17 برس تک جاری رہنے والی تحقیقات میں لبراہن کمیشن نے بابری مسجد کی شہادت کو اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ آر ایس ایس، بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں کی منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا تھا۔
انصاف نیوز نیٹ ورک
نئی دہلی:
بابری مسجد انہدام کی تحقیقات کرنے والے تاریخی لبراہن کمیشن کے سربراہ اور آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس منموہن سنگھ (ایم ایس) لبراہن 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کے ساتھ ہندوستانی عدالتی اور سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوگیا ہے۔
جسٹس لبراہن کو ملک بھر میں سب سے زیادہ اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، جس نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کو نہ تو اچانک پیش آنے والا واقعہ قرار دیا اور نہ ہی ہجوم کے بے قابو ردِعمل کا نتیجہ، بلکہ ایک ایسی کارروائی بتایا جس کے پیچھے طویل منصوبہ بندی، منظم تیاری اور مختلف ہندوتوا تنظیموں کی شمولیت تھی۔
مرکزی حکومت نے بابری مسجد کی شہادت کے صرف دس دن بعد، 16 دسمبر 1992 کو لبراہن کمیشن تشکیل دیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کمیشن کو تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی، لیکن تحقیقات کا عمل 17 برس تک جاری رہا۔ اس دوران کمیشن کو 48 مرتبہ توسیع دی گئی اور تقریباً 100 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے، جس کی وجہ سے یہ آزاد ہندوستان کے طویل ترین تحقیقاتی کمیشنوں میں شمار ہوا۔
30 جون 2009 کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کمیشن نے واضح طور پر کہا کہ بابری مسجد کا انہدام ’’انتہائی باریک بینی سے تیار کیے گئے منصوبے‘‘ کا نتیجہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، بجرنگ دل اور شیو سینا کے کارکنوں اور رہنماؤں نے اس عمل میں براہِ راست یا بالواسطہ کردار ادا کیا۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں متعدد ایسے شواہد کا حوالہ دیا جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ انہدام کی کارروائی پہلے سے طے شدہ تھی۔ ان شواہد میں کارسیوکوں کی منظم نقل و حرکت، انہدامی آلات کی دستیابی، مورتیوں اور چندہ بکس کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کرنا اور انہدام کے فوراً بعد عارضی مندر کی تعمیر شامل تھی۔
رپورٹ میں اس وقت کے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ، آر ایس ایس کے سربراہ کے ایس سدرشن، وی ایچ پی کے اشوک سنگھل، بی جے پی رہنما ونئے کٹیار اور دیگر سرکردہ شخصیات کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت کئی سینئر رہنماؤں کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
اگرچہ 2020 میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے بابری مسجد انہدام مقدمے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا، تاہم جسٹس لبراہن اپنے مؤقف اور رپورٹ کے نتائج پر قائم رہے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر کہا کہ کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے شواہد واضح طور پر ایک منظم سازش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایک ممتاز قانونی شخصیت
11 نومبر 1938 کو موجودہ چندی گڑھ کے قریب پیدا ہونے والے جسٹس لبراہن ممتاز قانون دان چودھری بختاور سنگھ کے فرزند تھے۔ انہوں نے 1962 میں وکالت کا آغاز کیا اور بعد ازاں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں نمایاں قانونی خدمات انجام دیں۔
اپنے کیریئر کے دوران وہ ہریانہ کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 1987 میں انہیں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ بعد میں وہ مدراس ہائی کورٹ اور پھر آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے، جہاں سے وہ ریٹائر ہوئے۔
قانونی حلقوں میں انہیں ایک بے باک، خودمختار اور اصول پسند جج کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنے عدالتی اور عوامی کردار میں آئینی اقدار اور قانونی اصولوں پر ہمیشہ زور دیا۔
خراجِ عقیدت
این سی پی (شرد پوار) کے ترجمان رویکانت وارپے نے جسٹس لبراہن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ لبراہن کمیشن کی رپورٹ ہندوستانی سیاست اور جمہوریت کی تاریخ کی اہم ترین دستاویزات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق، عدالتی فیصلوں سے قطع نظر یہ رپورٹ ہندوستان میں سیکولرازم، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار پر جاری بحث کا ایک اہم حوالہ بنی رہے گی۔
جسٹس ایم ایس لبراہن کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بابری مسجد، رام مندر اور ہندوستانی سیاست کے باہمی تعلق پر بحث آج بھی جاری ہے۔ ان کی سربراہی میں تیار کی گئی رپورٹ آئندہ بھی اس تاریخی واقعے کے مطالعے اور تجزیے میں ایک اہم دستاویز کے طور پر دیکھی جاتی رہے گی۔
