یہ تحریک اس سوال کو پھر سے زندہ کرتی ہے کہ کیا مسلسل احتیاط نے ہندوستانی مسلمانوں کو جمہوری سیاست میں فعال شراکت سے دور کر دیا ہے، یا اب نئی نسل اس روایت کو بدلنے کے لیے تیار ہے؟
رشید احمد
اس سال کے آغاز میں، میں نے’’دی ملی گزٹ‘‘ میں لکھا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ہر نئی تحریک کا جائزہ صرف فوری مسلم مفادات کے تناظر میں نہیں لینا چاہیے۔ جمہوریتوں کا دفاع صرف اس وقت نہیں کیا جاتا جب ہمارے اپنے حقوق خطرے میں ہوں، بلکہ اس وقت بھی جب شہری اقتدار کو جوابدہ بنانے پر اصرار کریں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران میں نے کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کو تیزی سے ابھرتے دیکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے مسلمانوں کا ردِعمل بھی قریب سے دیکھا ہے، نہ صرف عام مسلمانوں کا بلکہ ان افراد اور اداروں کا بھی جنہیں برادری کی قیادت سمجھا جاتا ہے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ ایسے اچانک اور غیر معمولی مواقع پر، جہاں عام مسلمان پورے یقین اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، وہیں کئی مسلم تنظیمیں اور کمیونٹی کے رہنما ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ کچھ انتظار کی پالیسی اختیار کرتے ہیں، کچھ خامیاں تلاش کرتے ہیں، کچھ پس پردہ عزائم پر شبہ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔
یہ بدگمانی بے بنیاد نہیں۔ برسوں کی نگرانی، امتیازی قانونی کارروائیوں، میڈیا ٹرائل، فرقہ وارانہ تشدد اور ریاستی دباؤ نے مسلمانوں میں ایک فطری احتیاط پیدا کر دی ہے۔ مسلسل تلخ تجربات نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
تاہم کاکروچ جنتا پارٹی کے بارے میں یہ شبہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی و نظریاتی دائرے سے باہر بھی متعدد حلقے اس تحریک کو شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تجربہ کار مبصرین، سول سوسائٹی کے کارکنان اور سیاسی تجزیہ کار بارہا یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ یہ تحریک کہیں ’’انا تحریک‘‘کی طرح ثابت نہ ہو، جس کے بارے میں عمومی خیال ہے کہ اس نے 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی تھی۔
بعض سینئر تجزیہ کاروں کے نزدیک اس قسم کے خدشات فطری تھے۔ میں نے بھی اپنی ابتدائی رپورٹنگ میں اس تحریک کے غیر واضح نظریاتی خدوخال اور اس کے ممکنہ سیاسی استعمال پر سوالات اٹھائے تھے۔ یہ خدشات معقول تھے، لیکن ان کی موجودگی اس بات کو اور زیادہ ضروری بناتی ہے کہ باریک بینی سے جائزہ لینے اور مکمل لاتعلقی اختیار کرنے کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔
ریاستی ہراسانی
معاشرے کے بہت سے طبقات میں شک و شبہ اور عملی شمولیت ایک ساتھ چلتے ہیں۔ لوگ سوال بھی اٹھاتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود تحریکوں میں شریک بھی ہوتے ہیں۔
لیکن مسلم برادری کے بعض حلقوں میں شکوک و شبہات اکثر اس حد تک غالب آ جاتے ہیں کہ وہ اس وقت تک کسی تحریک سے دور رہتے ہیں جب تک ریاستی انتقامی کارروائی کا خطرہ کم ہوتا ہوا محسوس نہ ہو۔
اس کے برعکس عام مسلمانوں کا طرزِعمل مختلف رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق مسلمانوں نے مظاہروں میں حصہ لیا، چھوٹے تاجروں نے کھانے اور پانی کا انتظام کیا اور رضاکاروں نے مظاہرین کی ہر ممکن مدد کی۔ ان ہی میں غازی آباد کے محمد جنید بھی شامل تھے، جنہوں نے 6 جون کو جنتر منتر پر پانی تقسیم کرنا شروع کیا اور بعد میں کھانے اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی میں بھی حصہ لیا۔ ان کا تجربہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ایسی عوامی شمولیت ذاتی خطرات سے خالی نہیں ہوتی، کیونکہ ان کے بقول دہلی پولیس نے انہیں اور اتر پردیش میں ان کے اہلِ خانہ کو حراست میں لیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم تنظیموں کی نمایاں عدم موجودگی نے شاید ایک غیر متوقع فائدہ بھی پہنچایا۔ اس سے ریاست کو یہ موقع نہیں ملا کہ وہ ایک جمہوری تحریک کو فوری طور پر ہندو۔مسلم تنازع میں تبدیل کر کے اصل مطالبات سے توجہ ہٹا دیتی۔
اس کے باوجود، یہ حقیقت مستقل تنظیمی غیر حاضری کا جواز نہیں بن سکتی۔
