26 سیٹیں بی جے پی نے اور 21 ٹی ایم سی نے جیتیں۔
نام خارج کرنے کے طریقے پر سپریم کورٹ نے فروری 2026 میں مداخلت کی اور آخری مرحلہ کمیشن کے ہاتھ سے نکال کر عدالتی افسران کے سپرد کر دیا۔ 60 لاکھ ووٹرز “منطقی تضادات” کی وجہ سے نشان زد تھے۔ ان میں سے 27 لاکھ ووٹروں کو بعد میں کمیشن نے حذف کر دیا۔ عدالت نے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججز کے ٹربیونلز کو اپیلیں سننے کا حکم دیا۔
پچھلے ہفتے کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ 38 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں: 22.21 لاکھ حذف شدہ ووٹرز نے بحالی کے لیے اعتراض کیا ہے، جبکہ 16.10 لاکھ ووٹروں کے خلاف خود الیکشن کمیشن کے افسران نے درخواستیں دائر کی ہیں۔ مگر کمیشن نے واضح نہیں کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے خلاف اپیل کرنے والے کون سے افسران ہیں۔
سندھو نے یہی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کمیشن ان ووٹرز کے خلاف اپیل کیسے کر رہا ہے جنہیں عدالتی افسران نے درست قرار دیا تھا۔ اگست میں انہوں نے افسران سے پوچھا: “ای سی آئی کی طرف سے یہ اپیلیں دائر کرنے کا اختیار کس کو تھا؟” اور “ان اپیلوں کو واقعی کس نے دائر کیا؟” انہوں نے لکھا کہ نہ انہیں، نہ جوشی کو، نہ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔
گوا میں 97 اہل ووٹرز باہر
وہی مرکزی کاری جسے جوشی اور سندھو نے بار بار نشان زد کیا تھا، گوا میں کچھ اہل ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کر گئی۔ 29 جنوری کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ “منطقی تضادات” والے ووٹرز کو دستاویزات جمع کرانے اور سنے جانے کا موقع دیا جائے۔
گوا کے ای آر اوز نے کیسز سنے اور 97 ووٹرز کو اہل پایا۔ لیکن سافٹ ویئر میں اس فیصلے کو ریکارڈ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ 11 سے 17 فروری تک گوا کے چیف الیکٹورل آفیسر نے آٹھ بار سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر گیانیش بھارتی کو لکھا اور رول بیک آپشن مانگا۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی کو بھی کاپی بھیجی گئی۔ لیکن جواب نہیں ملا۔ سہولت وقت پر فعال نہیں ہوئی اور 97 ووٹرز حتمی فہرست سے باہر رہ گئے۔ اگرچہ تعداد چھوٹی ہے، لیکن الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ ہر درست ووٹ کو شمار کرے۔
قانون کیا کہتا ہے؟
کمیشن آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس میں چیف الیکشن کمشنر اور دو الیکشن کمشنرز برابر درجے کے ہوتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اول الاقرین ہے، لیکن تنہا فیصلہ نہیں کر سکتا۔
2023 کے ایکٹ کے سیکشن 18 کے مطابق کمیشن کا کام جتنا ممکن ہو متفقہ طور پر ہونا چاہیے۔ اگر اختلاف ہو تو اکثریت کی رائے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ کام کی تقسیم بھی صرف متفقہ فیصلے سے طے کی جا سکتی ہے۔
دونوں کمشنرز نے ان دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے افسران کو یاد دلایا۔ 16 اپریل کو سندھو نے کہا کہ بہت سی مراسلات ای سی آئی کے نام سے بغیر کمیشن کی منظوری کے جاری ہو رہی ہیں، اور اب سے ہر مراسلہ منظوری کے ساتھ ہونی چاہیے۔ آٹھ دن بعد جوشی نے بھی یہی بات دہرائی۔
الیکشن کمیشن کا ردعمل
تحقیقاتی رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلا ردعمل سامنے آیا۔ نامعلوم افسران نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ دونوں کمشنروں نے کئی معاملات پر سوالات اور اعتراضات اٹھائے تھے، لیکن حتمی فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی منظوری سے ہوئے۔
تاہم اس وضاحت میں اس بنیادی دعوے کی تردید نہیں کی گئی کہ دونوں کمشنروں نے دس ماہ میں کئی بار اعتراض درج کرائے تھے۔
اپوزیشن کا ردعمل
- کانگریس جنرل سیکرٹری جے رام رمیش نے کہا کہ رہنما ابھیشیک سنگھوی اس رپورٹ کے اہم انکشافات پر میڈیا سے بات کریں گے۔
- گورو گوگوئی نے 2023 کے قانون پر سوال اٹھایا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو تحفظ حاصل ہے، اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے کی بات کی۔
- ترنمول کانگریس کی ساگریکا گھوش نے کہا کہ ایس آئی آر چیف الیکشن کمشنر کے تحت “ون مین شو” بن گیا ہے۔
- سی پی ایم کے جان برٹاس نے پارلیمنٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی۔
- شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راؤت اور عام آدمی پارٹی کے سوربھ بھاردواج نے بھی سخت تنقید کی اور اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ اسے سیاسی بحث کا مرکزی مسئلہ بنایا جائے۔
