مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں اور دلتوں کے تحفظ کا حوالہ؛ آر ایس ایس سربراہ کے دورۂ کینیڈا پر قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے خدشات کا اظہار
ٹورنٹو: کینیڈا کی 40 سے زائد سول سوسائٹی، انسانی حقوق، مزدور اور مذہبی تنظیموں نے ملک کے وزیرِ عوامی تحفظ گیری آننداسنگری سے مطالبہ کیا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ اطلاعات کے مطابق موہن بھاگوت 31 اگست سے یکم ستمبر تک کینیڈا کا دورہ کرنے والے ہیں۔
تنظیموں کے اتحاد نے کینیڈا کے وزیرِ عوامی تحفظ گیری آننداسنگری کو ارسال کردہ ایک خط میں الزام عائد کیا ہے کہ بھاگوت کا مجوزہ دورہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔ خط میں آر ایس ایس کے مبینہ مذہبی اکثریت پسندی، دھمکی آمیز سرگرمیوں اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ ڈالنے کے مبینہ روابط کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ان تنظیموں نے کینیڈین وزراء کو ایک تفصیلی بریفنگ پیپر بھی پیش کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کینیڈا کے ان قوانین کے تحت موہن بھاگوت کے داخلے کا جائزہ لیا جائے جو کسی فرد کو ملک میں داخلے سے روکنے کے لیے ناقابلِ قبولیت سے متعلق ہیں۔
تنظیموں نے خاص طور پر آر ایس ایس سے وابستہ نیٹ ورکس اور بیرونِ ملک موجود کارکنوں، دانشوروں اور اقلیتی برادریوں کے ارکان کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے درمیان روابط کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔
اس اتحاد میں کینیڈین فورم فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی اِن انڈیا، کینیڈین کونسل آف انڈین مسلمز، کینیڈینز فار انڈین ڈیموکریسی، ساؤتھ ایشین دلت آدیواسی نیٹ ورک، ورلڈ سکھ آرگنائزیشن، کینیڈین کونسل آف مسلم ویمن، انڈیپنڈنٹ جیوش وائسز کینیڈا، جسٹ پیس ایڈووکیٹس، ساؤتھ ایشین ویمنز اینڈ امیگرنٹس سروسز، فیڈریشن ڈیس فیمز ڈو کیوبیک، ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل مشن، ٹورنٹو ایسٹ اینٹی ہیٹ موبلائزیشن اور ایشین کینیڈین لیبر الائنس سمیت دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
ان تنظیموں نے کہا ہے:
’’وزیر آننداسنگری کو ہماری برادریوں کو دائیں بازو کی انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور بیرونی دباؤ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کینیڈین قانون نافذ کرنا چاہیے۔‘‘
تنظیموں نے مزید کہا:
’’ایک پرتشدد نیم فوجی نیٹ ورک کے سربراہ کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت دینا مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں اور دلتوں سمیت کمزور اقلیتی برادریوں کے لیے خطرہ ہے اور کینیڈین چارٹر کے حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘
تنظیموں کا یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب موہن بھاگوت کینیڈا کے اپنے پہلے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آر ایس ایس سربراہ امریکہ کے دورے کے بعد 31 اگست کو کینیڈا پہنچیں گے۔ یہ دورہ آر ایس ایس کی عالمی سطح پر اپنی سرگرمیوں اور روابط کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
موہن بھاگوت کون ہیں؟
75 سالہ موہن بھاگوت 2009 سے آر ایس ایس کے سربراہ، یعنی سرسنگھ چالک ہیں۔ انہوں نے تنظیم میں مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے ترقی کی اور اس کے سرکاریہ واہ یعنی جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
مارچ 2009 میں انہوں نے کے. ایس. سدرشن کے بعد آر ایس ایس کی سربراہی سنبھالی۔
اگرچہ آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی اور سماجی تنظیم قرار دیتی ہے، تاہم موہن بھاگوت تنظیم کے سب سے طاقتور عہدے پر فائز ہیں اور انہیں ہندوستان کی ہندو قوم پرست تحریک کے سب سے بااثر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آر ایس ایس کے نظریاتی اور تنظیمی روابط طویل عرصے سے سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں کے ساتھ رہے ہیں۔ سنگھ پریوار ہندو قوم پرست تنظیموں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے، جس میں بی جے پی بھی شامل ہے، اگرچہ آر ایس ایس خود ایک سیاسی جماعت نہیں ہے۔
آر ایس ایس کو بھارت میں تین مرتبہ حکومتی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ پہلی مرتبہ 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد، دوسری مرتبہ 1975 میں ایمرجنسی کے دوران اور تیسری مرتبہ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد اس پر پابندی عائد کی گئی۔ تاہم بعد میں یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں۔
اقلیتوں اور بیرونِ ملک آباد برادریوں کے حوالے سے خدشات
کینیڈین تنظیموں کی تشویش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال پر متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ کمیشن نے آر ایس ایس سمیت ہندو قوم پرست تنظیموں اور بی جے پی کی زیرِ قیادت سیاسی نظام کے درمیان تعلقات کا بھی جائزہ لیا ہے۔
2025 کی اپنی ایک رپورٹ میں یو ایس سی آئی آر ایف نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال میں ہندو قوم پرست تنظیموں، بالخصوص آر ایس ایس کے کردار کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے بیرونِ ملک مذہبی اقلیتوں، کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو مبینہ طور پر دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔
2023 میں کمیشن نے خصوصی طور پر بھارت کی جانب سے مذہبی اقلیتوں اور بیرونِ ملک ان کے حامیوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے حوالے سے تشویش کا ذکر کیا تھا۔