ہر بڑی تحریک کا آغاز دشوار ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں شامل ہونے والے افراد سب سے زیادہ خطرات مول لیتے ہیں، کیونکہ وہ اس وقت قدم بڑھاتے ہیں جب کامیابی کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہوتی۔ بعد میں شامل ہونے والے بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن تاریخ عموماً انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو سب سے پہلے آگے بڑھنے کا حوصلہ کرتے ہیں۔
برادریوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔جو لوگ غیر یقینی حالات میں اپنا وقت، اپنی ساکھ اور اپنے وسائل داؤ پر لگاتے ہیں، وہ ناکامی یا انتقامی کارروائی کا سامنا بھی کر سکتے ہیں، لیکن وہی مستقبل میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کا امکان بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ نتائج واضح ہونے تک انتظار کرتے رہتے ہیں، وہ خطرات تو کم اٹھاتے ہیں مگر تحریک کی سمت متعین کرنے کا موقع بھی کھو دیتے ہیں۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ کہیں ہماری برادری نے احتیاط کو ایک عارضی حکمتِ عملی کے بجائے مستقل طرزِعمل تو نہیں بنا لیا۔ برسوں کی ریاستی ہراسانی نے بہت سے سینئر رہنماؤں کو یہ سبق ضرور دیا کہ بقا کے لیے خود کو نمایاں ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ تاریخ اس رویے کی وضاحت ضرور کرتی ہے، مگر اسے ہمیشہ کے لیے برادری کی شناخت نہیں بننا چاہیے۔
نوجوان مسلمان اب اس فرق کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے لگے ہیں۔ ان کے لیے اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ کوئی تحریک خاص طور پر ’’مسلمانوں کے بارے میں‘‘ ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا اس کا تعلق انصاف، جمہوری جوابدہی، مضبوط عوامی اداروں اور شہری آزادیوں کے فروغ سے ہے یا نہیں۔
یہ یقیناً زیادہ صحت مند سوال ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی تنقید سے بالاتر نہیں۔ نہ یہ کوئی باقاعدہ سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی ایک واضح نظریاتی منشور رکھنے والی تحریک۔ ہر تیزی سے ابھرتی تحریک کی طرح اس سے غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں، اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے اور اس کے اندر تضادات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
لیکن باریک بینی سے جائزہ لینا جمود یا لاتعلقی کا بہانہ نہیں بننا چاہیے، اور نہ ہی نظریاتی کمال کو ہمدردی اور یکجہتی کی لازمی شرط بنایا جانا چاہیے۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہر مطالبہ مکمل طور پر ان کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ہندوستان کے جمہوری مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں یا پھر ہمیشہ ایسے تماشائی بنے رہنا چاہتے ہیں جو کسی ایسے دعوت نامے کے منتظر رہیں جو شاید کبھی نہ آئے۔
جمہوریت کا دفاع
برادریاں صرف اپنا دفاع کر کے بااثر نہیں بنتیں۔ وہ اس وقت حقیقی اثر و رسوخ حاصل کرتی ہیں جب جمہوری اصولوں پر حملہ ہو اور وہ ان کے دفاع کے لیے آگے بڑھیں۔ اس کے لیے بصیرت، حوصلہ اور کبھی کبھی کامیابی یقینی ہونے سے پہلے قدم اٹھانے کی جرأت درکار ہوتی ہے۔
میں پُرامید ہوں، اس لیے نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کم ہو گئے ہیں، بلکہ اس لیے کہ نوجوان مسلمان اب تحریکوں پر ملکیت جتانے کے بجائے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے کم فکر مند دکھائی دیتے ہیں کہ کامیابی کا سہرا کس کے سر بندھے گا، اور اس بات سے زیادہ کہ کوئی قابلِ قدر مقصد کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔
اب ذمہ داری برادری کی سینئر قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ دانشمندی کا معیار صرف تجربہ نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے، ذمہ دارانہ خطرات مول لینے کی حوصلہ افزائی کرنے اور نئی نسل کو مختلف حالات میں قیادت کے لیے تیار کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
تجربہ مستقبل تک پہنچنے کا پل ہونا چاہیے، نہ کہ ایسی رکاوٹ جو نئی نسل کو اپنے عہد کے جمہوری امکانات سے اعتماد کے ساتھ جڑنے سے روک دے۔
شاید کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ وہ اس احتیاط اور خوف کے درمیان فرق واضح کرتی ہے جو کسی برادری کی حفاظت کرتا ہے، اور اس احتیاط کے درمیان جو بالآخر اسی برادری کی سیاسی و جمہوری صلاحیتوں کو محدود کر دیتا ہے۔
رشید احمد انڈین امریکن مسلم کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔
