مندر ہونے کے دعوے کو تقویت دینے کے لیے بی جے پی رہنما کا مسجد کے باہر شیو لنگ نصب کرنے کا منصوبہ
کلکتہ: انصاف نیوز نیٹ ورک
2014 کے بعد سے بی جے پی اور ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے ملک کی متعدد تاریخی مساجد کو متنازع بنا کر عدالتی کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں سے چھیننے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب اس فہرست میں مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں واقع تقریباً 650 سالہ قدیم آدینہ مسجد بھی شامل ہو گئی ہے۔
اگرچہ گزشتہ چند برسوں سے آدینہ مسجد کے حوالے سے متنازع بیانات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس مہم میں نمایاں شدت آ گئی ہے۔
ہندو دائیں بازو کی ایک تنظیم نے، بی جے پی کے ایک رہنما کی قیادت میں، مسجد کے باہر مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد اب مندر-مسجد تنازع کو مزید آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ موجودہ آدینہ مسجد دراصل ایک قدیم شیو مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔
تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ پیر کو “آدیناتھ پراتن شیو مندر” کے نام سے مسجد کے باہر ایک بڑا شیو لنگ نصب کیا جائے گا۔
مالدہ کے تاریخی شہر پانڈوا میں واقع آدینہ مسجد سلطان سکندر شاہ نے 1373ء میں تعمیر کرائی تھی۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق یہ قرونِ وسطیٰ میں پورے برصغیر کی سب سے بڑی مسجد تھی۔ تاہم، ہندو تنظیمیں اور بی جے پی دعویٰ کر رہی ہیں کہ یہ مسجد بھگوان شیو سے منسوب ایک قدیم “آدیناتھ مندر” کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔
آدیناتھ پراتن شیو مندر کے سرپرستِ اعلیٰ اور بی جے پی کے شمالی بنگال گڈ گورننس ونگ کے کنوینر کاجل گوسوامی کا کہنا ہے کہ مسجد کے اندر ہندو اور بدھ مت سے متعلق مجسمے اور نقوش موجود ہیں، جو ان کے بقول اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں پہلے مندر تھا۔
تنظیم کا دعویٰ ہے کہ مسجد میں شیو لنگ کے علاوہ ہندو اور بدھ مت کی متعدد علامتیں اور نقاشیاں موجود ہیں، اور وہ اس معاملے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ طلب کرنے کے لیے جلد کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔
گوسوامی نے کہا:
“ہمارا مقصد آدیناتھ مندر کی بحالی اور اس کے اندر شیو لنگ کی تنصیب ہے۔ اس مقصد کے لیے 298 کلومیٹر دور تارکیشور سے 3.6 فٹ بلند اور ڈیڑھ ٹن وزنی شیو لنگ لایا جا رہا ہے۔”
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا:
“ہم قانون کی مکمل پاسداری کریں گے۔ ہمارا مقصد امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا نہیں ہے۔ ہم پہلے ہی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے حکام اور پولیس کے ساتھ میٹنگ کر چکے ہیں، اور ہمیں مسجد کے احاطے سے باہر پوجا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔”
دوسری جانب، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ایک سینئر افسر نے، آدینہ مسجد کو ایک محفوظ تاریخی یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوجا کے منتظمین کے ساتھ ملاقات کی گئی ہے، تاہم یادگار کے اندر کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی یا نئی تنصیب کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا:
“مسجد کے اندر کسی قسم کی مذہبی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور اے ایس آئی بھی اپنے عملے میں اضافہ کر رہی ہے۔”
فی الحال آدینہ مسجد کے اندر نہ نماز ادا کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی دوسری مذہبی عبادت کی اجازت ہے۔
حال ہی میں مالدہ ضلع پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس سامنے آئی ہیں جن میں بعض افراد آدینہ یادگار پر جا کر پوجا اور دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
