الہ آباد:
الہ آبادہائی کورٹ نے ایک پرائیویٹ سی بی ایس ای اسکول کی گیارہویں جماعت کی مسلم طالبہ کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں اسکول کے مقررہ یونیفارم کے ساتھ حجاب (سر ڈھانپنے کا کپڑا) پہننے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو نظم و ضبط، مساوات اور ادارتی شناخت برقرار رکھنے کے لیے یونیفارم کا ضابطہ نافذ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندراجیت شکلا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئےکہا کہ اسکول یونیفارم کا مقصد طلباء کے درمیان مساوات کو فروغ دینا، نظم و ضبط قائم کرنا اور کلاس روم میں کسی بھی قسم کے امتیاز کو ختم کرنا ہے۔ یونیفارم کا ضابطہ تمام طلباء پر یکساں لاگو ہوتا ہے، جس سے ایک مذہبی طور پر غیر جانبدارانہ ماحول قائم ہوتا ہے۔
بنچ نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار کی طرف سے ایسا کوئی مستند مذہبی متن، مواد یا حقیقت پر مبنی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ کلاس روم کے اندر حجاب پہننا اسلام میں ایک لازمی مذہبی عمل (Essential Religious Practice) ہے۔عدالت کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں تھا جو یہ دکھائے کہ اسکول میں حجاب نہ پہننے کی صورت میں طالبہ کو اس کے مذہب سے خارج کر دیا جائے گا یا اس کے بنیادی ایمان کی نوعیت تبدیل ہو جائے گی۔
ہائی کورٹ نے آئینی عدالتوں کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ کی پاسداری کسی طالب علم کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی نہیں ہے، بشرطیکہ وہ ضابطہ بغیر کسی تفریق کے تمام طلباء کے لیے یکساں ہو۔