کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک عوامی مفاد کی عرضی (PIL) کی سماعت کے دوران زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مدرسوں میں ‘وندے ماترم’ کے تمام چھ بند گائے جائیں تو “آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا”۔ یہ عرضی مغربی بنگال حکومت کے اس ہدایت نامے کو چیلنج کرتی ہے، جس کے تحت مدرسوں میں قومی گیت کے تمام چھ بند گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
انصاف نیوز نیٹ ورک
کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک عوامی مفاد کی عرضی (PIL) کی سماعت کے دوران زبانی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مدرسوں میں ‘وندے ماترم’ کے تمام چھ بند گائے جائیں تو “آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا”۔ یہ عرضی سورو دتہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جبکہ عرضی گزاروں کی طرف سے سینئر وکیل بکاس رنجن بھٹاچاریہ عدالت میں پیش ہوئے۔
عرضی گزاروں کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس نے کہا، “آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ اگر آج مجھے کوئی ایسا قول پڑھنے کے لیے کہا جائے جو میرے مذہب سے تعلق نہیں رکھتا، تو کیا ہو جائے گا؟ کیا میں اپنے مذہب سے خارج ہو جاؤں گا؟”
دیگر مذہبی برادریوں کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ “ہزاروں عیسائی اسکول ایسے ہیں جہاں تمام طلبہ کو خدا سے دعا کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ کیا مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ یہ سوال کرتے ہیں کہ انہیں ایسی دعا کیوں پڑھنی پڑ رہی ہے جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے؟”
اس عرضی میں مغربی بنگال حکومت کے اس سرکولر کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت ریاست کے مدرسوں میں اسمبلی کے دوران ‘وندے ماترم’ کے تمام چھ بند گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
عرضی گزاروں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ‘وندے ماترم’ بھارت کا قومی گیت ہے، لیکن اسے قومی ترانے جیسا آئینی درجہ حاصل نہیں، اس لیے اسے لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سینئر وکیل بکاس رنجن بھٹاچاریہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ریاست مدرسوں کے طلبہ کو قومی گیت گانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ اس پر بنچ نے سوال کیا کہ کیا اس سرکولر کی مبینہ خلاف ورزی پر کسی مدرسے کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی کی گئی ہے؟
عدالت نے کہا، “آپ یہ معاملہ ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے ہمارے سامنے لائے ہیں، لیکن کیا اس سرکولر پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کسی ادارے کے خلاف کوئی منفی یا تعزیری کارروائی کی گئی ہے؟”
جب عرضی گزاروں نے جواب دیا کہ حکام نے ابھی تک اس حکم پر سختی سے عمل درآمد نہیں کرایا، تو بنچ نے کہا، “صرف اسی صورت میں آپ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اسے لازمی بنایا گیا ہے جب اس کی خلاف ورزی پر کسی کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کیا اب تک کسی کو اس کی وجہ سے کوئی نقصان اٹھانا پڑا ہے؟”
عدالت نے ایک بار پھر عیسائی تعلیمی اداروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ برسوں سے اسکول کی دعاؤں میں بغیر کسی تنازع کے شریک ہوتے رہے ہیں۔
ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل دھیرج کمار ترویدی نے حکومت کا مؤقف ریکارڈ پر لانے کے لیے حلف نامہ داخل کرنے کی مہلت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ عرضی گزار محض خدشات کی بنیاد پر عدالت سے ریلیف مانگ رہے ہیں، جبکہ اب تک کسی کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
اس مقدمے میں پیش ہونے والے سینئر وکیل کلیان بنرجی نے مؤقف اختیار کیا کہ ‘وندے ماترم’ ایک متنازع مسئلہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “گزشتہ سال جولائی میں لوک سبھا میں ‘وندے ماترم’ پر تقریباً 12 گھنٹے بحث ہوئی تھی۔ یہ ایک نہایت متنازع معاملہ تھا، لیکن آخرکار پارلیمنٹ اس سلسلے میں کوئی قرارداد منظور نہیں کر سکی۔ جب پارلیمنٹ ہی کوئی قرارداد منظور نہیں کر سکی تو پھر اسے اس انداز میں نافذ کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟”
ریاست کو اپنا حلف نامہ داخل کرنے کا وقت دیتے ہوئے عدالت نے سماعت ملتوی کر دی۔
‘وندے ماترم’ پر تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے، خصوصاً اس کے آخری بندوں پر، جن میں وطن کو ہندو دیویوں درگا، لکشمی اور سرسوتی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اکتوبر 1937 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت ‘وندے ماترم’ کے صرف پہلے دو بندوں کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔
سال 2026 کے اوائل میں مرکزی حکومت نے ہدایت جاری کی کہ سرکاری تقریبات میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ کے تمام چھ بند گائے جائیں۔
اس کے بعد مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے ریاست بھر کے تمام مدرسوں میں اسمبلی کے دوران ‘وندے ماترم’ کے تمام چھ بند گانا لازمی قرار دیا۔ مسلم تنظیموں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور اپنے مذہبی عقائد کے منافی قرار دیا۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف بی جے پی حکومتیں تعلیمی اداروں میں ‘وندے ماترم’ کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور ہندوتوا تنظیمیں اقلیتی تعلیمی اداروں، خصوصاً مدرسوں، پر اکثریتی ثقافتی علامات مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ‘وندے ماترم’ کو لازمی قرار دینا بہت سے مسلمانوں کے مذہبی اعتراضات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
