کلکتہ : انصاف نیوزنیٹ ورک
مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی کے دوران دائر اپیلوں کے تصفیے کی رفتار پر ایک بار پھر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ ایس آئی آر کے تحت ٹربیونلز کے سامنے دائر کی گئی تقریباً38.2لاکھ اپیلوں میں سے اب تک صرف ایک لاکھ اپیلوں پر فیصلہ کیا جا سکا ہے، جو کل اپیلوں کا محض 2.6فیصد بنتا ہے۔
یہ اپیلیں انتخابی فہرست میں نام شامل کرنے اور نام خارج کرنے، دونوں سے متعلق ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں ان دونوں زمروں کی مکمل الگ الگ تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔
38.2لاکھ اپیلوں میں 31 لاکھ ناموں کے اندراج کے خلاف
مگر حیران کن یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ ٹربیونلز کے سامنے موجود تقریباً38.2لاکھ اپیلوں میں سے 7 لاکھ اپیلیں ان ووٹرز نے دائر کئے ہیں جن کے نام انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 31 لاکھ اپیلیں نام کی شمولیت کے خلاف ہے۔جسے الیکشن کمیشن یا پھر کسی تیسرے فریق نے دائر کئے ہیں
مغربی بنگال کانگریس کے رہنما پرسون جیت بوس کی جانب سے دائر درخواست میں پیش ہونے والے وکیل گوپال شنکرنارائنن نے عدالت کو بتایا کہ ناموں کے اندراج کے خلاف دائر بیشتر اپیلیں الیکشن کمیشن اور انفرادی اعتراض کنندگان کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔وکیل نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ جن افراد کے نام انتخابی فہرست سے خارج ہوئے ہیں، ان کی اپیلوں کو ترجیح دی جائے، تاکہ حقیقی ووٹرز کو اپنا حق استعمال کرنے کا موقع مل سکے۔
فیصلہ شدہ مقدمات میں 90 فیصد سے زائد ووٹرز کو راحت
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت تک تقریباً 83 ہزار اپیلوں کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔ ان میں سے 75 ہزار سے زائد مقدمات میں ٹربیونلز نے ووٹرز کو انتخابی فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دی۔اس طرح فیصلہ شدہ ان اپیلوں میں 90 فیصد سے زائد فیصلے ووٹرز کے حق میں آئے۔وکیل گوپال شنکرنارائنن نے اسی ریکارڈ کی بنیاد پر دلیل دی کہ خارج کیے گئے ووٹرز کی اپیلوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ اب تک کے فیصلوں میں بڑی تعداد میں ووٹرز کو انتخابی فہرست میں دوبارہ شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔انہوں نے خاص طور پر کلکتہ اور ہوڑہ سے متعلق اپیلوں کو ترجیح دینے کی تجویز بھی دی، کیونکہ ان دونوں شہروں میں دسمبر میں بلدیاتی انتخابات ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
17 جولائی کو سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما پرسینجیت بوس کی درخواست پر الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ زیر التوا اپیلوں اور انتخابی فہرست میں کیے گئے اندراج و اخراج سے متعلق تفصیلی جواب داخل کرے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ وہ اپنے حلف نامے میں یہ واضح کرے کہ کتنی اپیلیں انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے افراد نے دائر کی ہیں۔کتنی اپیلیں نئے ناموں کے اندراج کے خلاف دائر ہوئی ہیں۔ ان اپیلوں پر اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔* اور کتنی اپیلیں ابھی زیر التوا ہیں۔تاہم الیکشن کمیشن کے حلف نامے میں ناموں کے اخراج کے خلاف اور ناموں کے اندراج کے خلاف دائر اپیلوں کی مکمل الگ الگ تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 17 دسمبر 2025 کو انتخابی فہرست کا مسودہ شائع ہونے سے 7 اگست 2026 تک ووٹر رجسٹریشن کے تقریباً 34.1لاکھ فارم جمع کرائے گئے۔ان میں پہلی مرتبہ ووٹر بننے والے افراد کے ساتھ وہ افراد بھی شامل تھے جن کے نام انتخابی فہرست کے مسودے سے خارج کر دیے گئے تھے۔ مسودے کے مرحلے میں تقریباً 60 لاکھ نام خارج کیے گئے تھے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل اسمبلی انتخابات سے قبل کیا گیا تھا۔ فروری میں شائع ہونے والی حتمی انتخابی فہرست سے ابتدائی طور پر 61 لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام خارج کیے گئے تھے۔اس کے بعد ضمنی فہرستوں اور تقریباً 60 لاکھ مشکوک یا زیر التوا معاملات کے تصفیے کا عمل جاری رہا۔6 اپریل تک تقریباً 91 لاکھ ووٹرز انتخابی فہرست سے خارج کیے جا چکے تھے۔ یہ تعداد ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 11.9فیصدتھی۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے کے بعد سے یہ خدشات بھی ظاہر کیے جاتے رہے ہیں کہ نظرثانی کے دوران حقیقی ووٹرز کے نام بھی انتخابی فہرست سے خارج ہو سکتے ہیں اور اس کا اثر انتخابی عمل پر پڑ سکتا ہے۔
موجودہ اعداد و شمار میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جہاں ٹربیونلز کے سامنے 38.2لاکھ اپیلیںزیر التوا ہیں، وہیں اب تک ان میں سے صرف2.6فیصدپر فیصلہ ہو سکا ہے۔ دوسری جانب جن تقریباً 83 ہزار اپیلوں کا فیصلہ ہوا، ان میں 75 ہزار سے زائد معاملات میں ووٹرز کو فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی۔اب سپریم کورٹ کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ زیر التوا اپیلوں، خصوصاً انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے افراد کی درخواستوں کا کس رفتار سے تصفیہ کیا جاتا ہے اور آیا الیکشن کمیشن آئندہ کارروائی میں ان اپیلوں کی الگ الگ تفصیلات اور تازہ اعداد و شمار عدالت کے سامنے پیش کرتا ہے۔
