44 بچوں اور 37 خواتین سمیت 112 لاشیں ملبے سے برآمد، ہزاروں فلسطینی اشکبار آنکھوں کے ساتھ جنازے میں شریک
غزہ سٹی:
غزہ شہر میں منگل کے روز ہزاروں فلسطینیوں نے حسینہ اور ابو شریعہ خاندانوں کے 112 افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔ یہ تمام افراد اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوئے تھے اور ان کی لاشیں حال ہی میں تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے سے نکالی گئی تھیں۔
جاں بحق افراد میں بچے، خواتین، مرد اور بزرگ شامل تھے۔ فلسطینی پرچموں میں لپٹی لاشوں کو غزہ شہر کے الصبرہ محلے میں تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں کے درمیان قطاروں میں رکھا گیا، جس کے بعد جنازے کا جلوس شیخ شعبان قبرستان کی جانب روانہ ہوا۔
جنازے کے دوران غم و اندوہ کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بچے کفنوں پر پھول رکھ رہے تھے جبکہ لواحقین اپنے پیاروں کو الوداع کہتے ہوئے اشکبار تھے۔\

308 افراد شہید ہو چکے ہیں
جنازے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے یوسف ابو شریعہ نے بتایا کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں کے دوران حسینہ اور ابو شریعہ خاندانوں کے مجموعی طور پر 308 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔انہوں نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا (WAFA)کو بتایا کہ منگل کو سپردِ خاک کیے جانے والوں میں نومولود بچے، مائیں، باپ، نوجوان اور بزرگ شامل تھے۔ان کے بقول:میزائلوں نے کسی کو نہیں بخشا۔
فلسطینی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی تدفی
خاندان کے نمائندے ڈاکٹر جادو ابو شریعہ نے اس تقریب کو معاصر فلسطینی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی تدفین قرار دیا۔خاندان کے بزرگ علی ابو شریعہ کے مطابق 112 مقتولین میں 44 بچے۔ 37 خواتین۔ 23 بزرگ اور 7 معذور افرادشامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ کبھی دونوں خاندانوں کا مسکن تھا، لیکن اسرائیلی فضائی حملوں میں ان کے گھر تباہ ہوگئے اور خاندان کے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

بار بار نشانہ بننے والے خاندان
علی ابو شریعہ کے مطابق خاندان کو جنگ کے ابتدائی دنوں ہی سے مسلسل فضائی حملوں کا سامنا رہا۔20 اکتوبر 2023 کو خاندان کے پانچ منزلہ مکان پر حملہ کیا گیا جس میں 14 افراد جاں بحق ہوئے۔سب سے ہلاکت خیز حملہ 22 نومبر 2023 کو ہوا، جب الصبرہ کے ایک رہائشی بلاک پر شدید بمباری کی گئی جہاں خاندان کے تقریباً 300 افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس حملے میں درجنوں افراد مارے گئے۔اس وقت 70 افراد کو دفن کر دیا گیا تھا، تاہم کئی لاشیں ملبے تلے دب گئی تھیں جنہیں حال ہی میں نکالا جا سکا۔علی ابو شریعہ نے بتایا کہ بعد ازاں بھی خاندان کو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
مئی 2024 میں ابو سالم ابو شریعہ عمارت پر حملے میں 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
اگست 2025 میں غزہ شہر سے نقل مکانی کرنے والے خاندان کے افراد پر حملے میں 8 افراد، جن میں بچے بھی شامل تھے، مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں معروف تاجر ابراہیم الحسینہ اور اسماعیل الحسینہ بھی شامل تھے، جو تعمیراتی، جائیداد اور مالیاتی کاروبار سے وابستہ تھے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری اور غیر ملکی شہریت رکھنے والے خاندان کے افراد بھی ان حملوں کا شکار ہوئے۔
درجنوں افراد اب بھی لاپتا
علی ابو شریعہ کے مطابق خاندان اب تک اپنے 267 افراد کو دفن کر چکا ہے جبکہ 41 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ان کی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں یا شدید بمباری کے باعث ان کے آثار بکھر چکے ہیں۔طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اب تک 2 2067فلسطینی خاندان مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور ان خاندانوں کے8 ,858افراد مارے گئے، جن میں کوئی زندہ نہیں بچا۔

جنازے میں شریک عبدالرحمن ابو حصیرہ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے تقریباً 500 افراد غزہ شہر میں مختلف اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 4 نومبر 2023 کو ان کے گھر پر ہونے والے حملے میں ان کے والدین، چار بہن بھائیوں اور خاندان کے 45 دیگر افراد کی جان چلی گئی، جبکہ وہ واحد زندہ بچنے والے فرد تھے۔
ہلاکتوں کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز
طبی ذرائع کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں میں **73 ہزار سے زائد فلسطینی** جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ دسیوں ہزار افراد زخمی یا لاپتا ہیں۔ غزہ میں بمباری، بھوک، محاصرے اور وسیع پیمانے پر تباہی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