پولیس نے واضح کیا کہ آدینہ یادگار آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے زیرِ انتظام قومی اہمیت کی حامل ایک محفوظ یادگار ہے، جو قدیم یادگاریں اور آثار قدیمہ کے مقامات اور باقیات ایکٹ، 1958 ( ایکٹ) کے تحت محفوظ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ:
“محفوظ یادگار کے احاطے میں کسی بھی مذہبی رسم یا غیر مجاز سرگرمی کی اجازت نہیں ہے، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔”
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے چند ماہ قبل، 5 دسمبر 2025 کو بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن اور موجودہ ریاستی صدر شیامک بھٹاچاریہ نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا تھا۔
پارلیمنٹ میں انہوں نے کہا تھا:
“آدینہ مسجد سلطان سکندر شاہ نے 1373ء میں تعمیر کرائی تھی، لیکن یہ پہلے سے موجود ہندو اور بدھ مت کی عمارتوں کے ملبے سے بنائی گئی تھی۔ مقامی روایات اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پہلے بھگوان شیو اور بھگوان وشنو سے منسوب آدیناتھ مندر موجود تھا۔ مسجد کی تعمیر میں موجود ہندو طرزِ تعمیر اور علامتیں اس دعوے کی تصدیق کرتی ہیں۔”

انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ آدیناتھ مندر کو ہر قیمت پر محفوظ کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن اور مغربی بنگال کے سابق ریاستی صدر راہول سنہا نے اس تنازع کا موازنہ ایودھیا کے بابری مسجد تنازع سے کرتے ہوئے کہا:
“آدیناتھ مندر سے بھی کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں۔ رام مندر کی طرح اس مندر کو بھی منہدم کر کے اس پر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔”
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آدینہ مسجد میں آج بھی “ہندو دیوی دیوتاؤں کے الٹے مجسمے” دیکھے جا سکتے ہیں اور ماضی میں وہاں پوجا بھی کی جاتی تھی۔
دوسری جانب، سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری اور پولٹ بیورو کے رکن محمد سلیم نے کہا کہ:
“یہ بی جے پی کا پرانا اور آزمودہ سیاسی طریقہ ہے۔ جہاں بھی انہیں سیاسی زمین ملتی ہے، وہ پہلے مذہبی تنازع پیدا کرتے ہیں، پھر اس کے ذریعے سماج میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ آدینہ مسجد اس کی تازہ مثال ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی صرف آدینہ مسجد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ہگلی، بردوان، شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ جیسے اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔
محمد سلیم نے دہلی کے جنتر منتر پر جاری طلبہ تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“اس تحریک نے ثابت کیا ہے کہ عوامی تحریکوں کا مقصد لوگوں کو متحد کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا۔”
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی ویب سائٹ کے مطابق، آدینہ مسجد نہ صرف بنگال بلکہ پورے برصغیر میں قرونِ وسطیٰ کی سب سے بڑی مسجد تھی۔ مسجد کی پچھلی دیوار پر نصب کتبے کے مطابق اسے 1373ء میں سلطان سکندر شاہ، جو الیاس شاہ کے بیٹے تھے، نے تعمیر کرایا تھا۔
یہ مسجد تاریخی شہر پانڈوا میں واقع ہے، جو کبھی بنگال سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ 1342ء میں سلطان الیاس شاہ نے دہلی سلطنت سے آزادی کا اعلان کرنے کے بعد آزاد بنگال سلطنت کی بنیاد رکھی تھی، اور پانڈوا اس دور میں ایک اہم سیاسی، تجارتی اور ثقافتی مرکز تھا۔
آدینہ مسجد کئی برسوں سے بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے “آدیناتھ مندر” ہونے کے دعوے کے باعث تنازع کا موضوع بنتی رہی ہے۔ تاریخی اور محفوظ یادگار ہونے کی وجہ سے اس مسجد کا انتظام، تحفظ اور دیکھ بھال آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے ذمہ ہے۔
