انصاف نیوز نیٹ ورک
بشکریہ: لائیو لا
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز دہلی-این سی آر میں حالیہ ریپ کے واقعات کا ازخود نوٹس لیا، جن میں ایک پارک میں اجتماعی ریپ اور دہلی میں چلتی سلیپر بس کے اندر ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا واقعہ بھی شامل ہے۔
جسٹس جے بی پردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے قومی دارالحکومت خطے میں بار بار سامنے آنے والے جنسی جرائم کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی جوابدہی طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے حکم میں بنچ نے دہلی کے سواروپ نگر میں ایک نوعمر لڑکی کے اجتماعی ریپ اور قتل کے واقعے کا حوالہ دیا، جہاں پولیس نے ایک کھیت سے متاثرہ لڑکی کی مسخ شدہ لاش برآمد کی تھی۔
چلتی سلیپر بس میں نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس جے بی پردی والا نے کہا کہ پولیس گریٹر نوئیڈا سے دہلی تک تقریباً 47 کلومیٹر کے سفر کے دوران بس کو روکنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے کہا کہ *2012 کے نربھیا واقعے سے اس واقعے کا تکلیف دہ موازنہ کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔
عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا نربھیا واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے نظام نے کوئی بامعنی پیش رفت کی ہے یا نہیں۔
بنچ نے کہا کہ دہلی-این سی آر میں جنسی جرائم کی دیگر حالیہ رپورٹس کے ساتھ ان واقعات کو دیکھا جائے تو یہ بنیادی عوامی تحفظ کو یقینی بنانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوامی انتظامیہ کی منظم ناکامی کو نمایاں کرتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت باوقار زندگی گزارنے اور تشدد کے خوف سے آزاد رہنے کا حق، زندگی کے بنیادی حق کا لازمی حصہ ہے۔ عوامی مقامات، جن میں سڑکیں، پارک، بسیں، میٹرو اسٹیشن، سب وے اور فٹ اوور برج شامل ہیں، کو ناقص روشنی، کمزور نگرانی، گشت کی کمی اور دیگر قابلِ تدارک انتظامی خامیوں کے باعث “زیادہ خطرے والے علاقوں”میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بنچ نے واضح کیا کہ عوامی حکام اور منتخب نمائندوں کی جانب سے تشویش اور ہمدردی کا اظہار کافی نہیں ہے۔ ایسے واقعات میں کردار ادا کرنے والی انتظامی اور حفاظتی ناکامیوں کے لیے جوابدہی طے کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے کہا کہ جوابدہی کے بغیر محض ہمدردی کے اظہار سے بڑے ادارہ جاتی سوال کا جواب نہیں ملتا۔** اس سماجی برائی سے نمٹنے کے لیے ایک قابلِ پیمائش عملی ردعمل ضروری ہے، جس میں جرائم کی روک تھام، امن و امان برقرار رکھنے اور کمزور طبقات کے تحفظ کے ذمہ دار حکام کی ذمہ داری اور جوابدہی طے کی جائے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے کی مزید جانچ اور غور کے لیے ازخود نوٹس کا مقدمہدرج کرنے کی ہدایت دی۔
